مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر اور فلسطین کے مسائل کئی دہائیاں گذرنے کے باوجود عوامی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوسکے
لوٹن ... ہم غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ہم بحثییت کشمیری اس مشکل گھڑی میں فلسطینیوں کے دکھ اور درد میں برابرکے شریک ہیں۔ یہ بات مسلم لیگ ن گروپ آزادکشمیرکے رہنماء اور ممتازسیاسی و سماجی شخصیت سید حسین شہید سرورنے اپنی طرف سے آزادکشمیر کے سابق اٹارنی جنرل اور سابق پراسیکوٹر جنرل ریاض نویدبٹ ایڈوکیٹ کے اعزازمیں یہاں ایک استقبالئے کے دوران کہی۔ اس موقع پر جہانگیر جے۔پی، محمد یاسین چوہدری، ڈاکٹررضوان نویدبٹ اور ڈاکٹر ناصر بٹ بھی موجودتھے۔ ریاض نوید بٹ ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں۔ سید حسین شہید سررورنے کہاکہ کشمیری خود بھی مظلوم ہیں اور ہمیشہ سے ہر آزادی پسند اورمظالم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ ایک بات یادرکھناچاہیے کہ طاقت کے بل بوتے پر کسی قوم کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔کشمیری بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور ان کی یہ جدوجہدکسی قو م یا برادری کے خلا ف نہیں بلکہ اپنے حق خودارادیت کے لیے ہے جو عالمی سطح پر تسلیم کیاگیاہے۔انھوں نے کہاکہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل گذشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہیں لیکن یہ مسائل ابھی تک ان علاقوں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں ہوسکے۔انھوں نے زوردیاکہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں اور مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیرمشرق وسطیٰ میں امن اور اقتصادی خوشحالی نہیں آسکتی۔سید حسین شہید نے بھارتی حکومت کو خبردار کیاکہ وہ یادرکھے کہ وہ اپنی انتہاپسندانہ اورہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کے ذریعے کشمیری قوم کو دبانہیں سکتی۔کشمیریوں پر جتنابھی دباؤ ہوگا ،وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش ظاہرکی اور عالمی برادری سے اس مسئلے پر خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مقبوضہ کشمیرمیں تمام کشمیری اسیروں کی رہائی کا مطالبہ کیاجنھیں نام و نہاد اور ظالمانہ قوانین کے تحت نظربند یاقید کیاہواہے۔ سید حسین شہید سرورنے مقبوضہ وادی میں پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر بے رحمانہ قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کیااور کہاکہ بھارت نے مقبوضہ وادی کوعقوبت خانہ بنادیاہے جہاں لوگ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ انھوں نے واضح کیاکہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اپنی منزل کے قریب ہے اوربہت جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی۔انھوں نے مطالبہ کیاکہ کشمیریوں کو ان کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیاجائے۔