مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
نیا پاکستان چاہیئے مگر کیسا ؟
سیاسی کارکن پیپلز پارٹی کا ہو، ن لیگ کا، پی ٹی آئی کا یا کسی اور جماعت کا ۔۔۔۔ ملک و قوم کا وفادار ہے، اسے ملک کا درد ہے ‘اسکی پارٹی دو چار سال کیلئے اقتدار میں آجائے تو وہ اسی زعم میں وقت گذار دیتا ہے کہ لوگ اسے ایم این اے یا ایم پی اے کا بندہ سمجھتے ہیں۔ اقتدار سے پہلے بھی بیروزگار اور اقتدار مکمل ہونے پر بھی فاقہ زدہ اور مقروض ہوتا ہے، میں نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایسے لا تعداد کارکن اپنے آنکھوں سے دیکھے ہیں اور دوسری طرف چالیس چالیس سال تک ملکی وسائل پر جونک کی طرح چمٹے رہنے والی وہ جونکیں بھی تو ہیں جو کبھی گندہ خون چوسا کرتی تھی پھر حرص و ہوس بڑھی تو پہلے سارا خون گندہ کرتی ہیں اور پھر اسے چوستی رہتی ہیں حد تو یہ کہ ریٹائر ہونے کے بعد بھی ملک و قوم کی جان نہیں چھوڑتیں، ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ میر محفل مسکریا اور کہنے لگا: میں تمہیں اسی لئے دوسروں سے منفرد اور ذہین سمجھتا ہوں تم بات کو سمجھتے ہو، تمارے ملک کی فوج تمہیں لوٹ کر کھا گئی کبھی اقتدار ۔۔۔۔ اس نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ میں نے اسے روکا، حضور میں نے کب یہ کہا کہ یہ جونکیں میرے ملک کی فوج ہے، میرا اشارہ تو آپ جیسے بیوروکریٹس کی طرف ہے جو ٹی اے ڈی اے سمیت کرپشن کے ہر رنگ سے خود رنگنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں، کام ایک دھیلے کا نہیں اور محکموں کا بجٹ اربوں میں ۔۔۔۔ انہیں اور میزبان ڈاکٹر صاحب کے ساتھ بیٹھے دیگر بیوروکریٹس کو میری یہ بات انتہائی ناگوار گزری اور مجھے خوشی اس بات کی ہوئی کہ خود کو دانش ور سمجھنے والا ایک ڈائریکٹر جنرل جو بھارتی معیشت کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہا تھا، وہ بھی خاموش ہو گیا، اسلئے نہیں کہ اسے کوئی سانپ سونگھ گیا تھا بلکہ میری باتیں جاری تھیں اور میں انہیں ان کے کرتوت بتا رہا تھا، لندن میں انکی اولادوں کی سرکاری خرچے پر کی جانے والی عیاشیاں گنوا رہا تھا اتنی دیر میں آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے ہوئے اور سب نے فیصلہ دیدیا کہ اب کاسینو چلنے کا وقت ہوگیا ہے ڈنر وہیں ہوگا۔ ایج ویئر روڈ کے معروف جوئے خانے میں آرڈر دیتے وقت میزبان نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ راستے میں دو بندے کم ہوگئے ہیں۔ میں اور میرا دوست سو عیب رکھتے ہوں گے مگر ضمیر فروش نہیں، ہم ان میں سے نہیں جو پاکستان کی برائیاں سرعام سن کر ڈھیٹوں کی طرح ہنستے رہتے ہیں۔ ہم عیار اور چالاک بیوروکریٹس کے کرتوتوں سے خوب واقف ہیں جنہوں نے قوم کو غیر محسوس طریقے سے سے باور کردیا ہے کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ کی بات ہو تو اس کا مطلب فوج ہی ہوتا ہے۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن اچھے کی نشانی ہوتی ہے کہ وہ قربانی دینا جانتا ہے اور برا ہمیشہ مفاد پرستی کا آلہ کار ہوتا ہے، کیا آپ نے آج تک کسی بیوروکریٹ کے بارے میں قربانی کی کوئی مثال سنی؟ دوسری طرف کون ہے جو قوم کو دہشت گردی سے بچانے کیلئے جانیں قربان کررہے ہیں۔ قوم جان لے کہ نئے پاکستان میں ایسے بیوروکریٹس کے کردار کو بہے محدود کرنا ہوگا ورنہ انہیں وار کرنا خوب آتا ہے اور یہ ہمیشہ کسی مضبوط کندھے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ملک کے ایک گزشتہ ایک ہفتے کے حالات و واقعات دیکھ لیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ میڈیا کے نمائیندوں کے ہمدرد بن کر اندر کی خبریں کون باہر نکالتا ہے، ڈر اور خوف کا تسلسل کون قائم رکھے ہوئے ہے، عمران خان اور نوازشریف مل جائیں تو برے کی اس ماں تک پہنچ سکتے ہیں۔ انکی دولتیں بیرونی ملکوں کی معیشتوں کو سہارا دیئے ہوئے ہیں، انکی دوستیاں بیرونی طاقتوں کو سہارا دیئے ہوئے ہیں ملک میں بھی ان کا ہر دن عید اور بیرون ممالک میں بھی، خدانخواستہ ملک پر برا وقت آیا تو سب سے پہلے یہ لوگ اپنے امریکی اور یورپی گھروں کو روانہ ہونگے اور معصوم عوام ۔ ۔ ۔ ایک بار پھر سیاستدانوں کو ہی کوستی رہ جائے گی۔