مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
خان پر قادری کا ’’دم ‘‘ ہو چکا
’’ جو بھی گلو بٹ ملا اسے طالبان کے حوالے کر دیں گے ‘‘عمران خان کے اس جملے نے فوجی جوان ،ایک شہید کی ماں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔ ضرب عضب کے شہید کی ماں کی گرج کو پوری دنیا نے سنا ۔شہید کی ماں نے کہا کہ عمران خان کو علم ہونا چاہئے کہ طالبان کے خلاف پاک فوج کے جوان لڑ رہے ہیں ،ظالموں کو ہیرو بنانے کی کوشش نہ کی جائے ۔اس ملک کو طالبان کے حوالے کرنے کے پس پشت عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں ،عمران خان اب ٹرک سے نیچے اتر آئو!پاک فوج کی قربانیوں کا مذاق مت اڑائو ‘‘۔۔۔! سیاستدانوں کے حالیہ شو نے پاکستان کی تاریخ میں ’’شب خون‘‘ کے اسباب کو بے نقاب کر دیا ہے۔پہلے ادوار میں نجی میڈیا نہیں تھا لہذا سیاستدانوں کی ’’انا اور ضد‘‘ کے رد عمل میں ’’شب خون ‘‘ کی وجوہات عوام سے پوشیدہ تھیںمگر آج پاکستان کے حالات سب کے سامنے ہیں ۔اس قسم کی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے کہ فوج کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔اس مرتبہ بھی جمہوریت دفن کر دی گئی تو ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن پر عائد ہو گی۔قادری ’’لچکدار‘‘ شخصیت ہیں البتہ سکرپٹ کے پابند ہیں۔آرڈرز کے مطابق موومنٹ کرتے ہیں۔ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ بعض اوقات ریاضی میں کچھ سوالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ مختلف مراحل میں جا کر مکمل ہوتے ہیں اور ریاضی کے سوال میں کہیں کوئی غلطی ہو جائے یا الجھ جائیں تو اساتذہ یہ کہا کرتے تھے کہ سب مٹا دو اور نئے سرے سے اس کی ابتدا کرو۔ ہم پاکستان کی 67 سالہ تاریخ کو دیکھیں ،بہت سارے انقلابات آئے، بہت سارے انتخابات آئے ،انتخاب کے نتیجے میں جمہوری حکومت آتی ہے،انقلاب کے نتیجے میں شخصی حکومت آتی ہے ۔پاکستان کی اوسطََا عمر دیکھی جائے تو جتنی بھی شخصی حکومتیں پاکستان میں آئیں وہ آٹھ ،دس بارہ سال تک چلیں لیکن بد قسمتی سے جب بھی جمہوری حکومت آتی ہے اس کے لئے پانچ سال چلنا مشکل ہو جاتا ہے ؟نوے کی دہائی میں نواز شریف کی حکومت آتی ہے برخاست کر دی جاتی ہے ،نناوے میں آتی ہے برخاست کر دی جاتی ہے ،2013میں آتی ہے پھر برخاست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔نواز حکومت اور عوام کو اس باریک نقطہ پر غو رو خوض کی ضرورت ہے۔پاکستان چند اشخاص یا خاندانوں کے لئے معرض وجود میں نہیں آیا۔ریاضی کا یہ سوال نئے سرے سے حل کیا جائے تواس سے کئی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔اس وقت عمران خان نے جس قسم کا ’آمرانہ ‘‘ رویہ اپنا رکھا ہے ،اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔جس نے بھی ’’تکبر‘‘ کا راستہ اختیار کیا ،منہ کے بل گرا۔ خان کو اس وقت صرف ٹرک کے آگے پیچھے کاہجوم دکھائی دے رہاہے مگر نگاہ سے اس پار کے عوام کے جذبات دکھائی نہیں دے رہے جو اس وقت خان کے غیر دانشمندانہ رویہ کے خلاف ابل رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میںاچکزئی نے کہا’’عمران خان طاہر القادری صاحب کے ساتھ یہاں پارلیمنٹ کے سامنے آئے ہیں، ’’عوام کی پارلیمنٹ‘‘یہاں سجی ہے ،یہ فرمودات مولانا صاحب نے جاری کئے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے ۔پاکستان میں نہ کوئی پارلیمنٹ ہے نہ ہم کسی پارلیمنٹ کو مانتے ہیں۔پارلیمنٹ ہے تو یہ پارلیمنٹ ہے ،منتخب پارلیمنٹ ،بیس کروڑ انسانوں کی نمائندہ پارلیمنٹ۔ ان دونوں حضرات نے ہمارے ممبران کی فریڈم میں مداخلت کی ہے ۔ہمارے ممبران دو گھنٹے تاخیر سے اس لئے پہنچے کہ ڈنڈا بردار لوگ گیٹ پر موجود ہیں۔یہ بھی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔یہ حکمرانوں اور آرمڈ فورسز کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو آزاد کرائیں ۔اس قسم کے تماشے اس قسم کے پٹاخے نہ ہمیں ڈرا سکتے ہیں نہ ہم کسی کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔کسی میڈیا نے یہ خبر چلا دی کہ پارلیمنٹ کا اجلاس ہوٹل میں ہو گا ۔کیوں ؟ہم پارلیمنٹ کا اجلاس یہاں کریں گے چاہے ہمیں اپنی لاشیں پھینکنی پڑیں۔دونوں حضرات نے جس غلط انداز سے زبان استعمال کی ہے ،انتہائی اخلاقیات سے گری ہوئی کسی طور پر برداشت نہیں کی جائے گی۔عمران خان اور طاہرالقادری کی ’’فالو ئنگ‘‘ لاکھوں میں ہو گی ،اس پارلیمنٹ کی’’ فالو ئنگ‘‘ کروڑوں میں ہے۔جو بھی آئین اور قانون پر یقین رکھتا ہے ، لاہور سے پشاور اور پشاور سے کوئٹہ تک ہم لاکھوں کی تعداد میں جلسے کریں ،ہم انہیں بتائیں کہ شرافت کی زبان کیا ہوتی ہے ۔ہم نے اس نظام کا دفاع کرنا ہے ،ہم نے جمہوریت کا دفاع کرنا ہے ‘‘۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے موجودہ ملکی صورتحال میں ممکنہ ماورائے آئینی اقدام اور ریڈ زون میں غیر قانونی دھرنوں کے خلاف سماعتوں کی سماعت کی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ججوں کو عدالت میں پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔عدالتوں تک پہنچنے کے لئے ایک لمبا روٹ استعمال کرنا پڑا۔عوام اور وکلاء عدالت میں پیش نہ ہو سکے جس کے باعث متعدد مقدمات ملتوی کرنے پڑے ۔اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ قوت کے ذریعہ حکومت کو ہٹانے کی کوشش غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ،اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے باہر نام نہاد عوامی پارلیمنٹ لگائی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبر پی کے اسمبلی کے علاوہ دیگر منتخب اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے غیر آئینی مطالبات کئے جا رہے ہیں۔دھرنا آئین کے آرٹیکل 18,19,20کی خلاف ورزی ہے ۔جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس دئے کہ حکومت کو ہٹانے کا طریقہ آئین میں درج ہے ،اس کے علاوہ کوئی بھی طریقہ ملک میں انارکی اور انتشار کا باعث ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئے کہ عدالت سیاسی معاملات میں نہیں پڑے گی ،صرف بنیادی حقوق کو دیکھے گی۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے ریڈ زون میں غیر قانونی اور غیر آئنی دھرنوں پر ہمیشہ کے لئے پابندی لگانے کے لئے ملتان ہائی کورٹ بار کی درخواست پر تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے چیئر مین طاہر القادری کو نوٹس جاری کر دئے ہیں ۔تشویشناک صورتحال سے قطع نظر قادری کے جلسوں اور دھرنوں پر کبھی ایک بھی قاتلانہ حملہ نہیں ہوا ؟قادری کے فتووں کے باعث بقول ان کے دہشت گرد ان کے خون کے پیاسے ہیں ۔ قارئین کرام ! اس قسم کے دلچسپ ڈرامے صرف پاکستان کی سر زمین پر ہی رونما ہو سکتے ہیں۔ انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کی اولاد ہے، انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی اولاد ہے، ان سب کی اولادیں محفوظ ہیں تو ڈر کس بات کا ؟ یہ سب ایک ہی پھوپھی مامے کے رشتے دار ہیں ۔گھر سے قافلے چلتے ہیں اور کنٹینروں میں جا کر دم توڑ جاتے ہیں ۔قادری کے آرڈر آگئے تو خان کا جنون بھی تھم جائے گا ۔خان قادری میں ضم ہو چکا ہے بلکہ خان پر قادری کا ’’دم ‘‘ ہو چکا ہے ۔ (طیبہ ضیا چیمہ (نیو یارک))