مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
وزارت داخلہ کی دو مراحل پرمشتمل نئی سکیورٹی پالیسی متعلق وزیراعظم پاکستان کو بریفنگ
اسلام آباد ... وزیراعظم پاکستان کےمیاں محمد نواز شریف نے منگل کو وزارت داخلہ کا دورہ کیا جہاں انھیں ملک کی نئی سکیورٹی پالیسی کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس بریفنگ کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فوری داخلی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں زیادہ توجہ ایک ایسے ادارے کے قیام پر ہے جو ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کی نگرانی بھی کرےباہمی تعاون بھی کرے اور مجموعی صورتحال کو بھی دیکھے..اس ادارے کا نام نیکٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیکٹا گزشتہ دورِ حکومت میں قائم کیا گیا لیکن ابھی تک غیرفعال ہے اور اس کا ابھی تک سربراہ اور نائب سربراہ بھی نہیں تھا لیکن اب سکیورٹی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے نیکٹا کو فعال بنایا جائے گا اور قانون سازی کے مطابق نیکٹا کے تمام خالی عہدوں پر اہلکار تعینات کرنے کے لیے اشتہار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں پر مشتمل ایک مشترکہ انٹیلی جنس سیکریٹریٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ ’یہ سیکریٹریٹ تمام انٹیلیجنس ایجنسیاں جس میں آئی ایس آئی، آئی بی اور تمام صوبائی ایجنسیوں کا فوکل پوائنٹ ہوگا اور اسے مکمل طور پر جدید خطوط پر تشکیل دیا جائے گا اور دنوں میں نہیں گھنٹوں پر ایکشن ہوگا‘۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ نیشنل سکیورٹی پالیسی کو دو حصوں میں تقسم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ایک داخلی پالیسی جس میں سرفہرست انسداد دہشت گردی پالیسی ہے اور اس کا اعلان پہلے مرحلے میں کیا جائے گا۔ نیشنل سکیورٹی پالیسی کے دوسرے حصے میں سٹریٹیجک اور بیرونی نتائج پر مبنی ہو گی۔