مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جنگ و جدل میں ہوتا نہیں کوئی سرخرو ‘ لارڈ بائرن کے تاریخی شہر ناٹنگھم میں مشاعرہ
ناٹنگھم برطانیہ میں اردو ادب کے حوالے سے ناٹنگھم شہر بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس شہرکو یہ اعزاز حاصل ہے کے دھرتی کشمیر کے عظیم فرزند عاصی کاشمیر ی اور احمد مسعود جیسے نامور شعراء نے اسے اپنا مسکن بنایا۔اس شہر کو ۱۹۶۳ میں فیض احمد فیض کے اعزاز میں عالمی مشاعرہ کروانے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان سینٹر اور بزم ادب کے تعاون سے سالانہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جو پروفیسر محمود ہاشمی کی یاد میں اور پاکستان سے آئے ہوئے نامور شاعر ڈاکٹر نثار ترابی کے اعزاز میں تھا۔مشاعرے کی صدارت ہمہ گیر شاعر عاصی کاشمیری نے کی جبکہ مہمان خصوصی ڈاکٹر نثار ترابی تھے،نظامت کے فرائض احمد مسعود نے انجام دئیے۔مشاعرے کا آغاز مقصود چوہدری نے تلاوت کلام پاک اور نعت رسول ﷺسے کیا۔جس کے بعد ناٹنگھم سے اردو ادب کے نامور شاعر احمد مسعود نے پروفیسر محمود ہاشمی مرحوم کی ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انھیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔مہمان خصوصی ڈاکٹر نثار ترابی نے فیض احمد فیض کے حوالے سے اپنی نئی تصنیف .،، فکر فیض پر تبصرہ کیا اانھوں نے کہا کہ شعراء نے ہر دور میں اپنے کلام کے ذریعے اقوام کو بیدار کیا ان میں قومی اور ملی جذبہ پیدا کیا اور علم و ہنر کے ذریعے اقوام کو ترقی کی جانب گامزن رہنے کا درس دیا۔انھوں نے خصوصی طور پر احمد مسعود ،پاکستان سینٹر اور نزم ادب ناٹنگھم کا شکریہ ادا کیا کے انکی کاوشوں سے اتنی خوبصورت تقریب کا اہتمام ہوا ہے۔جس میں اردو ادب کے شائقین کو لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔اردو ادب کے ہمہ گیر شاعر عاصی کاشمیری نے اپنی اشعار خاصکر ۔۔۔ جنگ و جدل میں ہوتا نہیں کوئی سرخ رو۔۔۔ انسان ہی کا بہتا ہے دونوں طرف لہو ! سے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا ۔ دیگر اہم شعرا میں بریڈ فورڈ سے مہمان شاعر عابد ودود، ناٹنگھم سے مشہور شاعر اور کالم نگار مقصود چوہدری،اے ایم تبسم،احمد مسعود،نوجوان شاعر شہزاد ارمان، ذیشان نے بھی اپنی نئی غزلیں اور اشعار سنا کر حاضرین کو خوب محظوظ ہونے کا موقع دیا شرکا ء نے بھی دل کھول کر شعراء کو داد تحسین پیش کیا اور مشاعرے کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ ناٹنگھم کی چیدہ چیدہ شخصیات جن میں کونسلرز محمد اسلم ،گلنواز صغیر راجپوت، آزاد کشمیر کے سابق ایم ایل اے راجہ منشی خان،آزاد کشمیر سے آئے ہوئے ڈپٹی کمشنر میرپور کے پی اے طارق محمود، صدر آزاد کشمیر کے میڈیا ایڈوائزر خالد محمود خالق اور خواتین شعراء نے بھی بھرپور شرکت کی۔واضح رہے کہ ناٹنگھم میں اردو ادب پر کام کا آغاز ساٹھ کی دھائی میں شروع ہوا ۱۹۶۳ میں بطل کشمیر عاصی کاشمیری کی یہاں آمد کے بعد اس پر زیادہ توجہ دی گئی عاصی کاشمیری کی یہاں آمد کے بعد کچھ نئے تخلیق کار بھی ابھر کر سامنے آئے جن میں انجم خیالی مرحوم، احمد مسعود، یوقعب مرزا،ایوب مرزا،مقصود چوہدری،ایوب راجہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ان احباب کی خدمات نے ناٹنگھم میں اردو کی ترقی کے لیے خوشگوار فضا تیار کی ساتھ ہی یہاں کی خواتین نے بھی اردو کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور اردو ادب کی نئی شمیں روشن کیں ایسی خواتین میں اگر صدیقہ شبنم، سعدیہ سیٹھی،زینب بخاری مسرت فردوس،فرزانہ خان نینا کا ذکر نہ کیا جائے تو ناٹنگھم میں اردو کی ترویج ادھوری رہ جاتی ہے۔ناٹنگھم میں ایک طویل عرصہ سے اردو ادب کے فروغ کے لیے یہاں کے تخلیق کاروں نے مختلف ادبی انجمنیں بھی قایم کی ہوئی ہیں جن میں ،، حلقہ ارباب ذوق، بزم علم و فن، اور بزم ادب قابل ذکر ہیں ان انجمنوں کے زیر اہتمام یہاں عالمی مشاعرے عالمی سیمینار اور اردو کانفرنسیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ناٹنگھم شہر کو ادب کی دنیا میں بہت ہی اہم مقام حاصل ہے یہاں تک کے انگریزی زبان و ادب کے دانشور اور شاعر، لارڈ بائرن،کا تعلق بھی ناٹنگھم ہی سے تھاجس کے سبب انگریزی زبان و ادب میں بھی ناٹنگھم کو ایک تاریخی حثیت حاصل ہے۔ جبکہ اردو زبان و ادب کے معروف تخلیق کار عاصی کاشمیری ،احمد مسعود ، اور دیگر متذکرہ بالا اہم شعراء نے بھی اپنی زندگیاں اسی شہر میں گزار دی ہیں۔ (رپورٹ و تصاویر: خواجہ کبیر احمد )