مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ٹیکس چوری کا بڑھتا ہوا رجحان
میری ایک ہمشیرہ گزشتہ دس برس سے انگلستان میں رہ رہی ہے،نباتات کے شعبے میں پی ایچ ڈی ہے،پچھلے برس پاکستان آئی توکہنے لگی کہ اس کے پائوں میں چند ہفتوں سے شدید درد ہے،انگلستان میں ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا۔اسی دوران اسے دو ہفتے کیلئے پاکستان آنا پڑا۔ہم سب نے اس کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے اسے ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہاں پاکستان میں آپریشن کرا لو،سب لوگ ہیں،تعلقات بھی ہیں اور وسائل بھی،تمہارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،وہاں اکیلے میں پریشانی ہو گی،لیکن وہ ہماری بات نہ مانی۔واپس جانے کے ایک ہفتے بعد اس کا آپریشن بھی ہو گیا اور پانچ روز ہسپتال میں رکھنے ک بعد اسے گھر بھی بھیج دیا گیا۔اس کے شوہر کو ہر روز چالیس پچاس کلو میٹر ک فاصلے پر ملازمت کیلئے جانا ہوتا ہے لہٰذا بچوں کی نگہداشت اس کیلئے ممکن نہیں تھی،چنانچہ مقامی حکومت نے اس کے دونوں بچوں کو ایک چائلڈ کیئر سنٹر میں بھجوا دیا جہاں ان کی دیکھ بھال کیلئے ایک وقتی آیا موجود تھی۔بچوں کی عمریں تین سے پانچ برس کے درمیان ہیں۔اس ساری روداد میں سب سے دلچسپ اور متاثرکن پہلو یہ ہے کہ آپریشن سے لے کر گھر واپسی تک بلکہ مکمل صحت یابی تک اس کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا،ساری ذمے داری حکومت نے قبول کی۔ انگلستان میں وہاں کی قومیت رکھنے والے ہر شخص کو ان افراد کو جو کسی سکالر شپ پر وہاں حصول کیلئے گئے ہوں،ایک نیشنل سکیورٹی نمبر جاری کیا جاتا ہے،یہی سکیورٹی نمبر افراد اور ریاستی مشینری کے درمیان رابطے کا وسیلہ بنتا ہے،بنک کے معاملات سے لے کر علاج معالجے تک اور بے روزگاری الائونس سے لے کر ڈرائیونگ لائسنس تک ہر جگہ یہی نمبر حوالہ ٹھہرتا ہے۔دنیا کے تمام مہذب ممالک کی طرح انگلستان میں بھی حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کی زندگی کو ہر ممکن حد تک آسان اور محفوظ بنایا جائے۔لوگ سکون میں رہیں گے تو معاشرہ تیزی سے ترقی کرے گا،خوشحالی آئے گی اور جن معاشروں میں خوشحالی کا دور دورہ ہوتا ہے ان معاشروں میں نہ تو دہشت گردوں کو پناہ ملتی ہے نہ مجرموں کو سایہ۔تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ عوام کو سہولیات اور آسانیوں کی فراہمی کا کام ہمیشہ ٹیکسوں کی ادائیگی سے مشروط ہوتا ہے۔عوام اپنی آمدن میں سے جو ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ مہذب معاشروں میں بغیر کسی حیل و حجت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ ٹیکس چور معاشرے میں ترقی کے خواب دیکھنے والے دراصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔بد قسمتی سے ہمارا ملک بھی ایسے ہی ایک بد نصیب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان میں لوگ ٹیکس دینا ہی نہیں چاہتے۔ایسا صرف اس لئے ہے کہ ملک کے سب سے معتبر ادارے پارلیمان کے ارکان ٹیکس نہیں دیتے۔ان رہنمائوں کو دیکھا دیکھی عوام بھی ٹیکس چوری کی طرف مائل ہو گئے اور پھر ہمارے ادارے بھی اس روش کی بڑھوتری میں اپنا کردار ادا کرتے رہے،اور اب صورتحال یہ ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کے پاس اس سوال کے بہت سے ریڈی میڈ جواب موجود ہیں کہ اخراجات کے مقابلے میں آمدنی نہ ہونے کا برابر ہے،لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں تین فیصد کے حساب سے وصول کیا جانے والا جی ایس ٹی پاکستان میں سترہ فی صد کی شرح سے وصول کیا جاتا ہے۔ جی ایس ٹی کے علاوہ کئی اور بھی ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہیں جو گھوم پھر کر عوام کو ہی ادا کرنا پڑتے ہیں۔ٹیکسز کی عدم ادائیگی کے عادی مجرم اس حقیقت کو بھی جواز بناتے ہیں کہ پاکستان میں عوام سے وصول کئے جانے والی رقم شفاف انداز میں عوام پر خرچ نہیں کی جاتی۔اس نوعیت کے اور بھی بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔لیکن بین الاقوامی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ تمام حیلے بہانے اور جواز بے معنی دکھائی دیں گے۔دنیا بھر میں نظام مملکت چلانے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ پیسے عوام ہی سے ٹیکسز کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں۔دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں جہاں عوام کو اپنی آمدن کا چالیس سے پچاس فیصد تک ٹیکس کی صورت میں حکومت کو ادا کرنا پڑتا ہے اور حکومت اس ٹیکس کے بدلے میں عوام کو تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات مفت فراہم کرتی ہے۔ایسے ممالک میں حکومتوں کو ٹیکس وصولی میں عموماً کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوتا۔پھر یہ بھی ہے کہ ٹیکس چوری کو ان ممالک میں ایک سنگین ترین جرم کا درجہ حاصل ہے۔ٹیکس چوروں کیلئے بد ترین سزائوں کا نفاذ ہونے کے سبب لوگ حتمی المقدور اس جرم سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن بد قسمتی سے صرف ٹیکس چوری ہی نہیں،پاکستان میں کسی بھی قسم کے جرم میں ملوث افراد کو سزا ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔اور یہ امکانات اس وقت بالکل ہی معدوم ہو جاتے ہیں ،جب جرم کا مرتکب کوئی بڑا آدمی ہو۔ ’’خبریں‘‘ نے چند روز قبل ان اراکین پارلیمنٹ کی ایک فہرست شائع کی ہے جو اربوں روپے کی جائیدادوں،گاڑیوں اور بنک اکائونٹس کے مالک ہونے کے باوجود حکومت کو ایک پائی بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔اپنے انتہائی پر آسائش انداز زندگی کے باوجود ان حضرات کا دعویٰ ہے کہ ان کے ایسے وسائل نہیں کہ ان پر ٹیکس لاگو ہو سکے۔اگر کسی مہذب اور قانون پسند معاشرے میں اس طرح کی فہرست شائع ہوتی تو اب تک ایسے افراد سے بہت سی پوچھ گچھ کی جا چکی ہوتی،قانون حرکت میں آ کر ان افراد کے گرد اپنا گھیرا تنگ کر چکا ہوتا،لیکن بظاہر سر دست ایسا نہیں ہوا۔اخباری اطلاعات کے مطابق متعلقہ ادارے مذکورہ افراد کے وی آئی پی سٹیٹس کے باعث ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔دراصل یہی رویہ ہے جو ہمیں پاکستان کے سارے نظام میں ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقے کے حوالے سے ہر جگہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔قرضوں کی واپسی سے لے کر گاڑیوں کے شیشوں پر چڑھے سیاہ کاغذوں تک،اسلحے کی نمائش سے لے کر شادی کی تقریب میں ون ڈش کی پابندی تک،یہ مراعات یافتہ طبقہ ہر جگہ قانون سے بالا تر نظر آتا ہے،بلکہ ایک بار ایک دلچسپ منظر یہ بھی نظر سے گزرا کہ ایک جگہ پولیس نے ناکہ لگا کر سیاہ شیشے والی گاڑیوں کو روکنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا،عین اسی وقت ایک اونچی سی گاڑی گزری جس پر کوئی مخصوص نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اور شیشوں پر ہر طرف سے سیاہ کاغذ چڑھا ہوا تھا۔ناکہ پر موجود سپاہیوں نے اس گاڑی کو بڑی عزت و تکریم سے سلیوٹ سلام کیا اور دوبارہ قانون شکن عوام کی طرف متوجہ ہو گئے۔سوال یہ ہے کہ ایسے افراد کو قانون کے دائرے میں پابند کرنے کی ہمت کون کرے گا؟ ہمارے محکمے،پارلیمنٹ،عدالتیں یا پھر عوام؟ ہمارے خیال میں اگر جمہوریت کی گاڑی سکون کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہی تو پھر ایسے افراد کے احتساب کا سب سے اچھا موقع ملنے پر اپنے ووٹ کی قوت سے ہر ایسے فرد کو رد کر دیں گے جو ٹیکس چوری یا پھر اسی نوعیت کی کسی دوسری قانون شکنی میں ملوث ہو گا،لیکن احتساب کی اس منزل تک پہنچنے کیلئے عوامی شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہو گی۔سوئے ہوئے لوگ نہ تو احتساب کر سکتے ہیں نہ ہی انصاف۔