مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اوورسیز پاکستانی
پاکستان کے افغانستان سے تعلقات ہمیشہ برادرانہ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت و احترام کا ایک مضبوط رشتہ استوار ہے لیکن بعض سیاسی اوتار چڑھائو کے باعث حکومتی سطح پر ان مضبوط روابط کو کمزور کرنے کی اندرونی و بیرونی سطح پر سازشوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری رہا ہے چند ماہ قبل اے آر وائی نیوز کے نامور صحافی فیض اللہ خان اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران غلطی سے افغانستان علاقہ میں داخل ہو گئے تو انہیں غیر قانونی داخلے کی وجہ سے حراست میں لے لیا گیا متعلقہ حکام نے جلد ی جلدی قانونی کارروائی کر کے ایک معمولی سی غلطی کے الزام میں فیض اللہ خان کو چار سال کی سزا دلوا دی،حیران کن طور پر افغانستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سزا پر نا خوش تھے اور ان کی کوششیں رہیں کہ اس غلطی کی کم از کم سزا عمر قید کی صورت میں ہونی چاہئے۔ اس دوران فیض اللہ خان کی اہلیہ محترمہ نے اے آر وائی کی انتظامیہ کے ذریعے حکومتی اداروں کے دروازے پر دستک دینا شروع کی اور وزارت خارجہ سمیت پی پی پی کے رحمن ملک نے بھی اپنا حکومتی و ذاتی اثر و رسوخ استعمال کیا لیکن فیض اللہ خان کی رہائی کی امید ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ساتھ دھندلانے لگی پاکستان کی صحافتی تنظیموں نے بھی حکومت پر اپنا دبائو جاری رکھتے ہوئے اپنے ہم پیشہ ساتھی کی رہائی کیلئے جدو جہد جاری رکھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فیض اللہ خان رہا ہو کر بخریت اپنے خاندان تک پہنچ گئے لیکن اس کی رہائی کی جدو جہد میں پاکستان کے اندر کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک آباد ان کے صحافتی ساتھیوں نے بھی کوششیں جاری رکھیں،برمنگھم میں اے آر وائی کے نمائندے زاہد خٹک نے نہ صرف فیض اللہ کی فیملی کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا بلکہ اپنے میڈیا گروپ کے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ملالہ یوسف زئی سے کئی دفعہ رابطہ اور ملاقاتوںکا سلسلہ بھی جاری رکھا،ملالہ یوسف زئی اور ان کے والد نے افغان صدر حامد کرزئی سے اپنے ذاتی تعلقات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ایک تفصیلی خط افغان سفاتخانہ لندن کے ذریعے لکھا بلکہ ذاتی طور پر بذریعہ فون حامد کرزئی سے فیض اللہ خان کی رہائی کی ذاتی درخواست بھی کی جس کے جواب میں حامد کرزئی نے چند دنوں میں رہائی کا وعدہ کیا جس کے بعد بقول فیض اللہ خان ایک روز بغیر کسی طے شدہ پیشگی کہ انہیں ایک عدالت میں پیش کیا گیا جس میں انکی جانب سے کوئی وکیل بھی موجود نہ تھا جب کے جج نے بغیر کسی درخواست کے انہیں فوری طور پر رہائی ک حکم بھی جاری کر دیا،کم و بیش چار ماہ تک جلال آباد جیل میں قید رہنے والے فیض اللہ خان نے افغان سرحد کو خیر آباد کیا اور پاکستان علاقہ میں داخلے کے فوری بعد ملالہ یوسف زئی اور ان کے والد کا شکریہ ادا کیا اس طرح ایک اوورسیز پاکستانی صحافی اور طالبان کے مظالم کا شکار ملالہ یوسف زئی نے ایک پاکستانی صحافی کو عید قربان سے قبل آزادی کا تحفہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے وطن عزیز کے ہر شعبہ زندگی سے وابستہ عوام کیلئے ہمیشہ امن و سکون اور خوش حالی کی فراہمی کیلئے خدمات انجام دی جاتی ہیں۔