مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ڈرون کا استعمال دیگر ہتھیاروں کی طرح بین الاقوامی قوانین کےتابع ہونا چاہیئے: بان کی مون
اسلام آباد... پاکستان کے دورے پر آےاقوامِ متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے تنازعات کو لڑائی کی شکل اختیار کرنے سے محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار امن تعمیر و ترقی سے مشروط ہے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مرکز برائے بین الاقوامی امن و استحکام کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ اقوامِ متحدہ دوبارہ سے سفارت کاری اور ثالثی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی جگہ پر بحرانی صورتِ حال کے اثرات نظر آنے پر عالمی تنظیم 72 گھنٹوں میں وہاں اپنے تجربہ کار ثالث بھیجنے کی اہل ہو چکی ہے۔ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی توثیق کردہ کارروائیوں میں پیش رفت اور ان میں شامل فوجیوں کے تحفظ کے لیے مختلف طریقوں پر عمل درآمد کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جن میں بغیر ہوا باز کے طیارے یا ڈرون بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا حملے کرنے کی صلاحیت نا رکھنے والے ڈرون محض ’’محوِ پرواز کیمرے‘‘ ہوتے ہیں، لیکن ہتھیاروں سے لیس ایسے طیارے ’’ایک مختلف معاملہ‘‘ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ تسلسل سے یہ بات کہتے آئے ہیں کہ ہتھیاروں سے لیس ڈرون کا استعمال کسی بھی دوسرے ہتھیار کی طرح بین الاقوامی قوانین کے تابع ہونا چاہیئے۔ ’’یہ اقوامِ متحدہ کا انتہائی واضح موقف ہے۔ غلطیوں اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیئے۔‘‘ بان کی مون نے کہا کہ تنازعات کا سبب بننے والے عوامل خاص طور پر ظلم و جبر اور عدم مساوات سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اُن کے بقول دنیا بھر میں وسائل ہتھیاروں پر خرچ ہو رہے ہیں جو ایسی جنگوں میں استعمال ہو رہے ہیں جو لڑی ہی نہیں جانی چاہیئں۔