مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کچھ بے رحم اور احسان فراموشوں کیلئے
یہ اسی رمضان کی بات ہے مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ رات کے ڈھائی بجے کے قریب موبائل کی گھنٹی نے مجھےایکدم چونکا دیا تھا، “سر آب کے ہاں سحری ختم ہونے میں کتنی دیر ہے؟‘مجھے لیفٹیننٹ یوسف کی اس معصومیت پر ذرا سی بھی حیرت نہیں ہوئی۔وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔اسے پتہ تھا کہ میں رمضان المبارک میں سحری کے بعد ہی سوتا ہوں اور بقول لیفٹیننٹ یوسف،چھمب سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کی دشوار گزار وادیوں میں ملکی سرحدوں کی حفاظت پر مامور کسی نوجوان لیفٹیننٹ کیلئے رات کے سناٹوں میں اپنے ’کمانڈر‘ کی آواز سننے سے زیادہ امید افزاء اور کیا ہو سکتی ہے، میں نے کہا ابھی سحری ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی ہے،پھر میں نے پوچھا،تم نے سحری کر لی؟اس نے ایک زور دارقہقہہ لگایا اور بولا،سر ہم سحری میں صرف نیت کرتے ہیں،جو افطاری میں کھا لیا وہی کام آتا ہے۔میں نے دریافت کیا،افطاری میں کیا ملتا ہے؟کہنے لگا،بھنے ہوئے چنے اور دریا کا مزیدار پانی۔ میری آنکھوں میں یہ سن کرنمی سی آ گئی۔ایک لیفٹیننٹ یوسف ہی نہیں،میرے ملک کے ہزاروں بہادر بیٹے،نجانے کیسے کیسے دشوار گزار جان لیوا محاذوں پر اپنی دھرتی کی حفاظت کیلئے اپنا ہر آرام اپنی ہر آسائش قربان کر دیتے ہیں اور پھر بھی ان کے لبوں پر کبھی کوئی حرف شکایت نہیں ہوتا۔سپاہی سے لے کر کمانڈر تک ہر شخص کی بس ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ اسے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہادت نصیب ہو جائے،لیکن من حیث القوم ہماری بد نصیبی کے ہم میں سے کچھ لوگ ان کی شہادت کو بھی متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے ہی بے رحم احسان فراموشوں کے بارے میں گزشتہ دنوں وزیر ستان آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والے کیپٹن احمد علی کی ڈائری کے ایک ورق پر لکھی یہ تحریر بہت سے پاکستانیوں کو جھنجوڑتی چلی گئی۔’’کیا ضروری تھا کے میں پاک فوج میں آتا۔میری عمر کے بہت سے لڑکے کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھ رہے ہونگے۔ اور میں بائیس سال کی عمر میں اگلے کچھ دنوں میں اپنے سینے پر گولی کھا کر اس دنیا سے دور چلا جائوں گا،مگر کس کیلئے؟ ان لوگوں کیلئے جو عازیوں اور شہیدوں کی بجائے سنگرز اور ایکٹرز کو ہیرو سمجھتے ہیں،جو یہ تک نہیں سن سکتے کہ ہم نے کہاں جا کر موت کو گلے لگایا،صرف اس لئے کہ ان لوگوں کے عیش و آرام پر کوئی حرف نہ آئے۔‘‘ گزشتہ ایک دہائی میں ہمارے معاشرے میں ایک ایسے طبقے نے بھی جنم لیا ہے جس کے مطابق ہمارے ملک کو کسی بھی قسم کی فوج کی سرے سے ضرورت ہی نہیں۔اس طبقے سے وابستہ افراد جگہ جگہ یہی پراپیگنڈا کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں خرابی کے پس منظر میں فوج اور ایجنسیوں کا ہاتھ ہوتا ہے۔عمرا ن خان کے جلسے ہوں یا پھر تحریک منہاج القرآن کے بیگناہوں پر بہمانہ فائرنگ،کراچی میں سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو یا پھر گیلانی صاحب کے صاحبزادے کا اغوائ،کوئٹہ میں زائرین کے قتل عام سے لے کر رکوڈک کے مشتبہ معاملات اور مہنگائی،لوڈ شیڈنگ و سیاسی تنائو تک،اس طبقے سے وابستہ،مفکرین،ہر الجھائو کے پیچھے فوج اور ایجنسیوں کا چہرہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی قبیل کا ایک ذیلی طبقہ اور بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ پاکستان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے،امریکہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔اس طبقے کے خیال میں پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی ہار جیت،وزیر اعظم کا چنائو،آرمی چیف کا انتخاب،ہمسایہ ممالک سے مراسم،ہشت گردوں کی سر کوبی کیلئے آپریشن بلکہ شہروں اور دیہاتوں میں لوڈ شیڈنگ کا شیڈول بھی امریکہ کی مرضی اور رضا مندی کا محتاج اور مرہون منت ہوتا ہے۔ایسے ہی کرم فرمائوں نے حالیہ آپریشن ضرب عضب کے بارے میں دنیا بھر میں یہ تاثرپھیلانے کی کوشش کی کہ یہ آپریشن امریکی دبائو پر کیا جا رہا ہے،حالانکہ اس آپریشن کا آغاز صرف اور صرف پاکستان آرمی اور میاں نواز شریف کی زیر قیادت پاکستان کی منتخب جمہوری حکومت کی باہمی مشاورت اور منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا۔امریکہ کی اس معاملے میں کیا اہمیت؟دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں طبقات سے وابستہ افراد عموماً مختلف غیر ملکی این جی اوز کی وساطت سے ایک دوسرے سے رابطے میں بھی نظر آتے ہیں ساتھ ذاتی طور پر امریکی قونصل خانوں تک برائے راست رسائی کیلئے کوشاں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے بعض اوقات امریکی قونصل خانے کچھ،اچھے ،پاکستانیوں کو اپنے ہاں مختلف قسم کی سماجی تقریبات میں مدعو کر کے ان کی خدمات کو سراہنے کا اہتمام بھی کرتے رہتے ہیں۔قونصل خانوں کیلئے،مقامی لوگوں سے رابطے رکھنا سفارت کاری کے اصولوں کے عین مطابق ہے اور اس عمل میں برائی کا کوئی پہلو بھی نہیں لیکن اس بات کے قوی تر امکانات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس نوعیت کی محفلوں میں سی آئی اے والے مستقبل کے نئے ڈاکٹر آفریدی تلاش کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہوں گے۔ ہمارے خیال سے ہم پاکستانی ہر لحاظ سے ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں۔ہمارا اپنا زاویہ نگاہ اور اپنا انداز فکر ہے۔ہماری فوج اور ایجنسیوں کو دنیا بھر میں آج بھی کامیابی کا معیار قرار دیا جاتا ہے۔ہماری فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کیلئے ملک کی حفاظت اور ملک دشمنوں کی سرکوبی سے بڑھ کر نہ اور کوئی مقدس فرض ہے نہ ذمے داری۔یہ فوج اور یہ ایجنسیاں ہمارے اپنے بیٹوں اور بھائیوں پر مشتمل ہیں،یہ دھرتی ان سب کیلئے ماں جیسی ہے،ہمارے عقیدے کے مطابق ماں کے پیروں تلے جنت ہوتی ہے،مسلمان کیلئے جنت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوتا۔غیر ملکی مکھن،ڈبل روٹی کو من و سلویٰ سمجھ کر پیٹ کے جہنم کی آگ بجھانے کی کوشش میں مصروف بے عقلوں کو جان لینا چاہئے کہ ہم امریکہ کی کالونی نہیں ہیں۔ اگر امریکہ ہمارے ملک کو مالی امداد فراہم کرتا ہے،اسلحہ اور جنگی جہاز دیتا ہے یا پھر ہمارے ملک میں توانائی کے بحران کو حل کرنے کا خواہشمند دکھائی دیتا ہے تو اس کی وجہ یہ قطعاً بھی نہیں کہ امریکہ کو ہم مسلمانوں سے محبت ہے،اس امداد سے امریکہ کے اپنے مفادات منسلک ہیں۔پاکستان نے امریکہ کے سامنے کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے،کبھی امداد کی التجا نہیں کی،امریکہ نے عنایات کی بارش کی تو خود بہ رضا و رغبت کی۔تاہم ایک سمجھدار اور موقع شناس قوم کی طرح،ہم ہمیشہ امریکی مہربانیوں سے بھرپور انداز میں فیضیاب بلکہ لطف اندوز ضرور ہوئے اور ایسا کرنا بذات خود ہماری ہوشمندی کا ثبوت ہے۔اگر امریکہ کو واقعی مسلمانوں سے ہمدردی ہوتی تو آج اسرائیل غزا میں بیگناہ مسلمانوں کے خون سے اس بغ رحمی کے ساتھ ہاتھ رنگنے میں مصروف نہ ہوتا۔دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ صرف پاکستان،عراق اور افغانستان میں لڑنے کا کیا مقصد؟ دنیا بھر کے مسلمان سوال کرتے ہیں کہ اس نام نہاد جنگ کو لے کر امریکہ اسرائیل کی طرف پیش قدمی کیوں نہیں کرتا؟ ممکن ہے امریکہ کے پاس اسرائیل کو روکنے کی قوت نہ ہو،لیکن اس صورت میں امریکہ کے پاس خود سپر پاور کہلانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا،اگر امریکہ کی بے بسی اور مجبوریوں کا یہی حال ہے تو پھر صد ر اوبامہ کو اعلیٰ ترین جمہوری روایات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سپر پاور ہونے کا اعزاز اسرائیل کے حوالے کر دینا چاہئے۔