مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاک فوج کے خلاف سازشیں
پاکستان دشمنی کے حوالے سے کچھ کتابیں بھی منظر عام پر آچکی اور آرہی ہیں، ان تمام کتابوں کے مصنفین کا تعلق یا تو امریکہ سے ہے یا وہ امریکہ میں قیام پذیر ہیں،پہلی کتاب کے مصنف عقیل شاہ ہیں اور کتاب کا نام’The Army And Democracy‘اس کتاب میں فاضل مصنف نے اس فلسفہ سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے جسے ایک عرصے سے امریکہ فروغ دینے کی جدوجہد کر رہا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل پاکستانی فوج کو بے بس اور بے حیثیت کرنے میں پوشیدہ ہے اور اپنے اس نظریے کو عام لوگوں میں مقبول کرنے کیلئے فوج کو جمہوریت سے متصادم ایک قوت کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے۔عقیل شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگر فوج برائے راست اقتدار میں نہ بھی ہو ،تب بھی،قومی سیاست فوج کی گرفت میں ہوتی ہے۔مصنف نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کو پٹری سے اتارتا،پاکستان کی مسلح افواج کی جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔اگر پاکستان کی مسلح افواج پر اس قسم کی الزام تراشی امریکہ اور بھارت سے تعلق رکھنے والے بہت سے نام نہاد مفکرین کیلئے ایک مستقل روزگار کی حیثیت رکھتا ہے اور یقینا بہت سے پاکستانیوں کو بھی اس روز گار کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہو گی لیکن بظاہر اس پراپیگنڈا مہم کا آج تک کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آیا۔ پاکستانی عوام میں کل بھی افواج پاکستان کیلئے عزت اور محبت کے جذبات تھے اور آج بھی ویسے ہی ہیں۔بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہو کہ حالیہ وزیر ستان آپریشن شروع ہونے کے بعد ان جذبات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔’The Army And Democracy‘ قسم کی کتابیں لکھنے اور لکھوانے والوں کو بہت جلد اندازہ ہو جائے گا کہ انہوں نے اپنا وقت،کاغذ اور روشنائی ضائع کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں کیا۔اسی پراپیگنڈا مہم کے سلسلے کی ایک اور کتاب The Wrong Enemyہے جسے Carlotta Gallنے لکھا۔کار لوٹا گال کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جو9/11کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی پاکستان اور افغانستان میں میڈیا کوریج میں نہایت متحرک کردار ادا کرتے رہے۔کارلوٹاگال نے خاتون ہونے کے باوجود نہایت جانفشانی سے اپنے صحافتی فرائض سر انجام دیئے۔اس سلسلے میں ان کا پاکستان بھی آنا ہوا اور ان کے پاکستان میں قیام کو آسان بنانے کیلئے ان کے پاکستانی’دوستوں‘نے حتی المدوران کی مدد بھی کی لیکن کارلوٹا گال کے دل سے پاکستان کی نفرت کبھی کم نہ ہو سکی۔مذکورہ کتابThe Wrong Enemyمیں بھی ان کی یہی نفرت اصل مرکز اظہار دکھائی دیتی ہے۔اس کتاب میں کار لوٹا گال نے ایک جگہ لکھا ہے،پاکستان اپنے مخصوص عزائم کے حصول کیلئے افغانستان میں طالبان کی پر تشدد کارروائیوں میں کبھی چھپ کر تو کبھی کھل کر مدد گار ثابت ہوتا ہے،سینکڑوں پاکستانی دفاعی منصوبہ کار،تربیت کنندگان اور آئی ایس آئی کے ملازم مختلف بہروپ دھار کر طالبان کو سہارا فراہم کرتے نظر آتے ہیں۔ غرض قصہ مختصر یہ کہ فوج کو بیرکس تک محدود کر دیا جائے،کشمیر،بھارت اور افغانستان سمیت ہر معاملے میں مکمل فوجی خاموشی اختیار کر لی جائے تو پاکستان کا ہر مسئلہ حل ہو جائے گا۔دوسرے لفظوں میں محترمہ نے دنیا کو یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی کہ پاکستان میں فوج اور جمہوری حکمران ایک پیج پر نہیں اور یہ کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تعین میں سویلین حکومت آزاد نہیں۔یہ تمام باتیں نہ صرف حقائق کے بر عکس ہیں بلکہ گمراہ کن بھی ہیں۔پاکستان کی موجودہ جمہوری حکومت کو بھی نہ صرف فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے بلکہ تعاون بھی۔حالیہ آپریشن ضرب عضب اس تعاون کی نہایت واضح مثال ہے۔حکومتیں بدلتی رہتی ہیں،سیاسی تبدیلیاں،جمہوری نظام کا حصہ ہوتی ہیں مگر فوج کےTargets And Goalsہمیشہ یکساں رہتے ہیں۔کتابوں کے ذریعے نفرت پھیلانے سے یہTargets And Goalsکبھی تبدیل نہیں ہو جاتے۔ بعض دفعہ اچھے بھلے انسانوں کو غیر محسوس انداز میں نفرت کی انجانی آگ میں سلگنے کیلئے دھکیل دیا جاتا ہے۔نفرت کی آگ میں سلگنے والوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی نفرت کی وجہ اور سبب کیا ہے۔ایسے ہی لوگوں میں ایک نام حسین حقانی صاحب کا بھی ہے،ان کے علم و فضل،ان کی سیاسی بصیرت اور ان کی جب الوطنی سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن معلوم نہیں کیوں گزشتہ کئی برس سے ان کا نام ایسے معاملات میں لیا جارہا ہے جو بہرحال پاکستا ن کے مفاد میںنہیں ہوتے،ایک مثال میمو گیٹ سکینڈل بھی ہے۔حال ہی میں پاکستان دشمنی پر مبنی ایسی دو کتابیں اور بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں پاکستان دشمنی کی پرانی روش کو لبھاتے ہوئے پاک فوج کو مشکوک اور متناذعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کتابوں کی اشاعت کے پس منظر میں بھی مبینہ طور پر حسین حقانی صاحب کا نام لیا جا رہا ہے ایک کتاب عارف جمال کی لکھی ہوئی Call For Transnational Jihad 1985-2014ہے جبکہ دوسری کتاب کرسٹائن فیئر کی لکھی ہوئیFighting To The Endہے۔ہم کہیں بھی ہوں پاکستان ہماری شناخت ہے اور ہمیں اس شناخت کی عزت اور اس سے وابستہ وقار کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔