مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ملین مارچ کشمیریوں کیلئے چیلنج ہے، دانشمندی کا تقاضا ہے کہ اسے کامیاب بنایا جائے: ناٹنگھم میں اجلاس
ناٹنگھم ... سابق وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کہا ہے کہ 26 اکتوبر کو لاکھوں لوگ کشمیر ملین مارچ لندن میں شریک ہو کر بھارت کی اشتعال انگیزیوں کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام جو بھارتی جبر استبداد کا شکار ہیں ان سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ لہٰذ ا کوئی بھی غیرت مند کشمیری اس دن گھر نہ بیٹھے اور ملین مارچ میں شریک ہو۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ناٹنگھم میں پیپلز پارٹی برطانیہ کے سابق صدر حسن بخاری کی جانب سے ملین مارچ کے حوالے سے منعقدہ جلسہ سے خطاب میں کیا۔ جس میں حسن بخاری نے ملین مارچ لندن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور اس موقع پر موجود لوگوں سے ہاتھ کھڑے کرا کے مارچ میں شرکت کا اعلان کرایا۔ اجلاس سے سابق ممبر اسمبلی راجہ منشی، بیرسٹر سلطان کے معتمد ساتھی چوہدری خادم حسین، وزیر اعظم آزاد کشمیر کے مشیر چوہدری منظور حسین گافا، تحریک انصاف آزادکشمیر کے سابق صدر مصدق خان، ضیاء الحق گورسی، ڈاکٹر مقصود ابدالی، سابق لارڈ مئیر گلنواز، ادریس، لبریشن فرنٹ کے علی اصغر چوہدری مہربان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر مقصود ابدالی نے اپنی جانب سے ملین مارچ میں شرکت کیلئے دس کوچز لندن بھیجنے کا اعلان کیا۔ لبریشن فرنٹ کے علی اصغر نے بھی اعلان کیا کہ تمام نظریاتی تنظیمیں بھی ملین مارچ لندن میں بھرپور شرکت کریں گی۔ دیگر مقررین نے کہا کہ یہ مارچ برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اسلئے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ بغیر کسی تعصب اور عناد کے اسے کامیاب بنایا جائے۔