مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وطن عزیز میں معذور افراد کے لیےروایتی سوچ کیوں ؟
امریکہ آئے ابھی کچھ ہی روز گزرے تھے کہ پہلی بار بس میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ میں بس میں چڑھی اور سامنے نظر آنے والی دو سیٹیں خالی دیکھتے ہی ان پر براجمان ہو گئی۔ ایک دو سٹاپس کے بعد بس رکی تو مجھے محسوس ہوا کہ بس جیسے نیچے بیٹھ رہی ہو، اسی اثنا میں بس کا دروازہ کھلا اور دروازے کے نیچے سے ایک ٹرے نما سی شے باہر کو نکلی اور میں نے خاتون ڈرائیور کو دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔ اس سب کے دوران بس سے نیچے اترنے اور اوپر چڑھنے والے مسافروں میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔ اس سب منظر میں میری دلچسپی کچھ عجیب سی تھی کیونکہ میری سمجھ سے باہر تھا کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ کیا بس خراب ہو گئی ہے یا اس کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے؟ میری نگاہیں دروازے کی جانب ٹکی تھیں، تجسس اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا کہ اتنے میں ایک تین پہیوں والی وہیل چئیر خود بخود چلتے ہوئے بس میں داخل ہوئی، اس پر ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ ڈرائیور اس خاتون کے لیے راستہ بناتے ہوئے اسے اس نشست تک لے آئی جہاں میں بیٹھی تھی اور مجھے اٹھنے کا حکم دیا۔ میں فوراً ہی بنا کوئی سوال کیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ نشست چھوڑتے ہی میری نظر اس سیٹ کے پیچھے بس کی دیوار پرچسپاں ایک پوسٹر پر پڑی جس پرتحریر تھا کہ یہ سیٹیں معذور اور ضعیف افراد کے لیے مختص ہیں اور ان کے لیے ان پر بیٹھے افراد انہیں فوراً خالی کر دیں۔ جیسے ہی میں سیٹ سے اٹھی وہ تہہ ہو کر پیچھے بس کی دیوار کے ساتھ جا لگی اور ڈرائیور نے اس معذور خاتون کی وہیل چئیر وہاں لا کر لاک کر دی۔ جیسے ہی وہیل چئیر لاک ہوئی بس میں سے مسافروں نے چڑھنا اور اُترنا شروع کر دیا اور ڈرائیور اپنی سیٹ پر واپس چلی گئی۔ چند لمحوں بعد بس چل پڑی مگر اس خاتون کی وہیل چئیر کو بس کے جھٹکوں نے ذرا سا بھی ٹس سے مس نہ ہونے دیا۔ اس کے بعد میں دیکھا کہ مختلف اوقات میں یونیورسٹی کے جسمانی معذور طلبہ جو وہیل چئیرز پر آتے ہیں وہ اسی بٹن کی مدد سے یونیورسٹی کے اندر آتے اور باہر جاتے ہیں۔ بٹن کے علاوہ امریکہ میں بنی ہر عمارت کے باہر وہیل چئیر کے لیے مخصوص راہ داری بنائی گئی ہے۔ پھر پبلک ٹوائلٹس میں بھی ان کے لیے بنائے گئے ٹوائلٹس اتنے بڑے ہیں کہ ان کی وہیل چئیر باآسانی اندر جاسکے۔ آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ کیا میں کسی دیہات سے اٹھ کر امریکہ آئی تھی۔۔۔ مگر میں نے کیا شاید آپ نے بھی کبھی پاکستان میں ایسا کچھ نہیں دیکھا ہوگا اب تک۔ مجھے تو بس کچھ نابینا لوگ یاد ہیں جو یا تو سفید چھڑی سنبھالے آنکھوں پر کالی عینک چڑہائے فٹ پاتھ پر کھڑے ٹریفک کا شور سن کر سڑک پار کرنے کے وقت کا تعین کرتے تھے اور یا پھر انتظار کرتے ہیں کہ کوئی ان کی حالت دیکھ کر ان پر رحم کھائے اور ان کو سڑک کے دوسرے کنارے تک چھوڑ آئے۔ مجھے وہ نوجوان بھی یاد آتا ہے جو بچپن میں پولیو وائرس کے ہاتھوں زندگی بھر کے لیے وہیل چئیر اور بیساکھیوں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا۔ اس نوجوان پر میں نے ایک ٹی وی رپورٹ بنائی تھی اور انٹرویو میں اس کی یہ بات مجھے وقتی طور پر بہت تکلیف دہ لگی جب اس نے کہا کہ میں معذوروں کے اولمپکس میں تو شرکت کرتا ہوں دوسرے ممالک میں جا کر مگر اپنے ملک میں، میں کبھی اپنے کپڑے یا ضرورت کی اشیاء خریدنے بازار نہیں گیا یہاں تک کہ عید سے پہلے بھی نہیں۔ کیونکہ چاند رات پر بھی میری وہیل چئیر دکانوں کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی۔ اس کی اس بات نے اس وقت مجھے دکھی تو کیا مگر میں کچھ دن بعد ہی اسے بھول گئی کیونکہ شاید میں بھی اپنے باقی ہم وطنوں کی طرح ایسے معذور افراد کے لیے ایک روایتی سوچ ہی رکھتی تھی۔ ( فاطمہ علی، واشنگٹن)