مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برمنگھم جلسہ گاہ سے باہر پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف مظاہرہ، بیگم چوہدری مجید بھی میدان میں نکل آئیں
برمنگھم ... برطانیہ کی معروف پولیس فورس سکاٹ لینڈ یارڈ کو انتہائی باوثوق ذرائع سے خبر ملی تھی کہ برمنگھم جلسہ میں بلاول اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کیلئے سیکیورٹی خطرات موجود ہیں جس بنا پر انہیں کہا گیا کہ اگر جلسہ کرنا ہے تو یہ دو افراد جلسہ گا ہ مت آئیں۔ مقامی پولیس کو سکاٹ لینڈ یارڈ نے متنبہ کیا تھاکہ آج کے اس جلسہ میں دو شخصیات بلاول بھٹو اور چوہدری عبدالمجید کیلئے سیکیورٹی رسک موجود ہیں اسلئے وہ جلسہ گاہ کے قریب بھی نہ آئیں تو بہتر ہے۔ اس صورتحال سے نبٹنے کیلئے پولیس نے صبح ہی بنگلے ہال کو سیل کردیا تھا تاہم دو گھنٹے کی گفت و شنید کے بعد پیپلز پارٹی نے اعلیٰ قیادت سے مشورہ کرکے آزاد کشمیر کابینہ کے ہمراہ جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی کابینہ اپنے سربراہ وزیراعظم چوہدری مجید کے بغیر ہی شرکت کرنا پڑی۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری مجید کی جلسے میں عدم شرکت کی وجہ سے پیپلز پارٹی پاکستان کی دیگر قیادت نے بھی شرکت سے گریز کیا۔ رات گئے تک پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان کی رہنما بھی تقاریر کیلئے لائن اپ تھے۔ جن میں آصفہ بھٹو اوربی بی فریال تالپور سرفہرست تھیں جو ایک روز قبل ہی برطانیہ پہنچی تھیں۔ دیگر رہنماؤں میں رحمان ملک، چوہدری ریاض اور سندھ سے کچھ رہنما شامل تھے۔ دو بڑے قائدین کی عدم شرکت نے جہاں ھاضرین کو مایوس کیا وہیں آزاد کشمیر کابینہ کے ارکام بھی پژمردگی کا شکار تھے اور باقی ماندہ جلسے میں حرارت پیدا نہ کرسکے بلکہ مختصر تقاریر کرکے اپنے اپنے حصے کی کاروائی مکمل کرتے رہے۔ پون گھنٹے کے جلسے میں نا تو مقررین پرجوش تھے اور نا ہی حاضرین میں کوئی جوش و ولولہ تھا ۔ تاہم اس جلسہ کی خاص بات آزاد کشمیر کی خاتون اول کا غیر متوقع خطاب تھا۔ بیگم شگفتہ مجید نے ملک بھر سے آئی خواتین کی حوصلہ افزائی کیلئے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا تھا، انہوں نے اپنے خطاب میں تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی کسی صورت مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے گی۔ جلسہ گاہ سے باہر مسلم لیگ ن آزاد کشمیرسمیت پی ٹی آئی، جے کے ایل ایف اور دیگر قوم پرست جماعتوں کے کارکنان نے اس جلسے کے خلاف ہال کے باہر شدید نعرے بازی کی، انکا کہنا تھا کہ آزاد حکومت اپنی عوام کی بہتری کو پس پشت ڈال کر سرکاری وسائل برطانیہ میں اپنی پارٹی کے چیئرمین کی تشہیر کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مظاہرین نے گو بلاول گو، گو مجاور گو،گو زرداری گو کے نعرے لگائے جس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بھی انکے خلاف گو نواز گو اور گو عمران گو کے نعرے لگائے۔ اس صورتحال میں مقامی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی جسکی وجہ سے جلسہ تاخیر کا شکار ہوا۔ (رپورٹ: فیاض بشیر)