مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سازشوں کے جال
امید اور یقین میں بہت فرق ہوتا ہے۔امیدمیں ہونے اور نہ ہونے،دونوں کا امکان ہوتا ہے جبکہ یقین کسی بھی قسم کے شبے سے پاک کیفیت کا نام ہے۔امید انسانوں سے وابستہ کی جاتی ہے جبکہ یقین اس سے کہیں بالا تر منز ل کا نام ہے۔یقین حصول منزل کی ضمانت ٹھہرتا ہے جبکہ امید کا آغاز سفر کیلئے ہماری معاون و مدد گار ثابت ہوتی ہے۔جس وقت آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا،لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوال تھے،ا س آپریشن کا انجام کیا ہو گا،نتیجہ کیا نکلے گا،کیا اس آپریشن کے بعد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا اور یہ کہ کیا اس آپریشن میں اچھے اور برے عسکریت پسند کی نام نہاد تقسیم کو مٹانا ہمارے عسکری اداروں کیلئے ممکن ہو گا۔لیکن ان تمام سوالوں سے قطع نظر،ہمارے عسکری اداروں کے پاس یقین کی قوت تھی کہ یہ آپریشن ہر اس قوت کیلئے موت کا پیغام ثابت ہو گا جو دہشت گردی کا لبادہ اوڑھ کر اس ملک کو اقتصادی،معاشرتی اور معاشی طور پر نیست و نابود کرنے کی خواہش مند تھی،یہ آپریشن ہمارے عسکری اداروں کا دیرینہ مطالبہ بھی تھا اور ان کی خواہش بھی،رکاوٹ صرف یہ تھی کہ عسکری ادارے یہ آپریشن پاکستان کی سیاسی حکومت کی معاونت اور رضا مندی سے کرنا چاہتے تھے تاکہ پاکستان کے بد خواہ اس آپریشن کو عسکری اداروں اور جمہوری قوتوں کے درمیان فاصلے اور دوری کی مثال کے طور پر Exploitنہ کر سکیں۔فوج اور سیاسی حکومت کو ایک دوسرے کے مد مقابل دیکھنا پاکستان کے بد خواہوں کا ایک دیرینہ خواب بھی ہے اور شدید آرزو بھی۔لیکن جمہوریت کے تحفظ کے مصمم ارادے کے حامل ہمارے عسکری اداروں نے بد خواہوں کے اس خواب کو تعبیر نہ ہونے دیا۔آپریشن ضرب عضب کا آغاز بھی ہو گیا اور کامیابیوں کے حصول کی ابتدا بھی،ساری قوم نے یک جان ہو کر حکومت اور عسکری اداروں کو یہ احساس بھی دلا دیا کہ قوم اس کاوش میں اپنے محافظوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوئی ہے لیکن ان تمام حقائق کے باوجود بد خواہوں کی کینہ پروری کے جذبے میں رتی برابر بھی کمی نہیں آسکی۔مغربی اور بھارتی میڈیا آج اسی پراپیگنڈے میں مصروف ہے کہ یہ آپریشن ان عسکریت پسندوں کے خلاف نہیں جنہیں پاکستان کی عسکری قوتیں،اچھے طالبان ،قرار دیتی ہیں۔گزشتہ ہفتے شمالی وزیر ستان کے علاقوں خیبر ایجنسی اور دتہ خیل میں پاک فضائیہ نے عسکریت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ بمباری کی جس کے نتیجے میں48سے زائد عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔جس عمارت کو نشانہ بنایا گیا،اطلاعات کے مطابق وہ عمارت طالبان راہنما گل بہادر کا گھر تھی۔عسکری اداروں کو خبر ملی تھی کہ اس عمارت میں طالبان راہنمائوں کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں گل بہادر اور مولوی فضل اللہ بھی موجود ہیں۔اسے اتفاق کہئے یا قسمت کی مہربانی کہ گل بہادر اس بمباری سے کچھ پہلے اس اجلاس سے باہر چلا گیا۔بمباری کے نتیجے میں گل بہادر کا گھر بالکل تباہ ہو گیا۔یقیناً یہ پاک فضائیہ کی ایک نہایت کامیاب کارروائی تھی لیکن مغربی اور بھارتی میڈیا نے گل بہادر کے بچ نکلنے کو ایک باقاعدہ سازش قرار دیتے ہوئے شور مچانا شروع کر دیا کہ گل بہادر کا شمار پاکستان کے فیورٹ طالبان میں ہوتا ہے،اس لئے دنیا کو دھوکہ دینے کیلئے گل بہادر کے گھر پر حملہ بھی کیا گیا اور اس حملے سے پہلے خبر بھی کر دی گئی۔کچھ اس نوعیت کا پراپیگنڈا نہایت شدت کے ساتھ حقانی نیٹ ورک کے بارے میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ہمارے امریکی اور بھارتی خیر خواہ نہ جانے کیوں اس حقیقت سے شعوری نا آشنائی کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو اس وقت دنیا کہ ان خطر ناک ترین انتہا پسندوں کا سامنا ہے جنہیں امریکہ اور اس کے حواری افغانستان میں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکے اور ان انتہا پسندوں میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو افغانستان میں اس قدر بے بس کر دیا کہ افغانستان ان غیر ملکی سورمائوں کے لئے قبر ستان بن گیا،اور اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے باہر نکلنے کیلئے آسان راستہ ملنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ایک اور اہم بات یہ کہ پاکستان میں مصروف عمل دہشت گردوں کو ہمارے قریب ترین اور موسٹ فیورٹ ہمسائے بھارت کی بھی بھرپور مدد اور تعاون بلکہ آشیر باد حاصل ہے۔اگر سچ پوچھیں تویہ اچھے طالبان اور برے طالبان کی تقسیم اور امتیاذ بھی بھارت کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے۔طالبان کبھی بھی کسی منفی قوت کا نام نہیں تھا۔دین کے مطابق،شریعت کی روشنی میں زندگی بسر کرنے کے سچے خواہشمندوں کو طالبان کے نام سے جانا جاتا تھا،بھارت نے امریکی معاونت سے ان طالبان کی صفوں میں اپنے ایجنٹوں کو شامل کیا،گروہ در گروہ تشکیل دیئے اور پھر ہر گروہ میں سرداری اور سربراہی کے نام پر لڑائی جھگڑے اورفساد کے کلچر کو فروغ دیا۔ان گروہوں کی آپس کی جنگوں نے پاکستان کو ایک ایسا میدان جنگ بنا دیا جہاں ہر لمحے قتل و غارت گری کاماحول گرم رہنے لگا۔پاکستان کیلئے یہ خون خرابہ بحر حال بربادی کا مستقل ذریعہ ثابت ہوا۔بات یہیں تک نہیں ٹھہری اس گروہی جنگ میں حصہ لینے کیلئے دنیا بھر کے دہشت گرد مختلف روپ دھار کر ان متاثرہ علاقوں کو نو مینز لینڈجان کر یہاں آبادہونے لگے قصہ مختصر یہ کہ صورتحال اتنی الجھا دی گئی کہ دین کے مطابق،شریعت کی روشنی میں زندگی بسر کرنے کے سچے خواہشمند کہیں پس منظر میں کھو گئے۔اب حقیقت یہ کہ تمام جنگجو پاکستان کیلئے ایک مسلسل خطرہ اور ایک مستقل آزمائش ہیں۔ان میں سے کوئی بھی نہ تو فوج کا فیورٹ ہے نہ حکومت پاکستان کا من پسند نہ ہی پاکستانی عوام کا محبوب۔بلکہ تلخ سچائی تو یہ کہ ان عسکریت پسندوں کی وجہ سے وہ تمام لوگ مشکل کا شکار ہیں کہ جو اپنی زندگی ایک سچے مسلمان کی طرح شریعت کے مطابق گزارنے کو ہی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اس ساری صورتحال کے تناظر میں،حکومت پاکستان کی اجازت اور خواہش پر پاکستان آرمی اپنی تمام تر صلاحیت اور بھرپور قوت کے ساتھ آپریشن ضرب عضب کو کسی منطقی انجام کی طرف لے جانے کیلئے کوشاں ہے۔ایسے میں پاکستان آرمی پر اچھے طالبان کو بچانے اور برے طالبان کو نشانہ بنانے کے الزامات محض معاملات کو الجھانے کی کوشش سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں۔ پاکستان اس وقت جس سیاسی افراتفری کے دور سے گزر رہا ہے،اس کے نقصانات پوری قوم پر مرتب ہونگے،اقتصادی مسائل سے ہٹ کر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بین الاقوامی بد خواہوں کو ہمارے خلاف نئی سازشیں کرنے کے نئے مواقع ہاتھ آ رہے ہیں۔حال ہی میں اقوام متحدہ نے سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کے خلاف چند برس قبل سری لنکن حکومت کی طرف سے کئے جانے والے آپریشن کلین اپ کو جنگی جرائم میں شمار کرتے ہوئے تحقیقات کیلئے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔سری لنکا کی حکومت اس تحقیقاتی کمیشن کو اپنے معاملات میں مداخلت قرار دے رہی ہے اور سارے سری لنکا میں اس تحقیقات کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق اس سہ رکنی تحقیقاتی کمیشن میں پاکستان کی نامور قانون دان اور ہیومن رائٹس کی نگہبان محترمہ عاصمہ جہانگیر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ مذکورہ کمیشن کو سری لنکن گونمنٹ اور عوام کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا،ایسے میں کسی پاکستانی کی اس کمیشن میں موجودگی پاکستان اور سری لنکا کے دیرینہ دوستانہ مراسم میں دراڑ ڈالنے کا باعث بن سکتا ہے۔اس بات کا بھی اظہار کیا جا رہاہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کا نام اس کمیشن میں بھارتی دبائو پر جان بوجھ کر شامل کیا گیا ہے تاکہ پاکستان اور سری لنکا کہ تعلقات کو خراب کیا جا سکے۔سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی تنظیم LTTEکو ابتدا ہی سے بھارت کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔سری لنکن اخبارات کے مطابق تامل ٹائیگرز کو سری لنکا سے ختم کرنے میں پاکستان نے سری لنکا کو بھرپور مدد فراہم کی تھی۔بھارت اس مدد کا بدلہ لینے کو بے چین ہے اور مذکورہ کمیشن میں ایک معتبر اور غیر متنازعہ شہرت کی حامل پاکستانی خاتون سماجی راہنما کا نام شامل کروانا بھارت کے جذبہ انتقام کی تسکین کا باعث ہو گا۔ہم پاکستانیوں کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا۔ہمارے ارد گرد ہمدردیوں اور خیر خواہوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ہم آنکھیں کھول کر آگے نہ بڑھے تو کسی دلدل میں دھنس جانے کا قوی امکان موجود ہے.