مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ظلم کی وراثت
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور جناب سرتاج عزیز نے چند روز قبل نو منتخب افغانستان صدر جناب اشرف غنی سے کابل میں ملاقات کی اور انہیں وزیر اعظم پاکستان کاتہنیتی پیغام پہنچایا۔وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں صدر اشرف غنی کو افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور صدر افغانستان کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ سرتاج عزیز کا مذکورہ دورہ افغانستان سفارتی تعلقات کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے لیکن اس دورے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا بھی دانشمندی نہیں۔پاکستان کی جانب سے ماضی میں بھی افغانستان سے مراسم کو دوستانہ رکھنے کی بے شمار کاوشیںریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن افغانستان کی طرف سے ایسی کوششوں کا عموماً مثبت جواب دیکھنے کو نہیں ملا۔روس کی جانب سے افغانستان میں مداخلت کے زمانے سے لیکر امریکی در اندازی کے دور تک،اپنے افغان بھائیوں کی مدد کیلئے پاکستان سے جو کچھ بھی ہو سکا پاکستان نے کیا لیکن اس تمام ہمدردی کے جواب میں پاکستان کو ہمیشہ الزامات اور اعتراضات کے علاوہ اور کچھ بھی نہ مل سکا۔مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان پر افغانستان کی طرف سے جو بھی الزامات لگائے گئے وہ سب کے سب در اصل بھارتی جذبات کے ترجمان تھے۔افغانستان ایک ایسی سر زمین ہے کہ جس سے بیک وقت کئی ملکوں کے مفادات وابستہ ہیں۔روس،امریکہ،بھارت اور پاکستان جیسے ممالک گزشتہ تین چار دہائیوں سے افغانستان میں جاری بے نام سی جنگ میں کبھی خاموشی سے اور کبھی سامنے آ کر باقاعدہ شریک رہے ہیں،تاہم بھارت،امریکہ اور روس کے مفادات کی نوعیت بڑی حد تک مختلف رہی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آباد لوگ جغرافیائی پس منظر،مذہبی عقائد اور نسلی مماثلت کے باعث ایک دوسرے سے یوں جڑے ہیں کہ کسی بھی بیرونی قوت کیلئے کبھی بھی ان کا علیحدہ کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔غیر ملکی طالع آزمائوں نے افغانستان کے لوگوں پر ہمیشہ ایسے حکمران مسلط کرنے کی کوشش کی جو بظاہر نسلی اعتبار سے تو افغان تھے لیکن ان کی ہمدردیاں افغانستان کو غلام بنا کر رکھنے والوں کے ساتھ تھیں اور ایسے لوگوں کیلئے پاکستان دشمنی بلا شبہ ایمان کا حصہ بھی تھی،سابق افغان صدر حامد کرزئی اس حوالے سے ایک بد ترین مثال تھے۔انہوں نے اپنے طویل زمانہ اقتدار میں افغانستان کے لوگوں کو بھارت اور امریکہ کے پاس گروی رکھوانے کے انتظامات کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا۔حد تو یہ ہے کہ جناب اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی وہ اس کوشش میں رہے کہ کس طرح انہیں کسی بھی صورت میں حکومت کا حصہ رکھا جائے لیکن بد قسمتی سے ان کی یہ خواہش کسی طور بھی پوری نہیں ہو سکی۔تاہم ان کی شبانہ روز محنت کا یہ نتیجہ ضرور ہوا کہ بھارت کو افغانستان میں اپنے قدم جمانے کا بھرپور موقع مل گیا۔ جناب اشرف غنی کے بطور صدر افغانستان چنائو نے پاکستان کو امید دلائی تھی کہ اب صورت حال پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر ہو جائے گی،رابطے مضبوط ہوں گے اور دونوں ممالک مل کر خطے میں ترقی و خوشحالی کے لئے مشترکہ جدو جہد کر سکیں گے لیکن تاحال ایسا نہیں ہو سکا۔یوں لگتا ہے جیسے حامد کرزئی کے لگائے ہوئے نفرت کے پودے اتنے تناور درخت بن چکے ہیں کہ انہیں جڑ سے اکھاڑنے میںزمانے لگ جائیں گے۔پاکستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان کی طرف سے گولہ باری کا سلسلہ نہایت شد و مد سے جاری ہے،بہت سے بے گناہ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں اور ان گنت زخمی۔تفصیلات کے مطابق اکیس اکتوبر کو بابارشینا کے علاقے میں افغانستان کی طرف سے آنے والے بارودی گولوں نے امن لشکر کے ایک رہنما کو شہید کر دیا جب وہ ایک جرگے میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔اس حملے میں ان کے دو ساتھی بھی شدید زخمی ہوئے۔اسی روز باجوڑ ایجنسی کے علاقے میں ایک ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی ڈیوائس سے دھماکہ کیا گیا جس میں کئی لوگ نشانہ بنے۔ باجوڑ ایجنسی کی سرحدافغانستان کے صوبہ کنہڑ کے ساتھ ملتی ہے۔ اسی لیے باجوڑ کا علاقہ اکثر و بیشتر افغانستان کی طرف سے ہونے والی گولہ باری کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔یہاں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ ایک طرف بھارت نے پاکستان سے ملنے والی سرحد پر جنگ و جدل کا ماحول پیدا کیا تو عین اس زمانے میں افغانستان نے بھی پاکستان پر گولہ باری کا آغاز کر دیا۔یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان کے ان دونوں ہمسایہ ممالک نے کسی مشترکہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کو دو سمتوں سے گھیرنے کی کوشش کی۔رہی سہی کسر امریکی ڈرونز نے نے پوری کر دی۔پاکستان کو بیک وقت تین سمتوں سے بگڑتی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ بھارت کی طرف سرحدوں پر اشتعال انگیزی ہو یا پھر افغانستان کی طرف دہشت گردی،امریکی ڈرون حملے ہوں یا پھر بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت،صورت حال سنبھالنے کیلئے فوج کو ہی آگے آنا پڑتا ہے،ہماری فوج گزشتہ چند ماہ سے آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے۔پاکستان پر مختلف سمتوں سے یلغار کا بظاہر صرف ایک ہی مقصد دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان آرمی کی توجہ کو تقسیم کیا جائے تاکہ آپریشن ضرب عضب متاثر ہو سکے۔ آپریشن ضرب عضب کے نتائج آنے والے دنوں میں پاکستان کی سلامتی،خوشحالی اور استحکام کے حوالے سے نہایت اہم کردار کے حامل ہونگے،اس آپریشن کی کامیابی اور ناکامی دونوں ہی صورتوں میں پاکستان کا منظر نامہ بڑی حد تک تبدیل ہونے کے امکانات ہیں۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی تک سکیورٹی اداروں کے بہت سے جوانوں کی شہادت اور ان گنت دہشت گردوں کی ہلاکت اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ یہ آپریشن بہت جلد اپنی حتمی کامیابی کی انتہائی بلندیوں کو چھو لے گا۔اس بات کا بھی جگہ جگہ اعتراف کیا جا رہا ہے کہ یہ آپریشن پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی ماہرانہ قیادت اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی پیشہ وارانہ مہارت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔تاہم پاکستان کے بد خواہوں کیلئے کامیابی کی یہ خبریں یقینا کوئی خوشی کی بات نہیں،اس لئے ہر سمت سے پاکستان کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جا رہی ہے،پاکستانی قوم کیلئے یہ بات بحرحال دکھ کا باعث ہے کہ پاکستان کا برادر اسلامی ملک افغانستان،حکومتی سطح پر ان قوتوں کے ہاتھ میں کھیل رہا ہے جو کسی طور بھی پاکستان کی ترقی ،خوشحالی اور آسودگی کی خواہاں نہیں۔ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستانی قوم کو افغان حکمرانوں سے بالکل بھی توقع نہیں تھی کہ ہمارے برادر اسلامی ملک کی سر زمین او ر وسائل کو پاکستان مخالف طاقتوں کی خوشنودی کیلئے استعمال کیا جائے گا۔تاہم یہ بات اپنی جگہ خوش آئند ہے کہ افغان حکومت کے بر عکس افغان عوام مکمل طور پر اس صورت حال میں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ممکن ہے امریکہ افغان سر زمین کو الوداع کہنے سے پہلے افغان عوام سے نا انصافی کی بنیاد پر کئی دہائیوں سے جاری اپنے ظلم و ستم کی وراثت بھارت کو منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن افغان عوام ظلم کے اس نا جائز وراثتی نظام کو آسانی سے چلنے نہیں دیں گے۔