مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کرکٹ نوبل گیم ہے لیکن کرپشن کے ایشوز نے اسے بدنام کردیا گیاہے: شہریار خان
لندن... برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریار خان نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے داؤد ابراہیم کے حوالے سے میرا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ صرف میڈیا کی رپورٹ پر مبنی تھا اور وہ پہلے کتابوں میں لکھا جا چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بھارت سے تعلقات میں بہتری کے لئے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی نمائندے شہریار خان نے پاکستان ہائی کمیشن میں اپنی کتاب ”کرکٹ کالڈرن دی ٹریولنٹ پولیٹکس آف سپورٹس ان پاکستان“ کے اجراء کے موقع پر پاکستانی میڈیا سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ وہ میچ فکسنگ اور میچ فکسنگ سینڈیکیٹس کے حوالے سے بات کررہے تھے جو مڈل ایسٹرن ملکوں سے آپریٹ کرتا ہے اس کی زیادہ تر برانچیں بھارت اور کچھ پاکستان میں ہیں۔ مجھ سے داؤد ابراہیم کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے صرف وہی کچھ کہا جو پہلے رپورٹ ہو چکا تھا۔ بھارتی میڈیا نے مجھ سے بیان غلط منسوب کیا اور توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ شہریار خان نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی حتیٰ کہ سیکرٹری خارجہ کی حیثیت یا اب یہ نہیں کہا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ داؤد ابراہیم کہاں رہتا ہے۔ مجھے اس کا کوئی علم نہیں اور نہ یہ میرا دائرہ کار ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ کرکٹ ”نوبل گیم“ ہے لیکن کرپشن کے ایشوز نے اسے بدنام کردیا ہے۔ اس کو اب روکنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان بھی اس سے متاثر ہے۔ شہریار خان نے کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کرپشن کا گھڑ بن چکی ہے لیکن یہ ایک مستحکم تصور ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل بھارت کی اقتصادی قوت کے تناظر میں اس کے خلاف ایکشن لینے سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شارجہ میں نہ کھیلے کیونکہ خدشہ ہے کہ میچز کے فکس کئے جاتے ہیں لیکن اس کے کوئی شواہد نہیں ہیں لیکن دوسری جانب آئی پی ایل میں جو کچھ ہوا وہ شرمناک اور ہلا دینے والا ہے۔ کھلاڑی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جو اس کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنا پھیلا ہوا ہے لیکن آئی سی سی کوئی ٹھوس ایکشن لینے میں ناکام رہی ہے۔