مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہوشمندی کے تقاضے
بھارتی وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اب اس قابل نہیں کہ بھارت سے کوئی روایتی جنگ لڑ سکے۔ان کی اس بیان کے ساتھ ہی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بھی ایک دم سے بڑھ گیا اور پاکستان سے تجارتی مراسم بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار بھی دم توڑتا دکھائی دینے لگا۔یوں لگتا ہے کہ مودی صاحب خود کو یہ بات باور کرا چکے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ بحران پاکستان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا اور یہ کہ بھارت کو اب پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے پر مزید وقت اور سرمایہ ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ایک پرانا اصول یہ ہے کہ بد خواہ ہمیں مشکل میں دیکھ کر ہمیشہ خوش ہوں گے اور خیر خواہی اور بد خواہی جانچنے کی اس سے بہتر کسوٹی اور کوئی نہیں۔پاکستان سر دست جس سیاسی بحران سے گزر رہا ہے،یقین کیجئے کہ قوموں کی زندگی میں ایسے بحران آتے رہتے ہیں۔ایسی صورتحال میں نہ تو ملک ختم ہو جاتے ہیں نہ ہی قوموں کا وجود خطرے میں پڑتا ہے۔تاہم عارضی نوعیت کے نقصانات ضرور ہوتے ہیں۔بات چیت ،مذاکرات،گفتگو اور باہمی مشاورت کے ذریعے ان نقصانات سے بچنے کا راستہ بھی نکل آتا ہے اور بہتری کے امکانات بھی،ضرورت صرف اور صرف ہوشمندی کی ہوتی ہے۔گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں چلائے جانے والے تیر بہت کم نشانے پر بیٹھتے ہیں۔میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف،عمران خان صاحب اورعلامہ قادری صاحب میں سے کوئی ایک بھی نہ تو پاکستان کا دشمن ہے نہ ہی پاکستان کا بد خواہ،غلطیاں،کوتاہیاں انسان ہونے کے ناطے ہمارے میکنیزم کا حصہ ہوتی ہیں۔کسی غلط رویے یا غلط فیصلے کی بنا ء پر ہم کسی بھی فرد،ادارے یاجماعت کو ملک و قوم کا بد خواہ نہیں دے سکتے۔ملک میں جا ری سیاسی افراتفری بہت جلد اختتام پذیر ہو جائیگی،معاملات یقینا کوئی مثبت رخ اختیار کر لیں گے لیکن ہم سب کے پیش نظر یہ حقیقت ضرور رہنی چاہئے کہ اس دوران کوئی ایسا نقصان نہ ہو جائے جس کا ازالہ ہمارے لئے ممکن نہ رہے۔ حالیہ سیاسی بحران کے دوران ایک نقصان یہ ضرور ہوا کہ اس انتہائی بلکہ خالصتاً سیاسی معاملے میں ہمارے عسکری اداروں کو بلا وجہ نہایت بے دردی سے گھسیٹا اور رکیدا گیا۔ٹی اینکرز سے لیکر ہر درجے اور ہر قبیل کے مختلف سیاستدانوں نے،معاملے کے پس منظر میں فوج اور آئی ایس آئی کی موجودگی ثابت کرنے کیلئے ایسے ایسے دلائل دیئے کہ عقل دنگ رہ گئی۔ان معاملات کے بیچ ایک موقع ایسا بھی آیا جب حکومت نے صورتحال کی پیچیدگی اور الجھائو کے خاتمے کیلئے عسکری ذمہ داران سے بھی رائے لی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ عسکری ادارے اس صورتحال کو سلجھانے میں کس حد تک معاون و مددگار ہو سکتے ہیںانگریزی زبان کا ایک لفظ Facilitatorبھی اس دوران خاص و عام میں بہت مقبول ہو گیا۔صاحبان علم نے اس لفظ کے معانی و مفہوم کی تشریح اور وضاحت میں نہ جانے کیسی کیسی ڈکشنریاں کھود ڈالیں مگر انجام کیا ہوا صرف اور صرف بدنامی اور رسوائی۔جاوید ہاشمی صاحب نے تو یہ کہہ کر سارے پردے ہی چاک بلکہ لیر دلیر کر دئیے کہ عمران خان صاحب نے اپنے کندھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئےBadgeوالوں کا حوالہ دیا کہ وہ اس معاملے میں ہمارے ساتھ ہیں۔معلوم نہیں کیا سچ ہے کیا جھوٹ لیکن فوج کو اس معاملے میں گھسیٹنے کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کے دشمنوں کو ہمارے عسکری اداروں کو بدنام کرنے کا ایک اور موقعہ ہاتھ آ گیا۔گزشتہ دس بارہ برس سے امریکہ اسرائیل اور بھارت مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح آئی ایس آئی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر ممکنہ حد تک پابندیاں عائد کر دی جائیں۔اسامہ بن لادن کی نام نہاد بازیابی کے بعد اس مہم نے اور بھی زور پکڑ لیا۔بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کے ظلم و ستم کے ستائے ہوئے نارتھ ایسٹرن ریاستوں کے عوام کا احتجاج ہو یا پھر ممبئی دھماکوں کا معاملہ،افغانستان میں نیٹو فورسز کے خلاف افغان عوام کی نفرت ہو یا پھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم کے خلاف جاری کشمیری عوام کی تحریک،آئی ایس آئی کو ہر منظر کے پس منظر میں فریم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان مخالف قوتوں کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی کو ناکارہ کئے بغیر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔اسی لئے امریکہ اور بھارت میڈیا وار کے ذریعے پاکستان کے اس اہم ترین محافظ ادارے کو بدنام کرنے کیلئے ہر ممکن راستہ تلاش کرنے میں ہمیشہ مصروف دکھائی دیتے ہیں۔حکومت پاکستان نے ہر دور میں اس بین الاقوامی سازش کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔لیکن جب ہمارے اپنے سیاسی راہنما محض سنی سنائی باتوں اور اندازوں کو بنیاد بنا کر خود ہی اس ادارے کی طرف انگلی اٹھانا شروع کر دیں گے تو ملک دشمنوں کے ہاتھ ایک ٹھوس جواز آ جائے گا۔ ریاستی ادارے،حکومتی مشینری کا حصہ ہوتے ہیں،ہر ادارے کا اپنا کام اپنی ذمے داری،بعض دفعہ حکومتی ضروریات یا پھر ریاستی ترجیحات کے پیش نظر کچھ اداروں کو اپنی معمول کی ذمے داریوں سے کچھ بڑھ کر بھی کام کرنا پڑ جاتا ہے،ایسے میں غیر ذمے دارانہ بیانات،تبصروں اور تحریروں کے ذریعے صورتحال کو من چاہے رنگ میں رنگنا تحریر و تقریر یا پھر آزادی و اظہار کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہوتا ہے،سکیورٹی ادارے بھی حکومتی مشینری کا حصہ ہوتے ہیں۔ملکی سلامتی اور قومی مفاد میں ان اداروں سے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے استفادہ کرنا حکومت کا حق ہوتا ہے،ملک کی موجودہ الجھی ہوئی صورت حال میں پاکستان آرمی نے جس پر خلوص اور ہمدردانہ انداز میں حکومت پاکستان کی خواہش پر معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی وہ بلا شبہ قابل ستائش بھی ہے اور ایک قابل تقلید مثال بھی لیکن چند نام نہاد تجزیہ کار مسلسل اس جدو جہد میں مصروف ہیں کہ کسی طرح حکومت کو یہ احساس دلا دیں کہ ایک سیاسی معاملے کو سلجھانے میں فوج کے سپہ سالار کو اہمیت دینا کوئی بہت بڑی سیاسی شکست ہے۔اسے ہماری قومی بد نصیبی کہیے یا پھر حالات کی ستم ظریفی کہ ہمارا جمہوریت پذیر معاشرہ ایک غیر محسوس انداز میں کچھ ایسے پلانٹڈToolsکی لپیٹ میں آ گیا ہے کہ جن کا کام ہی صرف اور صرف فوج کو بدنام اور رسواء کرنا ہے۔یہ ملکی اور غیر ملکی ساختہToolsہر لمحے موقعے کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کسی طرح افواج پاکستان کو غیر معتبر اور متنازعہ بنانے کا امکان ہاتھ آ جائے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ماضی میں چند جرنیلوں کی ذاتی خواہش نے فوج کو اقتدار کے جھمیلوں میں الجھا کر سنگین غلطی کی۔اس غلطی کا شاخسانہ ہے کہ آج پاکستان میں فوج اور جمہورت کو دو متضاد قوتوں کے طور پر موضوع گفتگو بنایا جاتا ہے۔فوج کا کام حکومت کرنا نہیں،تاہم حکومت کی خواہش پر مددگاری اور سہولت کاری بحرحال فوج کے فرائض میں شامل ہے۔پاکستان آرمی نے ہمیشہ ہر کٹھن وقت میں قوم کا ساتھ دیا ہے۔سرحدوںکی حفاظت سے لے کر قدرتی آفات میں گھرے پاکستانیوں کی خیال داری تک،فوج کا کردار ہمیشہ لائق تحسین رہا ہے،اور سچ پوچھیں تو ان زمانوں میں بھی کہ جنہیں ڈکٹیٹر شپ کا زمانہ کہا جاتا ہے فوج کی عوام میں مقبولیت کبھی کم نہیں ہو سکی۔گزشتہ چند ماہ سے جاری آپریشن ضرب عضب اور اس آپریشن کے نتیجے میں در بدر ہونے والےIDPsکی آبادکاری کے معاملے میں بھی فوج نے ایک مثالی کردار ادا کیا ہے۔ہمارے خیال میں فوج کو نہ تو اقتدار کی ضرورت ہے نہ کسی اور اختیار کی،فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کا نقصان پوری قوم کو ہو گا،فوج اور آئی ایس آئی نہایت ہیProfessionalقسم کے ادارے ہیں،ان اداروں کی صلاحیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور اس صلاحیت سے خوفزدہ بھی دکھائی دیتی ہے،ہمیں اس تاثر کو زائل کرنے کی بجائے اس تاثر کو مضبوط تر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اسلام آباد میں جاری موجودہ پریشان کن صورتحال سمجھداری کے ساتھ ساتھ سبک روی کی بھی متقاضی ہے۔جو کام پہلے دن کیا جانا چاہئے تھا اگر دسویں دن کیا جائیگا تو بے ثمری ثابت ہو گا۔دوا وقت پر کی جائے اور پرہیز بھی صحیح وقت پر شروع کیا جائے تو مریض کو فائدہ ہو گا،ورنہ ڈاکٹر کے پاس ہمیشہ ایک ہی جواب ہو گا،آپ نے بہت دیر کر دی۔اب صرف دعا ہی کوئی معجزہ دکھا سکتی ہے۔