مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سنار یا لوہار
گلورات سکون کی نیند سو رہا تھا کہ اسے اچانک پیٹ میں درد کی شدت نے جگا دیا معمولی گھریلو علاج معالجہ پر اکتفا کیا تو وقتی سکون میسر آیا اور پھر سہانے خوابوں کی دنیا میں کھو گیا صبح حسب معمول جاگ کر روز مرہ کے کام کاج شروع کر دیئے اگلی رات ایک دفعہ پھر سونے میں اسی درد نے آنکھ کھول دی گلو نے پھر درد سے آرام کی معروف’’گولی‘‘ سے علاج کیا اور ایک دفعہ پھر وقتی آرام حاصل کر کے حسب معمول رات اور دن گزار دیاکسی عزیز دوست سے گزشتہ دو راتوں کا حال بیان کیا تو درد دل رکھنے والے عزیز نے مشورہ دیا کہ کب تک راتوں کو اٹھ اٹھ کر درد کی گولیاں لے لے کر وقتی آرام حاصل کرتے رہو گے چلو ڈاکٹر کے پاس چلو اور اپنا چیک اپ کروائو،گلو نے بھی ایک لمحہ سوچا اور مشورے کو اپنی زندگی اور تندرست صحت کیلئے مثبت جانا فون اٹھایا اور ڈاکٹر سے وقت حاصل کیا اگلی صبح کلینک مقررہ وقت پر پہنچ گیا ۔معالج کو اپنی تکلیف اور علامات کی تفصیل بتائی جسمانی معائنہ کے دوران ڈاکٹر کو گلو کے پیٹ کے ایک طرف ایک(LUMS)پھوڑا محسوس ہواڈاکٹر نے فوری طور پر گلو کو خون کے نمونے،الٹرا سائونڈ اور ایکسرے کیلئے بھیج دیا تاکہ تکلیف کی تفصیلی تحقیق ہو سکے ڈاکٹر اپنے تجربے،علم اور مریض سے حاصل ہونے والی علامات کے تناظر میں اندازہ کر چکا تھا کہ کیا ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے،چند روز کے بعد گلو کو ڈاکٹر کا تفصیلی خط ملا کہ حاصل کردہ نمونوں کے نتائج اور الٹرا سائونڈ رپورٹ کے مطابق آپ کے پیٹ کی ایک جانب جو LUMSپایا گیا دراصل وہ کینسر کا پھوڑا ہے یہ پڑھ کر گلو کے پائوں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی علاج کی طے شدہ تفصیلات کے مطابق دوبارہ ڈاکٹر کے پاس پہنچا تو ڈاکٹر نے کہا کہ چونکہ بیماری کا ابھی آغاز ہوا ہے لہٰذا اس کو اگر ابھی سے قابو کرنا ہے تو آپریشن کے ذریعے اس پھوڑے کا خاتمہ کرنا ہو گاورنہ یہ بڑھتے بڑھتے آپ کو موت کے قریب لے جائے گا،گلو فوری طور پر آپریشن کیلئے رضامند ہو گیا چند دن بعد سرجری ہوئی اور اب گلو صحت مند زندگی گزار رہا ہے اور سالانہ چیک اپ بھی کروا رہا ہے تاکہ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں وہ پھوڑا دوبارہ واپسی کا رُخ نہ اختیار کر لے۔ میرا وطن عزیز بھی آئندہ چند دنوں بعد اپنے یوم پیدائش کا جشن منانے کیلئے تیاریاں کر رہا ہے اس کی خود کی حالت تو ٹھیک ہی ہے لیکن اس کی دیکھ بھال گزشتہ 62سالوں سے گلوئوں کے ہاتھوں میں ہے جن کی بد دیانتی،کرپشن،لوٹ مار،اقرباء پروری،بد اخلاقی،بد فعلی،بھتہ خوری اور ایسی ہی درجنوں لا حاصل بیماریاں ہیں جو ہر آنے والے دن کے ساتھ ساتھ عدم توجہی اور عدم احتساب و علاج کی وجہ سے کینسر کے وہ پھوڑے بن چکے ہیں جو جان لیوا ہیں ان محافظ گلوئوں نے اپنی حفاظت میں وطن عزیز کی سیاسی،سماجی،معاشرتی اور معاشی استحکام کی عمارت کو اتنا زنگ آلود کر دیا ہے کہ کہیں یہ عمارت خدا نخواستہ ایک دن دھڑم سے گر ہی نہ جائے۔ پاکستانی قوم14اگست کو ایک اہم دور میں گزر رہی ہے جن کو فیصلہ کرنا ہے کہ عمران خان اور ڈاکٹر قادری کے بتائے ہوئے تشخیصی نتائج کے مطابق اس بیماری کا علاج کرنا ہے یا پھر اس کو ایسے ہی چلے جانا ہے اور اس وقت کا انتظار کرنا ہے جب یہ عمارت)ملک(اپنی بنیاد سے ہی کھسک جائے ،عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں دو مختلف علاج بتا رہے ہیں عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اور آنے والی نسلوں کیلئے کونسا راستہ اختیار کرتی ہے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ گو ملک اندرونی طور پر عدم استحکام کی حد سے گزر چکا ہے نظام مفلوج ہے لیکن اس نظام کے اندر سے ہی بہتری کا پہلو اختیار کرنا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ بوسیدہ اور بنیادی طور پر کمزور مکان (نظام )کے اندر رہ کر اس کو مرمت کرنا دراصل اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے اور یہ خود کشی کا وقت نہیں ہے بلکہ اس نظام پر خود کش حملے کا وقت ہے جس نے اس مکان(ملک) کو اس غیر مستحکم حالت تک پہنچا دیا ہے،دونوں معالج اپنے طور درست بات کر رہے ہیں لیکن مجھے گلو کا علاج پسند آیا جس کے مطابق روز روز کے رونے اور چیخ و پکار سے بہتر ہے ایک ہی دفعہ اودھو لیا جائے اور اس کینسر کے پھوڑے کو جسم سے نکال کر باقی ماندہ زندگی کو بہتر طور پر گزارنے کا اہتمام کیا جائے کیونکہ بڑوں نے بتایا تھا کہ سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔ (آفتاب بیگ آکسفورڈ)