مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
معذور بچوں کی پیدائش میں کزن میرج منشیات کے استعمال سے زیادہ مہلک ہے :جدید تحقیق
بریڈ فورڈ... تازہ ریسرچ سے پتہ چلا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں پاکستانی نژاد ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی سالانہ اموات میں سے 90 کیسز کا تعلق پیدائشی طور پر بچے میں پائے جانے والے نقائص سے ہوتا ہے۔ عم زاد یا باپ ماں کے بھائی بہنوں کی اولاد کے درمیان شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں میں جینیاتی نقائص کے خطرات خاندان سے باہر شادی کرنے والوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں دو گُنا زیادہ ہوتے ہیں۔ اس بارے میں برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں ایک مطالعاتی جائزہ رپورٹ مرتب کی گئی جو معروف طبی جریدے لینسیٹ میں حال ہی میں شائع ہوئی۔ برطانوی شہر بریڈ فورڈ کی آبادی میں ایک بڑا تناسب جنوبی ایشیائی تارکین وطن اور ان کی نئی نسلوں کا ہے۔ اس شہر کو بطور عالم صغیر خون کے رشتہ داروں کے مابین ہونے والی شادیوں کے نتائج جاننے کے لیے کرائے گئے سروے کے لیے چنا گیا۔ اس جائزے میں شامل پاکستانی نژاد باشندوں کی شادیوں کے بارے میں سروے کی رپورٹ سے پتہ چلا کہ 37 فیصد پاکستانی جوڑے آپس میں ایک دوسرے کے کزن تھے جبکہ محققین کے مطابق کسی برطانوی نژاد لڑکے یا لڑکی کے ساتھ پاکستانی نژاد افراد کی شادیوں کی شرح ایک فیصد سے بھی کم دکھائی دی۔ لیڈز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محقق ایمون شیریدان محققین کی اُس ٹیم کے سربراہ ہیں جس نے شہر بریڈ فورڈ کے مرکزی ہسپتال میں ہونے والی بچوں کی پیدائش کا سروے کیا ہے۔ اس سروے کے نتائج سے پتہ چلا کہ وہاں 2007 ء اور 2011 ء کے درمیان پیدا ہونے والے تیرہ ہزار پانچ سو بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے 11,396 بچوں کے خاندانوں کے کوائف یا ضروری تفصیلات کا محققین کو پہلے سے علم تھا۔ ان میں سے 18 فیصد بچے فرسٹ کزنز یا عم زاد افراد کے مابین شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان جوڑوں کا تعلق زیادہ تر پاکستان سے تھا۔ سروے میں شامل بچوں کی کُل تعداد کا تین فیصد یعنی 386 نومولود بچے کسی نہ کسی بے ضابطگی اور صحت کی خرابی سے متعلق مسئلے کا شکار نظر آئے۔ ان میں نظام اعصاب، نظام تنفس اور عمل انہضام کے نظام کا نقص پایا گیا۔ اس کے علاوہ ان بچوں میں پیشاب اور جنسی اعضاء سے متعلق بیماریاں اور دائیں اور بائیں پیلیٹ کے زائدوں میں ملاپ نہ ہونے جیسے نقائص بھی پائے گئے۔ اس مطالعاتی رپورٹ سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ برطانیہ میں قومی سطح پر پائی جانے والی نومولود بچوں کی مذکورہ بیماریوں کی شرح شہر بریڈ فورڈ میں دوگنا ریکارڈ کی گئی۔ محققین نے نومولود بچوں میں پائی جانے والی ان بیماریوں اور جینیاتی نقائص کی وجہ مانے جانے والے دیگر عناصر مثلا الکوحل کا استعمال، تمباکو نوشی اور سماجی محرومی کو مسترد کر دیا ہے..مطالعاتی جائزہ رپورٹ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد بچوں میں پائے جانے والے تمام تر نقائص اور صحت کی بے ضابطگیوں میں سے 31 فیصد کی وجہ خاندان کے اندر یا خونی رشتہ داروں کے درمیان ہونے والی شادیاں ہیں۔