مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیر براستہ غزہ
اپنی تکلیف اور اپنی مصیبت بھول کر مصیبتوں میں گھرے دوسرے انسانوں کا احساس کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،اس کام کے لئے بڑے حوصلے اور بڑی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے حال ہی میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کیلئے ایک ملین امریکی ڈالر کی امداد کا جو اعلان کیا ہے وہ اسی ہمت اور حوصلے کی ایک روشن مثال ہے۔دنیا اس حقیقت سے آشنا ہے کہ اس وقت پاکستان خود مشکل ترین حالات کا شکار ہے،توانائی کا بحران خوفناک سے خوفناک ہوتا جا رہا ہے،فیکٹریاں ،کارخانے اپنی استعداد کے مطابق کام نہیں کر پا رہے،بیروزگاری بڑھ رہی ہے،لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال سب کے سامنے ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شمالی وزیر ستان میں دہشت گردوں کیخلاف پاکستان آرمی کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں آئی ڈی پیز بے گھر ہونے کے بعد زندگی کی معمولی معمولی ضروریات کیلئے بھی دوسروں کی مدد کے محتاج دکھائی دیتے ہیں،ایسے میں جناب وزیر اعظم پاکستان نے فلسطینیوں کیلئے پوری قوم کی طرف سے محبت کا جو ہاتھ بڑھایا وہ واقعی قابل تحسین ہے،ساری دنیا کو وزیر اعظم پاکستان کے اس جرات مندانہ اقدام سے سبق سیکھنا چاہئے،ظلم کہیں بھی ہو،زیادتی کسی بھی انداز کی ہو،اہل دل کیلئے باعث اذیت ہوتی ہے،مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا بھی ایک جہاد ہے اور پاکستان کبھی بھی اس جہاد میں پیچھے نہیں رہا۔معاملہ فلسطین کا ہو یا مقبوضہ کشمیر کا،برما کے مسلمانوں کے قتل عام کا ہو یا پھر سری لنکا میں تامل ٹائیگر ز کی خونریزی کا،پاکستان صدائے حق بلند کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہا،سیاسی تجزیہ کاروں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اگر پاکستان مقبوضہ کشمیرکے نہتے عوام کی اخلاقی حوصلہ افزائی چھوڑ دے تو بھارت سے اس کے مراسم پلک جھپکتے میں کئی گنا بہتر ہو سکتے ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بہتری ہی بہت سے باہمی مسائل کو سلجھا سکتی ہے لیکن اس سب کیلئے پاکستان کو کشمیریوں کی اخلاقی حمایت سے ہاتھ کھینچنا پڑے گا،تاہم وقتی فائدے اور ذاتی مفاد کیلئے کشمیریوں کو ہندو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کیلئے جس بے حسی اور خود غرضی کی ضرورت ہے وہ پاکستان کے پاس نہیں۔ غزہ اس وقت تاریخ کے بد ترین ظلم و ستم کا شکار ہے معصوم بچے اور بے گناہ عورتیں تک محفوظ نہیں،اسرائیل کی وحشیانہ بمباری نے زندگی اور موت کے درمیان لکیر کو مٹا دیا ہے لیکن امن کے عالمی ٹھیکیدار خاموشی سے ظلم و ستم کی اس بھیانک داستان کو زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ محض پڑھنے میں مصروف ہیں،رہ گئے ہمارے جنگجو بھائی کہ جن پر تمام مسلمانوں کو فخر ہونا چاہئے تھا اور جن کے وجود سے عالم اسلام کو تقویت و توانائی کا احساس ہوتا اور جن کے سبب اسلام دشمن قوتوں پر خوف طاری ہوتا ،وہ اپنے معاملات میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ شاید ان مجبور فلسطینیوں کی طرف توجہ دینے کا انہیں وقت ہی نہیں مل پاتا،مسلمان جائیں تو جائیں کہاں،کس قدر افسوس کا پہلو ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں ہر جگہ اپنے ہی بھائیوں کیلئے خوف کا استعارہ ہے اور ان کے دم سے کسی اسلام دشمن کو کوئی خطرہ نہیں،یہود و نصاریٰ ٹولیوں میں بٹے مسلمانوں کو لکڑہارے کے کھلے ہوئے گٹھے کی لکڑیوں کی طرح ایک ایک کر کے توڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں،آج جو منظر ہمیں غزہ میں دکھائی دے رہا ہے،اسی سے ملتا جلتابلکہ کہیں زیادہ خوفناک منظر ہزار بار ہم پاکستانیوں نے اپنے ملک میں دیکھا ہے،میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ اسرائیلی حملے کے ابتدائی تین دنوں میں تین سو کے قریب فلسطینی موت کے منہ میں چلے گئے،لیکن ہمارے ہاں تو بے شمار مرتبہ محض ایک خود کش دھماکہ لمحے بھر میں اس سے زیادہ جانوں کا خراج وصول کر لیتا ہے۔ہم اسرائیل کے ظلم و ستم پر احتجاج کریں تو دنیا ہمیں یہ کہہ کر ذلیل کرتی ہے کہ تم اپنے وطن میں بے گناہوں کا قتل عام نہیں روک سکتے،اسرائیل اور غزہ کی کیا بات کرتے ہو۔ہمارے ملک کے اندرونی حالات نے ہم سے احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے۔ نہ ہمارا کوئی پلیٹ فارم،نہ کوئی نمائندگی،نیم مردہ حالت کی او آئی سی کے علاوہ ہمارے پاس اور کچھ بھی نہیں۔ہماری بے بسی اور بے حیثیتی کا اثر افغانستان،بنگلہ دیش،میانمر،کشمیر،ایران،سعودی عرب،فلسطین، عراق سے ہوتا ہوا بھارت کے مسلمانوں تک پہنچ رہا ہے لیکن ہم کسی طور بھی سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں۔ سرینگر میں قائم کشمیر یوں کی ایک نمائندہ تنظیم VOICE OF VICTIMSنے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست جموں کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے زیر انتظام آ ج بھی 471سے زائد ایسے حراستی مراکز قائم ہیں جن میں کشمیری مسلمانوں کو خوفناک انداز میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اوسطً ہر پانچ میل کے فاصلے پر قائم ان حراستی مراکز میں بھارتی فوج جن مسلمانوں کو چاہتی ہے دہشت گرد قرار دے کر قید کر دیتی ہے پھر بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور شاید ہی کوئی خوش نصیب ان مراکز سے زندہ واپس اپنے پیاروں تک پہنچتا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کہ بھارتی فوج کی گرفت میں آنے والوں کے وارثوں کو ان کی گرفتاری یا موت کی خبر کسی جنگل سے ان کی مسخ شدہ لاش ملنے کی صورت میں ہی ہوتی ہے۔قابض بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ کر رہی ہے،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسے ایسا کچھ بھی کرنے کا حق حاصل نہیں۔نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حال ہی میں راشنریہ سیوا ماک سنگھ یعنیRSSکی معاونت سے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس کے تحت آزاد کشمیر کو بھارت میں سرکاری طور پرPakistan Occupied Jammu & Kashmirکے نام سے پکارے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،اطلاعات کے مطابق بات یہیں ختم نہیں ہو گی،جموں کشمیر کے بے شمار علاقوں کے اسی طرح نام بدل کر انہیں منظر سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کرنے والے نقشے پر ان علاقوں کو ڈھونڈتے رہ جائیں۔یہ صورتحال ہم سے پر خلوص توجہ کی طالب ہے،ہمیں کامیابی کے ساتھ جیناہو گا بصورت دیگر ایک روز ہم اپنی شناخت بھی کھو بیٹھیں گے۔