مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ہاں ہم برطانیہ کیساتھ رہنا چاہتے ہیں، سکاٹ لینڈ کے عوام نے یکجہتی کیلئے ریفرنڈم جیت لیا
ایڈنبرا ... سکاٹ لینڈ کے باسیوں نے گذشتہ روز ہونے والے ریفرنڈم میں اکثریت کیساتھ فیصلہ دیدیا ہے کہ وہ برطانیہ کیساتھ رہنے کے حامی ہیں۔ برطانیہ کی تینوں بڑی پارٹیوں کنزرویٹیو، لیبر اور لب ڈیم کے رہنمائوں کی انتھک محنت رنگ لائی اور سکاٹ لینڈ کے سولہ سال کی عمر کی ووٹر جو پہلی دفعہ حق رائے دہی کا استعمال کر رہے تھے کے واضع علیحدگی جکھائو کے باجود سینئرز کی بڑی تعداد نے علیحدگی کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلیکس سیمنڈ نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرینڈم کے نتائج کے بعد خطاب میں کہا ہے کہ انھیں اس بات پر خوشی ہوئی ہے کہ برطانیہ متحد رہے گا اور اضافی اختیارات دینے کے وعدوں کا احترام کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود تین مرکزی جماعتیں اب سکاٹش پارلیمنٹ کو زیادہ اختیارات کے عزم کو قابل عمل بنانا ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ اب ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان وعدوں کا مکمل احترام کیا جائے گا۔ اس ریفرینڈم میں جیت کے لیے فریقین کو جیتنے کے لیے کُل 1,822,942 درکار تھے۔ 32 کونسلز میں سے 26 نے ’نہ‘ کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اس طرح اس کو 55 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں جبکہ ’ہاں‘ کے حق میں 45 فیصد پڑے ہیں۔ تمام کونسلز کے نتائج آ چکے ہیں اور ان میں 2,001,926نے ’نہ‘ جبکہ 1,617,989 نے ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ دیا۔ پہلے 24 نتائج میں سے صرف چار کونسلز نے ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ دیا۔نتائج کے بعد اب سکاٹ لینڈ کو زیادہ اختیارات دینے کے بارے میں بات چیت ہو گی۔ نتائج کے اعلال کے بعد جہاں اکٹھے رہنے کے حامیوں نے فتح کا جشن منایا وہیں علیحدگی پسندوں پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اور نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر فیس بک اور ٹویٹر کے ذریعے اپنے جلے بھنے جزبات کا کھل کر اظہار کیا۔