مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عمران خان کی سیاسی نابالغی باعث شرمندگی ‘ ایسا شخص وزیر اعظم بن کر ملک کا کیا حشر کریگا: خورشید شاہ
نوٹنگھم ... حکومت مجھے بتائے بغیر یا اعتماد میں میں لیے بغیر حکومت راز داری سے نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرتی ہے تو وہ ہمیں قبول نہ ہوگی۔ پھر یہ معاملہ آئینی طریقہ سے پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ مڈٹرم الیکشن کا کوئی جواز نہیں۔ جب تک نوازشریف استعفیٰ نہ دے یہ ممکن نہیں لیکن طاقت کے ذریعے کوئی شخص 50 ہزار افراد لے کر بیٹھ جائے تو اسے حکومت نہیں دی جاسکتی۔ عوامی طاقت کے ذریعے منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں آنے کا فلسفہ بھٹو نے دیا۔ جس پر پیپلز پارٹی نے عمل کرکے پارلیمانی نظام بدل کر رکھ دیا۔ عمران خان کی سیاسی نابالغی پر بعض اوقات شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ایسے شخص کو وزیراعظم بنادیا جائے تو ملک کا حشر کیا ہوگا، ان خیالات کا اظہار پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے نوٹنگھم میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے بہتر طریقے سے اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کرکے نام تجویز کیا گیا، لیکن پرویز رشید اگر تاخیر کا ذمہ دار اپوزیشن لیڈر کو ٹھہرا رہے ہیں تو یہ بڑی زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے چالیس سال تک پاکستان پر حکمرانی کرکے کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن کلچر اور بڑی طاقتوں کے قدموں میں جھک جانے کو رواج دیا وہ پاکستان کی تقدیر کیا بدلیں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو73ء کا متفقہ آئین دیا۔ جس آئین کو ضیاء الحق اور مشرف جیسےآمر ہاتھ نہ لگا سکے، چونکہ اس آئین میں عوام کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ شہید بھٹو نے73ء کا آئین پاکستان کے لیے بنایا تھا، نہ کہ اپنی ذات کے لیے، ورنہ اس آئین پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے دستخط نہ ہوتے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ غیر جانبدار الیکشن کی آواز پیپلز پارٹی نے بلند کی اور آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کو عملی جامہ پہنایا۔ ووٹر لسٹوں سے لاکھوں بوگس ووٹوں کو ختم کیا۔ پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں میں حکومت اور اپوزیشن کا ففٹی ففٹی فارمولہ متعارف کرایا۔سوات میں دہشت گردی کو ختم کرکے امن قائم کیا، لیکن جواب میں انتقامی کارروائی کرکے بے نظیر بھٹو کو شہید کردیا گیا۔ اس کے باوجود الیکشن ہارنے کی کیا وجوہات تھیں؟ ان کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب کے میزبان پیپلز پارٹی برطانیہ کے سابق صدر اور ایڈہاک کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حسن احمد بخاری نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو نہ صرف ووٹ کا حق ملنا چاہیے بلکہ الیکشن لڑنے کا حق بھی دیا جائے۔ برطانیہ میں اگر ہم ممبر پارلیمنٹ اور ممبر ہائوس آف لارڈز بن سکتے ہیں تو اپنے ملک میں اس حق سے کیوں محروم ہیں۔ انہوں نے کہا اوورسیزپاکستانی پیپلز پارٹی جماعت کا ہر اول دستہ ہیں۔ جو ہر دور میں پاکستان میں جمہوری نظام کی سپورٹ کرتا ہے۔ اوورسیز پارٹی ورکروں کی عزت نفس کا احترام کرتے ہوئے انہیں صحیح معنوں میں متحرک کیا جائے تو یہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن ہمیں تسلسل کے ساتھ نظر انداز کیا جارہا ہے۔ جوکہ نیک شگون نہیں ۔ حسن احمد بخاری نے کہا کہ اگر اوورسیز پارٹی کی اہمیت و افادیت نہیں ہے تو اسے ختم کردیا جائے۔ تقریب سے پیپلز پارٹی کے دیگر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا جن میں چوہدری منظور حسین گافا، چوہدری خادم حسین، چوہدری سلیم اور پیپلز یوتھ آرگنائزیشن برطانیہ کے سابق چیئرمین شہزاد کاظمی شامل ہیں۔