مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امن کیلئے پاک بھارت ملکر اقدامات کریں‘ نوبل انعام کے اعلان کےبعد ملالہ کی پریس کانفرنس
برمنگھم ... نوبل انعام کیلئے دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت کا اعزاز حاصل کرنے والی پاکستانی ملالہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ تعلیم ہتھیاروں سے زیادہ موثر ہے- ہمیں دنیا میں امن کے قیام کیلئے ایک دوسرے کی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے علم کی روشنی جتنی دور تک پھیلے گی اتنا زیادہ اندھیرا دنیا سے چھٹے گا۔ برطانوی شہر برمنگھم میں مقیم ملالہ یوسف زئی نے دنیا کے اس اہم ایوارڈ کے اعلان کے بعد سینٹرل لایئبریری میں سہہ پہر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ وہ سکول میں تھیں جب انہیں یہ خوشی کی خبر ملی۔ ملالہ نے اس موقع پر زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی میں والدین کی دعائیں اور پاکستانی عوام کی محبت شامل ہے ملالہ یوسفزئی نے تین مختلف زبانوں انگلش، اردو اور پشتو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے فروغ کیلئے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن ضروری ہے - بهارت اور پاکستان کو چاہیے کہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے مل بیٹھ کر اقدامات کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکے- ملالہ یوسفزئی نے کہاکہ پہلے ارادہ تها کہ ڈاکٹر بنوں گی لیکن پیش آنے والے حالات و واقعات کے بعد اب فیصلہ کیا ہے کہ سیاست دان بنوں گی- بھارت کے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ مشترکہ طور پر امن کا نوبیل انعام جیتنے والی پاکستان کی ملالہ یوسفزئی نے خواہش ظاہر کی کہ جب ان دونوں افراد کو ایوارڈ ملے تو بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اس پروگرام میں موجود ہوں۔ ملالہ نے کہا کہ میں رواداری اور تحمل پر یقین کرتی ہوں اور دونوں ہی ملکوں کی ترقی کے لیے یہ کافی اہم ہے کہ وہاں امن ہو اور دونوں کے رشتے اچھے ہوں۔ اسی طرح سے وہ ترقی کر پائیں گے۔ اس سے پہلے جمعہ کے دن میں نوبیل امن انعام دینے والی کمیٹی نے ستيارتھي اور ملالہ کو 2014 کا امن کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بھارت اور پاکستان کو تعلیم اور ترقی کے میدان میں اہم اقدامات کرنے کی توفیق ملے گی۔ ملالہ نے کیلاش ستيارتھي کے ساتھ اپنا انعام اشتراک کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کیلاش ستيارتھی کے ساتھ پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے بارے میں بھی بات کی۔ پاکستان کی وادئ سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی مہم چلانے کے لیے شدت پسندوں کی گولی کا نشانہ بنی ملالہ بتاتی ہیں کہ وہ کیلاش ستيارتھي کے کام سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ نوبیل امن انعام سے بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے کی ترغیب اور حوصلہ ملا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ دنیا کا ایک ایک بچہ اسکول جائے۔ پریس کانفرنس میں برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور برمنگھم میں تعینات قونصلر جنرل شیر بہادر خان کیساتھ مل کر ملالہ کو حکومت پاکستان کی طرف مبارکباد پیش کی۔ پاکستانی ہائی کمشنر ابن عباس نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی کو ملنے والا نوبل انعام پورے ملک اور قوم کیلئے اعزاز ہے جسے ہم انتہائی خوشی اور جوش و جذبے سے پذیرائی کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ملالہ کو نوبل انعام ملنے کی خبر تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ملالہ کو نوبل انعام ملنے سے پاکستان کا بہتر امیج بھی دنیا کے سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن بچوں کو تعلیم دینے کیلئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ قوم کی عظیم بیٹی ہیں۔ ان پر ساری قوم کو فخر ہے۔