مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کرکٹ نوبل گیم ہے لیکن کرپشن کے ایشوز نے اسے بدنام کردیا گیاہے: شہریار خان
لندن... برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے داؤد ابراہیم کے حوالے سے میرا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ صرف میڈیا کی رپورٹ پر مبنی تھا اور وہ پہلے کتابوں میں لکھا جا چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بھارت سے تعلقات میں بہتری کے لئے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی نمائندے شہریار خان نے پاکستان ہائی کمیشن میں اپنی کتاب ”کرکٹ کالڈرن دی ٹریولنٹ پولیٹکس آف سپورٹس ان پاکستان“ کے اجراء کے موقع پر پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ وہ میچ فکسنگ اور میچ فکسنگ سینڈیکیٹس کے حوالے سے بات کررہے تھے جو مڈل ایسٹرن ملکوں سے آپریٹ کرتا ہے اس کی زیادہ تر برانچیں بھارت اور کچھ پاکستان میں ہیں۔ مجھ سے داؤد ابراہیم کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے صرف وہی کچھ کہا جو پہلے رپورٹ ہو چکا تھا۔ بھارتی میڈیا نے مجھ سے بیان غلط منسوب کیا اور توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ شہریار خان نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی حتیٰ کہ سیکرٹری خارجہ کی حیثیت یا اب یہ نہیں کہا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ داؤد ابراہیم کہاں رہتا ہے۔ مجھے اس کا کوئی علم نہیں اور نہ یہ میرا دائرہ کار ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ کرکٹ ”نوبل گیم“ ہے لیکن کرپشن کے ایشوز نے اسے بدنام کردیا ہے۔ اس کو اب روکنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان بھی اس سے متاثر ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کرپشن کا گھڑ بن چکی ہے لیکن یہ ایک مستحکم تصور ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھارت کی اقتصادی قوت کے تناظر میں اس کے خلاف ایکشن لینے سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شارجہ میں نہ کھیلے کیونکہ خدشہ ہے کہ میچز کے فکس کئے جاتے ہیں لیکن اس کے کوئی شواہد نہیں ہیں لیکن دوسری جانب آئی پی ایل میں جو کچھ ہوا وہ شرمناک اور ہلا دینے والا ہے۔ کھلاڑی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جو اس کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا پھیلا ہوا ہے لیکن آئی سی سی کوئی ٹھوس ایکشن لینے میں ناکام رہی ہے۔