مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر کے اقتدار کے حق میں نہیں: وزیر اعظم پاکستان
اسلام آباد ... وزیراعظم پاکستان میاں محمّد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر کے اقتدار حاصل کرنے کے حق میں نہیں ہوں بلوچستان میں اکثریت کے باوجود دوسری جماعت کا وزیر اعلی اور گورنر لینا، خیبر پختوں خواہ میں تحریک انصاف کے منڈیٹ کو تسلیم کرنا اور آزاد کشمیر میں عدم اعتماد کی حالیہ تحریک کو سپورٹ نہ کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسلم لیگ ن اقتدار کی بھوکی نہیں بلکہ ملک و قوم کی خدمت اس کی اولین ترجیح ہے قوم سے اپنےپہلے خطاب اور اس سے قبل آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات میں بھی میاں نواز شریف نے اس عزم کو دہرایا کہ ہمسایوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، بھارت سے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی پالیسی کو عوامی تائید حاصل ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے قوم میں اپنے خطاب میں کہا کہ تمام ادارے تباہی اور بربادی کی آّخری حدوں کو چھو رہے ہیں، قومی ادارے سالانہ ملک کو 500 ارب کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا یہ سارا پیسہ عوام کا ہے اس رقم سے ایک نئی پی آئی اے اور ریلوے کھڑی ہو سکتی تھی، عوام کے لئے 20 لاکھ سے زائد گھر بنائے جا سکتے تھے۔ پاکستان بھر کے دیہاتوں کو صاف پانی مہیا کیا جاسکتا تھا، اتنی رقم سے بجلی کی بحران پر ہمیشیہ کے لئے قابو پایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جون 1999 مں پاکستان کے مجموعی قرضے 3 ہزار ارب روپے تھے جو اب بڑھ کر 14 ہزار 500 ارب ہو چکے ہیں، اس قرض کی قسطیں ادا کرنے کے لئے ہم مزید قرض لینے پر مجبور ہیں۔ وزیراعظم نے کہا خارجہ پالیسی نظر ثانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ معاشی اور اقتصادی استحکام کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے، وزیراعظم نے کہا ڈرون حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس کے لئے میں نے جان کیری سے دو ٹوک بات کی کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا حکومت کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے ایک سے زیادہ آپشن موجودہ ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہوں چاہیے مذاکرات سے ہو یا طاقت سے۔ وزیراعظم نے کہا کراچی کی صورت حال پاکستان کے ہر شہری کے لئے تشویش کا باعث ہے ، میں چاہتا ہوں کراچی ترقی کرے ، خواہش ہے گورنر اور وزیراعلی سندھ کے ساتھ جلد زیر زمین ٹرین منصوبے کا جلد افتتاح کروں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ہر پاکستانی کی طرح آگ اور خون کے کھیل کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ خواتین و حضرات میں انتظامی مشینری کے کام سے مطمئن نہیں ہوں ، پاکستان کی ترقی کے لئے زنگ آلود مشینری ناقابل قبول ہے، پاکستان کی مشینری میں اب بے ضمیر افسروں کی گنجائش نہیں۔ پاک فوج کے سربراہ اور وزیر اعظم کی ملاقات میں اس عزم کا بھی اعاده کیا گیا کہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد حکومت نے قومی سلامتی پالیسی کی تیاری شروع کر رکھی ہے اور اس ضمن میں صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت جاری رہے گی ۔