مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
حالات اور خدشات کے پیش نظر فوج کو صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا حکم
اسلام آباد... ملک کو درپیش حالات کے تناظر میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمّد نواز شریف نے فوج کو صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے وزیراعظم کی ہدایت کے بعد فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دریائے چناب میں بھارت کی طرف سے بڑے پیمانے کا پانی چھوڑے جانے کے بعد وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممکنہ سیلاب کی صوتحال پر کڑی نظر رکھیں۔ عوام کو تازہ ترین صورتحال سے باخبر رکھا جائے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ وزیراعظم نے ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر فوج کو بھی تیار کا حکم دیا ہے۔ فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لئے مکمل طور پر تیار ہوگی۔پاکستان ایک طرف سیلاب جیسی قدرتی آفت سے نبرد آزما ہے تو دوسری طرف ہمسایہ ملک بھارت سرحدی کشیدگی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑ رہا بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر دلی میں لال قلعہ کے باہر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ امن کی آشا رکھنے والے وزیراعظم زہریلی بھاشا بولتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوجیوں پر حملے کیے گئے۔ منموہن سنگھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذاکرات کے لئے سرحدی قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔ بھارتی وزیراعظم نے یہ پرانی رٹ بھی دہرائی کہ پاکستان اپنی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور ایسے واقعات روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔