مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیکیورٹی رسک کی وجہ سے بلاول بھٹو اور چوہدری مجیدکے بغیر پیپلز پارٹی کی شہدائے کشمیر کانفرنس
برمنگھم ...قائد پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو شہدائے کشمیر جلسہ سے روک کر انکے دل سے کشمیریوں کی محبت کو نہیں نکالا جا سکتا، سیکیورٹی رسک کے نام پر انہیں روک کر خوش ہونے والے جان لیں کہ انکی رگوں میں شہیدوں کا لہو دوڑتا ہے، وہ ایسے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ جوش اور ولولے کیساتھ مسئلہ کشمیر میں کشمیریوں کا ساتھ دیں گے۔ برطانوی ایجنسیوں کی طرف سے موصولہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید کے بغیر منعقدہ شہدائے کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے جسکے قائدین جان کی قربانی دینا بھی جانتے ہیں، دنیا بھر میں کشمیریوں کے نوجوان ترجمان بلاول بھٹو زرداری کو اس جلسے میں سیکیورٹی کے نام پر روکنا انہی لوگوں کی سازش ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ سینئر وزیر حکومت آزاد کشمیر چوہدری یاسین، چوہدری پرویز اشرف، چوہدری مطلوب انقلابی، افسر شاہد، علی شان سونی،جاوید بڈھانوی، راجہ واجد، جاوید ایوب ، خالد بلوٹ، قاسم مجیداور دیگرنے شہدائے کشمیر کانفرنس میں شرکت کیلئے ملک بھر سے آئے خواتین و حضرات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی برطانوی پولیس ہے جو دو افراد کی سیکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے۔ ان رہنماؤں کو آج کے تاریخ ساز جلسے سے روکنا تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا جب ہمارے قائدین کسی بات سے خوفزدہ نہیں تو انہیں جلسے میں شرکت سے کیوں روکا جارہا ہے۔ آزاد کشمیر کابینہ کے ارکان نے کہا کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے پوری قوم یک آواز ہے، آج اگر بلاول کو جلسہ میں خطاب نہیں کرنے دیا جا رہا تو اس سے انکی کشمیر کاز سے وابستگی ختم نہیں کی جاسکتی۔ سینئر وزیرحکومت آزاد کشمیر چوہدری یاسین نے کہا بھٹو ایک نظریہ اورفلاسفی کا نام ہے جس نے ہر دور اقتدار میں رُکے ہوئے پہیہ کو بھی فولاد بنا دیا ۔معاشی ترقی اور استحکام پاکستان کی خاطر شہیدذوالفقار علی بھٹو نے بڑی طاقتوں کے ساتھ ٹکر لی مگر اپنے پختہ ارادوں کے ساتھ کسی بھی طرح سمجھوتہ نہ کیا۔آج انکا نواسہ بھی یہی علم بلند کرکے نکلا ہے جسکی دشمن کو بہت تکلیف ہے۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کی ترقی اور استحکام پاکستان کے لئے بہت قربا نیا ں دی ہیں، پیپلز پارٹی نے عام انسان کوملک اور قوم کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا،آزاد کشمیر میں ساڑھے تین سال میں ہماری حکومت نے میگا پروجیکٹ تعلیمی انقلاب فلاحی اور ریاستی انفراسٹرکچر کا ریکارڈ قائم کیا۔یہی دکھ کشمیر کو پسماندہ رکھنے والوں اور مسئلے کا حل سردخانے میں چھوڑنے والوں کو ہے کہ شہیدوں کی پارٹی کے سربراہ نے جس طرح بھارت کو للکارہ تھا اس سے انہیں لگتا ہے کہ وہ اب اس دیرینہ مسئلے کو حل کراکے چھوڑیں گے۔ دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ نو عمری میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جس جوان کو کر سی پر بٹھایا ہے یہ پھولوں کی سیج نہیں اس کر سی پر شہادتیں ہو ئی ہیں محتر مہ بینظیر بھٹو شہید کا بیٹا جس جماعت کا چیر مین ہے وہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے جس کے نانا شہید زوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ پیپلزپارٹی کا خمیر ہی کشمیر سے اٹھا ہے بلاول بھی آج یہی کہہ رہاہے کہ لے کے رہیں گے سارے کا سار اکشمیر، بیٹاہو ں کشمیر کا بھٹو بینظیر کا انہوں نے کہا کہ ہم انکی اور پاکستان کی حفاظت کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں بر طانیہ میں آباد عوام نے ہمیشہ پاکستان پیپلزپارٹی ارو محتر مہ بینظیر بھٹو کا بھر پور ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ ساتھ دیتے رہیں گے۔ آزاد کشمیر کابینہ کے ارکان نے برطانیہ میں اپنے اپنے حلقے کے عوام میں اس جلسے کے حوالے سے بھرپور لابنگ کی تھی جسکی وجہ سے مختلف شہروں سے کثیر تعداد میں لوگ برمنگھم پہنچے۔ ابتدائی بدمزگی کے بعد پولیس نے انتظامیہ کو کچھ خصوصی ہدایات جاری کیں جنکی روشنی میں جلسے کی اگلی کاروائی کو ممکن بنایا گیا۔ حالات کا جائزہ لینے کیلئے فریال تالپور کی زیر صدارت اجلاس کیا گیا جس میں بالآخر فیصلہ کیا گیا کہ شہدائے کشمیر کانفرنس ضرور کی جائے جسکے بعد دن دو بجے کے قریب جلسے کی کاروائی کا آغاز ہوا۔