مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انگریزی کے بعد مانچسٹر میں سب سے زیادہ مقبول زبان اردو :تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف
مانچسٹر... مانچسٹرشہرکودنیا کا پہلا صنعتی شہر ہونے کا اعزازحاصل ہے جس کی ترقی وارتقاء کا عمل انیسویں صدی میں تارکین وطن کی آمد سے شروع ہوا۔ ایک مطالعاتی جائزے میں مانچسٹر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ ، پانچ لاکھ سے کم آبادی رکھنے کے باوجود اسے دنیا کا تیسرا بڑاکثیرالثقافتی معاشرہ رکھنے والا شہربتایا گیا ہے جہاں لگ بھگ 200 زبانیں بولی جاتی ہیں۔​ ملٹی کلچرل مانچسٹر پراجیکٹ نامی مطالعاتی جائزے سے حاصل ہونے والے نتیجے کے مطابق پیرس اور نیویارک کے بعد مانچسٹرشہر کو سب سے زیادہ متفرق نسلوں سےتعلق رکھنے والوں کا شہر قرار دیا گیا ہے جہاں مختلف تہذیب وتمدن اور ثقافتوں کے حامل افراد سینکٹرں زبانیں بولتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مانچسٹرمیں رہنے والے تارکین وطن جو مقامی زبانیں بولتے ہیں ان کی تعداد لگ بھگ دو سو کے قریب ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انگریزی کے بعد مانچسٹر میں سب سے زیادہ مقبول زبان اردو ہے جبکہ یہاں نائیجریا کی ایک مقامی زبان ایلما کے بولنے والے بھی آباد ہیں۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ایلما زبان بولنے والوں کی تعداد محض 3000 کے قریب ہے۔مانچسٹر میں درجنوں ایسی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جنھیں دنیا کی قدیم زبانیں کہا جاتا ہے جو اب شاذونادر ہی سنائی دیتی ہیں۔ ان میں ساؤتھ افریقہ کی زولو، آزٹیکس اور ناواٹیل زبانیں اورافغانستان کی دری زبان بھی شامل ہے۔ مانچسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر اوررپورٹ کے مصنف یارن میٹریس کے مطابق مانچسٹر کی چالیس فیصد نوجوان آبادی اور پچاس فیصد بالغان ایک سے زیادہ زبانیں بولنا جانتے ہیں اور 80 فیصد آبادی انگریزی زبان بولنا جانتی ہے جبکہ محض تین فیصد لوگ انگریزی زبان نہیں بول سکتے۔