مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
پی ٹی آئی کا ہی کوئی دانشمند لیڈرعمران خان کو کسی تاریخی غلطی سے بچالے تو بہتر ہے: چوہدری اشتیاق
سلائو ... محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی نے جس طرح کی کاگردگی کا مظاہرہ کیا وہ کسی بھی پاکستانی سے ڈھکا چھپا نہیں, سابق صدر آصف علی زرداری تو بی بی کی حیات ہی میں ایک خاص قسم کی شہرت پا چکے تھے, ماضی قریب کے وزیرِ اعظم نے انہیں بھی پیچھے چھوڑ دیا,خیر موصوف سابق وزیرِ اعظم اور انکی پارٹی نے اسکا خمیازہ بھی بھگتا, بی بی کی شہادت اور پیپلز پارٹی کی ناکامی بلکہ زیادہ مناسب لفظوں میں پی پی پی کے خاتمے نے ملکی سیاست میں ایک خلا سا پیدا کر دیا تھا, مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کا مقابلہ کرنے کے لیے ضرروری تھا کہ کوئی مناسب قیادت جسے عوام کی حمایت بھی حاصل ہو موجود ہو تاکہ مقابلہ کی دوڑ میں جیت کی خاطر کارگردگی دکھائی جائے.اسی دوران تحریکِ انصاف اور عمران خان ابھر کر سامنے آئے, مختلف با اثر سیاسی شخصیات نے بھی انہیں جوائن کیا اور عوام نے ایک متبادل کے طود پر انکی حمایت شروع کر دی, دیکھتے ہی دیکھتے تحریکِ انصاف نے پیپز پارٹی کی جگہ لے لی, خصوصاَ پنجاب اور کے پی کے میں تو پی ٹی آئی ایک موثر قوت بن کر سامنے آئی. ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی سماجی رہنما اوورسیز پاکستانی لوورز کے صدر چوہدری اشتیاق نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا عمران خان کو ایک شفاف, دیانت دار, مدبر اور سنجیدہ سیاستدان کے طور پر لیا جانے لگا, اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ انہوں نے یہ مقام بنانے میں بہت زیادہ محنت بھی کی. لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا, خان صاحب کو کیا سوجھی, کس افلاطون نے مشورہ دیا یا کس ان دیکھی طاقت نے تھپکی دے ڈالی کہ خان صاحب ایک قابلِ عزت و احترام سیاستدان کی بجائے ایک فلمی ولن کے روپ میں سامنے آگئے. طاہر القادری کی طرف سے ایسے ڈائیلاگ تو سمجھ آ سکتے ہیں کہ ان کی کوئی خاص سٹیکس نہیں ہیں,نہ کچھ پانے کو نہ کھونے کو, جب چاہا واپس کینڈا چلے جانا ہے,چار دن کا میلا ہے انکا, اسی طرح کچھ لوگ اپنی اپنی ایک سیٹ کے لیے جگہ بنا رہے ہیں کہ شاید نواز شریف پریشر میں آکر انہیں دوبارہ پارٹی میں قبول کر لیں.لیکن عمران کا رویہ, بیانات اور تیور سمجھ سے باہر ہیں..یہ سب لوگ عمران کو چھوڑ جائیں گے, جو آج آگے پیچھے ہوکر خان کو آگے کر رہے ہیں انہوں نے برحال پیچھے ہٹنا ہی ہے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی, پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر خلا پیدا ہوچکا ہوگا. خان ایک مدبر سیاستدان سے ایک جذباتی ,غیر سنجیدہ اور بےوقت کا راگ الاپنے والے انسان کے طور پر جانا جانے لگے گا, جس سے مسلم لیگ کی ناکامی کی صورت میں وہی پیپلز پارٹی آکر ماضی کی طرح لوٹنے کا موقع پائے گی, خاص کر کہ جب انہیں روکنے کے لیے بی بی شہید جیسی قائد بھی موجود نہیں. کیا پی ٹی آئی میں کوئی ایسا ہوشمند لیڈر موجود ہے جو قوم کو خان جیسا قائد واپس کرانے میں مدد کرے, جو خان کو خود خان سے بچا لے.. قوموں کی زندگی میں نصف صدی ایک بڑی مدت ہوتی ہے ,ہم تو اس سے بھی بڑے ہوگئے, اب وقت آگیا ہے کہ قوم اور اسکی سیاسی قیادت بلوغت کا مظاہرہ کرے اور ہمہں جان لینا چایے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ایک منتخب حکومت کو چلنے دیا جائے, اسے اپنا وقت پورے کرنے دیا جائے تاکہ مقررہ وقت کے بعد قوم کے پاس اس حکومت کی کارگردگی جانچنے کا پورا موقع ہو اور کارگردگی سے غیر مطمئن ہونے کی صورت میں کسی نئی پارٹی, کسی نئے قائد کو منتخب کر سکے اور قوم اپنے اس حق کو ضرور استعمال کرے گی, یہی ایک راستہ حکومتیں بدلنے کا, ترقی کا, خوشحالی کا. لہذا ایک اوورسیز پاکستانی کی حثیت سے ہمارا عمران خان سے مخلصانہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنے تمام جائز مطالبات کے لیے بات چیت کے عمل کو ترجیح دیں, حکومت سے مزاکرات کرکے ضروری الیکشن اصلاحات ضرور کروائیں لیکن ملک کا بڑا نقصان ہونے سے بچائیں.اور خود کو قوم کے مستقبل لیڈر کے طور پر منوائیں نہ کہ غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں اپنا اور قوم کا مستقبل دائو پر لگائی۔