مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
تبدیلی ‘ مگر کیسے ؟؟
صحت،تعلیم،توانائی اور روز گار کسی بھی قوم کی زندگی میں چار مسائل حل ہو جائیں تو معاشی ترقی اور اقتصادی مضبوطی کیلئے نہ تو کوئی اضافی جدو جہد کرنا پڑتی ہے نہ کوئی کاوش،قومی ترقی کی ریل گاڑی کی نئی منزلوں کی جانب خود بخود دوڑتی چلی جاتی ہے،ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے ان چاروں مسائل کو حل کرنے کی کبھی سنجیدگی سے کوئی کوشش ہی نہیں کی گئی۔نیم دلی کے ساتھ کی جانیوالی کوششیں کبھی بارآور ثابت نہیں ہوتیں،ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے بطور قوم جن مسائل کو اپنی انا اور سلامتی کیلئے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور ان کو دنیا کی ہزار مخالفتوں کے باوجود حل کر لیا۔مذکورہ بالا مسائل کے حل کیلئے بھی اگر ہم یک زبان ہو کر کمر باندھ لیں تو بقول عمران خان ،دنیا بھر سے لوگ روز گار کی تلاش میں پاکستان کے ویزے کے حصول کی خاطر پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے لمبی لمبی لائنوں میں کھڑے نظر آئیں۔ پاکستان کو نیو کلیئر قوت بنانے کے معاملے کو ہی دیکھ لیں،دنیا کے تمام طاقتور ممالک سر جوڑ کر بیٹھے رہے کہ کس طرح پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکا جائے،بہت سی دھمکیاں دی گئیں،سازشیں کی گئیں،نتائج سے ڈرایا گیا لیکن پاکستانیوں کی ہمت اور ارادے کے سامنے یہ سب کچھ بے اثر ٹھہرا۔آج بھی ہمیں اسی ہمت،حوصلے اورارادے کی ضرورت ہے۔تاہم ہمارے لئے اس حقیقت کا ادراک بھی ازحد ضروری ہے کہ مسائل کسی بھی نوعیت کے ہوں،حکومت،عوامی مدد اور تعاون کے بغیر انہیں تن تنہا حل نہیں کر سکتی۔عوام کو حکومت کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔معاملہ لا قانونیت کا ہو یا پھر دہشت گردی کا،کرپشن کا ہو یا پھر فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا،حکومت کا کام ایک مربوط پالیسی کی تشکیل اور پھر اس پالیسی پر عمل درآمد ہوتا ہے لیکن اگر عوام معاون نہ ہوں تو پالیسیاں محض فائلوں تک محدود رہ جاتی ہیں۔ زمین جائیداد کی خرید و فروخت،منتقلی ملکیت،وراثت اور اسی طرح کے دیگرمعاملات میں سرکاری محکموں کی مبینہ کرپشن اور متعلقہ اہلکارو ں کی بد عنوانیاں شاید قیام پاکستان کے بعد ہی سے عوامی استحصال کا باعث رہی ہیں۔فرد ملکیت کے حصول سے لے کر انتقال زمین تک شاید ہی کوئی مرحلہ ایسا ہو جس میں رشوت کے بغیر کام آگے بڑھتا ہو اور اس رشوت اور بد عنوانی کے نتیجے میں ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کے باعث آج ہماری لوئر کورٹس میں زمین جائیداد کے اتنی بڑی تعداد میں مقدمات زیر سماعت ہیں کہ فوری نوعیت کے دیگر مقدمات کی سماعت شدت سے متاثر ہوتی ہے۔خادم علیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اسی صورتحال کے پیش نظر،عوام کو استحصال اور ذہنی اذیت سے بچانے کیلئے زمین جائیداد خریدنے اور بیچنے والوں سے موبائل فون پر بذات خود رابطے کا ایک نیا طریق کار متعارف کرایا ہے،جیسے ہی کوئی شخص زمین کی فروخت کیلئے فرد ملکیت جاری کرواتا ہے،یا خریدار رجسٹری شدہ جائیداد کا اندراج پٹواری کے رجسٹروں میں کرواتا ہے تو اگلے ہی روز اسے میاں شہباز شریف کی آواز میں ریکارڈ فون آتا ہے کہ اگر اس سارے مرحلے کے دوران کسی اہلکار نے کوئی رشوت لی یا پھر کام کو الجھانے کی کوشش کی ہو تو براہ کرم مجھے فوری اطلاع دیں۔اس فون کے بعد دونوں پارٹیوں کو فراہم کردہ موبائل نمبر پر8070سے خادم اعلیٰ کو میسج بھی آتا ہے کہ اگر کسی اہلکار نے رشوت لی ہے تو اس میسج کے جواب میں مجھے تفصیلات بھیج دیں۔ اس کے بعد ایک میسج اور آتا ہے کہ مجھے ضرور اطلاع دیں اگر کسی نے آپ سے زائد رقم کا مطالبہ کیا ہو۔اس میسج کی آخری لائن اپنے طور پر ایک مکمل پیغام کا درجہ رکھتی ہے،یاد رہے سرکار کی اصلاح آپ کی اطلاع کے بغیر ممکن نہیں‘۔ یہ تمام اقدامات یقینا قابل ستائش بھی ہیں اور قابل عمل بھی لیکن عوام کی طرف سے رسپانس نہ ملے تو اس ساری کاوش کا کوئی فائدہ نہیں۔میرے پاس اعداد و شمار نہیں کہ بتا سکوں خادم اعلیٰ کے اس میسج کا کتنے لوگ جواب دیتے ہیں اور جواب دیتے بھی ہیں تو صحیح صورتحال کتنے لوگ بیان کرتے ہوں گے۔تاہم میرا خیال ہے ایسے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو گی جو اس حکومتی کاوش سے فائدہ اٹھاتے ہوں گے۔ پچھلے چند ماہ سے وطن عزیز کی فضاء تبدیلی کی خواہش سے معطر دکھائی دے رہی ہے۔لوگ تبدیلی کیلئے متحرک بھی ہیں اور بے چین بھی،لیکن تبدیلی چہروں کی تبدیلی ہو یا نظام کی تبدیلی،بہت سے لوگ اس بارے میں ابھی واضح نہیں ہیں۔میرے خیال میں نہ تو چہرے بدلنے سے کچھ ہو گا نہ نظام بدلنے سے،تبدیلی آئے گی تو صرف سوچ بدلنے سے۔سوچ کی تبدیلی کیلئے تعلیم ضروری ہے اور صرف تعلیم ہی نہیں ایک یکساں نظام تعلیم بھی۔یکساں نظام تعلیم ہو گا تو یکساں نصاب تعلیم بھی ہو گا،سوچ میں تبدیلی آئے گی،انداز فکر بدلے گا۔اسے ہماری مجموعی نا اہلی کہیے یا پھر اس نا اہلی کا ملبہ بھی’عالمی سازش کاروں ‘پر ڈال دیجئے کہ ہماری ابتدائی جماعتوں سے لے کر اعلیٰ ترین مدارج تعلیم تک ہمارے نصاب میں وطن پرستی کا سبق ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا،پنجاب کے سرکاری کالجوں میں شامل انگریزی سال اول کی ٹیکسٹ بک میں ہمارے کلچر کو نمائندگی دینے کیلئے غلام عباس اور احمد ندیم قاسمی کے افسانے غیر معیاری انگریزی میں ترجمہ کر کے کتاب مرتب کرنے والوں نے اپنے تئیں قوم پر یقینا بہت بڑا احسان کیا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ بڑے لوگوں کی نمائندہ داستانوں میں مارٹن لوتھر کنگ کی ایک تقریر بھی شامل کر دی۔یہ وہ تقریر ہے کہ جس میں صرف اور صرف امریکہ کی باتیں کی گئی ہیں،امریکیوں کو مخاطب کیا گیا اور امریکہ کی بڑائی اور مضبوطی کا ڈھول پیٹا گیا ہے،معلوم نہیں پاکستانیوں کو یہ داستان عظمت سنانے کا کیا مقصد؟ اسی طرح دوم کی انگریزی کی کتاب میں جن بڑے لوگوں کی داستانیں شامل کی گئیں ان میں کوئی ایک بھی پاکستانی نہیں۔یوں لگتا ہے اس دھرتی نے کبھی کسی بڑے نام کو جنم ہی نہیں دیا۔اس سال دوم کی کتاب کی ایک خصوصیت اور بھی ہے، 1982میں جب میں نے ایمرسن کالج ملتان سے ایف اے کا امتحان دیا تب بھی یہ کتاب اسی حالت میں شامل نصاب تھی اور پھر جب میرے بڑے بیٹے نے آج سے تین برس پہلے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا تب بھی یہ کتاب کسی بھی ظاہری و باطنی تبدیلی کے بغیر نصاب کا حصہ تھی،آج تین برس بعد بھی یہ کتاب اسی ترتیب کے ساتھ موجود ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ میرا چھوٹا بیٹا جب گیارہ برس بعد بارہویں جماعت میں آئے گا تب بھی یہ کتاب اسی حالت میں موجود ہو گی یا تبدیلی کی کوئی ہوا اسے اپنی لپیٹ میں لے چکی ہو گی؟ہماری تاریخ اس سر زمین اور دین الٰہی کیلئے قربانیاں دینے والوں سے بھری پڑی ہے،ہمارے دینی اکابرین،ہمارے شہید،ہمارے غازی،ہمارے علماء ،ہمارے سیاستدان،اقوام عالم کیلئے قابل تقلید مثال بھی ہیں اور ایک روشن حوالہ بھی تو پھر ہمارا نصاب تعلیم ان دمکتے ستاروں کے تذکرے سے محروم کیوں ہے؟ مسئلہ نظام کا نہیں ،نظام پر عمل کرنے اور عمل کروانے والو ں کا ہے۔ مسئلہ سوچ اور فکر کا ہے۔تعلیم عام ہو گی تو سوچ بھی بدلے گی۔شدت پسندی اور انتہا پسندی کے جذبوں کو ٹھہرائو ملے گا،وطن کی اہمیت کا اندازہ ہو گا اور وطن کیلئے جان قربان کرنے والوں کے مرتبے سے آشنائی ہو گی لیکن فروغ تعلیم کا مطلب محض شرح خواندگی میں اضافہ نہیں۔اگر ہم نے ساری قوت شرح خواندگی بڑھانے میں لگا دی اور اس بات پر خوشی سے بغلیں بجاتے رہے کہ ہمارے ہاں اپنا نام لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت کے حامل لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو یقین کیجئے ہم اپنے ساتھ نا انصافی کے مرتکب ہوں گے۔تبدیلی کی خواہش اگر بہتری کی خواہش سے منسلک ہے تو یقینا قابل ستائش ہے مگر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تبدیلی کبھی بھی محض نعروں سے نہیں آتی،سوچ اور فکر میں انقلاب برپا کرنا پڑتا ہے۔دوسروں کو اپنی آنکھوں سے خواب دکھانا پڑتے ہیں اور یہ بلا شبہ کوئی آسان کام نہیں۔