مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سابق حریف ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے یورپی پارلیمنٹ کے مستقبل کے لئے یکجا ہو گئے
برسلز ...یورپی پارلیمنٹ کے صدر کے عہدے کی دوڑ کے سابق حریف اس ہفتے ماضی کی تلخیوں کو دفن کرنے اور پارلیمنٹ کے مستقبل پر توجہ مرکوز کرنے بالخصوص شفاف کاری بہتر بنانے کے لئے یکجا ہو گئے۔ یورپی پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شلز نے برطانوی پاکستانی ایم ای پی ڈاکٹر سجاد کریم کو دوسری بار ایم ای پیز کے لئے ضابطہ اخلاق پر اپنی مشاورتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔ یہ کمیٹی جو 2012 میں قائم کی گئی، کے چیئرمین کے عہدے پر دہری شہریت کے حامل ڈاکٹر سجاد دوسری مدت کے لئے بھی کام کرتے رہیں گے۔ صدر کے پرائیویٹ آفس میں ملاقات کے دوران دونوں نے ثمرآور تبادلہ خیالات کیا جس کا ماحول پرسکون رہا۔ ملاقات کے بعد ڈاکٹر سجاد کریم نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے صدر کی طرف سے اخلاقیات اور شفاف کاری کی نگرانی کرنے والی صدر کی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر دوبارہ تقرری میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے ایم ای پیز کے مالی مفادات کے ڈیکلریشن تک شہریوں کا زیادہ رسائی دینے کے لئے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ یہ تمام ڈیکلریشن آن لائن شائع کئے جاتے ہیں اور ایم ای پیز کو زیادہ معلومات دینا پڑتی ہیں جیسے کسی تیسرے فریق سے وصول کی جانے والی رقوم ڈکلیئر کرنا وغیرہ۔ مشاورتی کمیٹی پانچ ایم ای پیز کے ساتھ دو ریزور ایم ای پیز پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر سجاد کریم کمیٹی میں خدمات انجام دینے والے واحد شخص ہیں جو دہری رکنیت کے حامل ہیں۔ ضابطہ اخلاق یکم جنوری 2012 کو نافذ کیا گیا اور یہ ایم ای پیز کے اخراجات اور بیرونی مفادات پر مزید معلومات آن لائن شائع کرنے کے لئے خاصا کام کر چکا ہے۔ شہری بہتر رسائی کی بدولت اب یہ دیکھ سکتے ہیں ان کے ایم ای پیز پارلیمنٹ سے باہر کیا کر رہے ہیں۔