مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بس ذرا چین تک.....
’’لاہور سے بنکاک چار گھنٹے،اتنی ہی دیر بنکاک میںعارضی قیام اور پھر شنگھائی تک کا سفر مزید چار گھنٹے،مجھے چین کے معروف کاروباری شہر پی دو YIWUپہنچناتھا۔YIWUسنہ2000سے پہلے ایک دیہات تھا،مگر پھر چین نے اس دیہات کو چائنہ پراڈکٹس کی ہول سیل مارکیٹ میں بدل دیا۔اس شہر کی آبادی بارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور اسے چین کا Wall Streetبھی کہا جاتا ہے۔شنگھائی سے تقریباً تین سو کلو میٹر کی دوری پر واقع یہ پہاڑی شہر دنیا بھر کے تاجروں کیلئے ایک جنت کا درجہ رکھتا ہے۔یہاں آنے والے تاجروں کو مال پسند کرنے کے بعد اپنی ضرورت کے مطابق صرف آرڈر دینا ہوتا ہے،سامان کی پیکنگ اور پھر نقل و حمل کی ساری ذمہ داری یہاں موجود بے شمار فاروڈنگ ایجنٹس پوری کرتے ہیں۔نہ کوئی دو نمبری نہ کوئی بے ایمانی۔یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے،ہر ہوٹل کے کمرے میں آپ کو جائے نماز اور چھتری ضرور نظر آئے گی۔جائے نماز اس لئے کہ ان ہوٹلوں میں مسلمانو ں کا آنا جانا رہتا ہے اور چھتری اس لئے کہ معلوم نہیں کب بارش برسنے لگے۔9/11کے بعد مڈل ایسٹ کے کاروباری لوگوں کو امریکا جاتے ہوئے جب بہت سی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا ہونے لگا تو انہوں نے اپنی تجارتی ضروریات کیلئے پی دو کا رخ کرنا شروع کر دیا۔آج اس علاقے میں عرب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔پاکستان سے یہاں آنے والوں کو بالکل بھی اجنبیت کا سامنا نہیں ہوتا،کیونکہ یہاں ہوٹلوں پر کڑاہی گوشت،سبزیاں،دال،مرغ بروسٹ،توے کی روٹی اور دودھ پتی چائے سمیت ہر وہ چیز مل جاتی ہے جو پاکستانیوں کو مرغوب ہوتی ہے۔میرے ایک دوست کئی برس سے پی دو میں قیام پذیر ہیں،میرے میزبان بھی وہی تھے،انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی برس سے گوشت نہیں کھایا۔کہنے لگے کہ یہاں گوشت بلا شبہ حلال طریقے پر تیار کیا جاتا ہے لیکن برسوں پہلے ایک روز ہوٹلوں پر گوشت فراہم کرنے والی ایک گاڑی سے تیار گوشت اترتے دیکھا۔اس فریزر نما گاڑی میں بہت سے خانے بنے ہوئے تھے،ایک خانے میں چکن اور اس کے ساتھ والے خانے میں مٹن تھا لیکن اس سے اگلے خانے میں کھال اتارے ہوئے کتوں کا ابلا ہوا گوشت بھی تھا،اور شاید باقی خانوں میں مینڈک اور اسی قبیل کے حشرات الارض بھی گوشت کی شکل میں رکھے ہوئے تھے،جس روز سے گوشت کی سپلائی کا یہ انداز دیکھا،دوبارہ کبھی گوشت کھانے کی طرف دھیان نہیں جا سکا۔‘‘میرے عزیز ترین دوست چوہدری محمد فاروق گجر اپنے دورہ چین کی روداد کچھ اس انداز سے سنا رہے تھے کہ میں خود کو ان کا شریک سفر محسوس کرنے لگا۔ چین میں اپنے پندرہ روزہ قیام کے دوران میں نے شنگھائی سے لے کر پی دو شہر تک بارہا سفر کیا۔ہر بار ہر منظر ایک نئی دلکشی کے ساتھ یادوں کا حصہ بنتا چلا گیا۔چین میں رات سات بجے ک بعد نہ تو کوئی بازار کھلا دکھائی دیتا ہے نہ محلے کی دکانیں۔ریسٹورنٹس بھی ٹھیک دس بجے بند ہو جاتے ہیں۔شنگھائی ائر پورٹ ہو یا پھر پی دو کا بس ٹرمینل،سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ ہر جگہ بآسانی دستیاب ہوتی ہے۔لیکن آپ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر نہ کرنا چاہیں تو کوئی بات نہیں،آپ کو شہر کے اندرونی علاقوں تک لے جانے کیلئے بہت سے موٹر سائیکل سوار اور گاڑیوں والے بھی مل جائیں گے۔یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو شام ڈھلے اپنے کام کاج،نوکر ی ملازمت سے گھروں کو واپس جا رہے ہوتے ہیں اور معمولی سے پیسے لے کر آپ کو آپ کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں۔ساری زندگی پاکستان میں یہی سنا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بھی بلند و بالا ہے اور نہ جانے کیوں ہمیشہ یہی بد گمانی رہی کہ شاید یہ ایک ایک طرفہ سیاسی نعرہ ہے لیکن چین جا کر اپنی اس غلط فہمی پر بہت شرمساری ہوئی۔چینیوں کو اور کچھ آتا ہو یا نہ آتا ہو،پاک چین دوستی کا نعرہ ضرور آتا ہے۔اور دلچسپ بات یہ کہ پاکستان سے دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے ہر چینی ہندوستان سے اپنی نفرت کا اظہار ضرور کرتا ہے۔انگریزی وہاں کہ لوگوں کو بہت کم آتی ہے،یا یوں کہہ لیں کہ آتی تو ہے مگر بولتے نہیں۔چینی ہماری طرح نہیں ہیں۔اپنی قومی زبان اور ثقافت سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں۔مجھے بڑی حیرت ہوئی جب ایک پرائیویٹ موٹر کار والے نے دوران سفر مجھ سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا کہ میں کہاں سے آیا ہوں،میرے بتانے پر بے ساختہ بولا،پاکستان فرینڈ اینڈ انڈیا اینیمی آف چائنہ (Pakistan friend and India enemy of china)۔چین کے لوگ بہت محنتی اور جفا کش ہونے کے ساتھ ساتھ خودار بھی ہیں۔پی دو شہر کی مرکزی مارکیٹ کا نام فتیان مارکیٹ ہے۔اس مارکیٹ میں المائدہ کے نام سے ایک نہایت معروف ہوٹل بھی ہے۔اس ہوٹل کی مناسبت سے اس علاقے کو المائدہ کے نام سے بھی بھی جانا جاتا ہے۔اپنے دورے کے آخری ایام میں نے اسی مقام پر گزارے۔ایک شام میں یونہی سیر کیلئے سڑک کے کنارے کنارے آگے کو بڑھا تو کچھ دور ایک پارک کے باہر لوگوں کا ایک ہجوم سا دکھائی دیا۔ایک ویل چیئر پر بیٹھا ہوا ایک معزور نوجوان مائک ہاتھ میں پکڑے کوئی بہت دلکش سا گیت گا رہا تھا۔اس کی ویل چیئر کے پائیدان کے ساتھ ہی چھوٹا سا سائونڈ سسٹم رکھا ہوا تھا اور اسے چلانے کیلئے ایک بیٹری بھی۔ویل چیئر کے عقب میں اس نوجوان کی بیوی نہایت مسحور کن انداز میں گٹار پر سنگت کر رہی تھی اور ان کا چار پانچ برس کا بیٹا دائرے میں گھوم گھوم کر دف بجا رہا تھا۔لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔تینوں نے سبز رنگ کی ایک جیسی ٹی شرٹ اور کالی جینز پہن رکھی تھی۔ڈھلتی شام کے ساتھ اس نوجوان کے سروں کا جادو اس سارے منظر کو ایک بہت ہی انوکھے رنگ میں رنگ رہا تھا۔اچانک گیت اپنے اختتام کو پہنچا گیا۔مگر لوگ اگلے گیت کے انتظار میں وہیں کھڑے رہے۔اتنے میں اس چھوٹے سے بچے نے گتے کا ایک ڈبہ کھولا اور اس میں سے اپنے باپ کی آواز میں ریکارڈ گیتوں کی بہت سی CDsڈیز نکالیں اور لوگوں کے سامنے فروخت کیلئے پیش کر دیں۔قیمت بھی واجبی سی تھی پلک جھپکتے ساری کی ساری فروخت ہو گئیں۔اس ایک منظر نے میری نظر میں ساری کی ساری چینی قوم کو انا اورخوداری کے معاملے میں ہمالیہ کے پہاڑوں سے بھی کہیں اونچا کر دیا۔‘‘ اس ساری داستان سفر کو سن کر اوراپنی چشم تصور سے چینیوں کے عزم و ارادے اور چین کی خوشحالی کو محسوس کرتے ہوئے دل میں ایک بھرپور خواہش پیدا ہوئی کہ کا ش میرا پاکستان بھی چین کی طرح خوشحال اور مضبوط ہو جائے اور میرے پاکستانی بھی چینیوں کی طرح،سچے کھرے محنتی اور انا پرست ہو جائیں۔یہاں بھی امن ہو،خوشحالی ہو،انا ہو خودداری ہو،لوگ خود بھی سکون سے رہیں اور دوسروں کو بھی سکون سے جینے دیں۔دنیا امداد اور تعاون کیلئے اسی طرح ہماری طرف دیکھے جیسے ہم چین کی طرف دیکھتے ہیں۔مگر یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم لوگ انفرادی سطح پر اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں۔ہم عوام ہوں یا حکمران۔سیاستدان ہوں یا ووٹرز،تاجر ہوں یا پھر سرکاری ملازم،مزدور ہوں یا طالب علم،ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ کہیں خود غرضی اور بد دیانتی کی دیمک ہمارے وجود کی عمارت کو کھوکھلا تو نہیں کر رہی،کہیں ایسا تو نہیں کہ مفادات سے خونی آکٹوپس نے ہماری ذات کو اپنی لپیٹ میں کچھ ایسے جکڑنا شروع کر دیا ہو کہ ہماری ذات باقی رہے نہ رہے،مفادات ضرور زندہ ہیں۔ مفادات سمندر کی طرح ہوتے ہیں،گہرائی کی خبر نہ دوسرے کنارے کا اندازہ۔