مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
غزہ ہم شرمندہ ہیں
دنیا بھر کی مسلمان کمیونٹی ماہ رمضان کا آخری عشرہ انتہائی کرب کی حالت میں گزار رہی ہے او ر عید کی یہ خوشی دردمند اور اہل ایمان کیلئے بے حد پریشانی اور دکھ میں تبدیل ہو چکی ہے جس کی وجہ فلسطین میں بے یارو مددگار مسلمانوں پر اسرائیل کی ظلم و بربریت ہے ننھے معصوم بچوں سے لے کر باپردہ خواتین تک اور بیمار و ضعیف بوڑھوں سے لے کر نوجوانوں تک کو بغیر تفریق سے بارود کی نظر کیا جا رہا ہے ۔ میڈیا دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور ہر کوئی تصویر کا ایک ہی رخ دکھانے پر زور لگا رہا ہے لیکن ان سیاسی حرکات میں انسا نی پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کے مطابق انسانیت کی نہ صرف تذلیل ہو رہی ہے بلکہ خون کو پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اور ان ظالموں اور قاتلوں کو عوامی سطح پر تو مذمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن عالمی طاقتوں سے لیکر کمزور حکومتوں تک ہر ایک نے مجرمانہ چپ سادھ رکھی ہے دنیا کی پہلی ایٹمی مسلمان طاقت کے حکمرانوں کو اپنی کرسی کا تحفظ مسلمانوں کی جان و مال سے زیادہ عزیز ہے اس لئے ان کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں دنیا اسلام کی نام نہاد بڑی طاقتیں اپنی بے رخی اور نظر انداز کرکے اعلیٰ معیار کو چھو رہی ہیں ذاتی عیش و عشرت اور اقتدار کی ہوس میں بدقسمت شہنشاہ اور بادشاہ اللہ کے عذاب اور روزے آخرت کے سوال و جواب سے بے بہرہ ہو کر محض دنیاوی دوکان چمکانے میں لگے ہیں جمہوری حکومتوں کے سرکردہ …کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیلی مظالم کو روکنے کیلئے عالمی دبائو بڑھانے سے محض اس لئے خوف زدہ ہیں کہ عالمی طاقتیں ان سے ناراض ہو کر دنیاوی دولت بنانے کے مواقع نہ چھین لیں ایمان کے کمزور یہ نام نہاد رہنما کیا نہیں جانتے کہ ان سے پہلے بھی کرنسل قذافی ، صدام حسین اور حسنی مبارک جیسے لیڈر چلے گئے انہوں نے بھی چلا جانا ہے ان کے ساتھ دولت کا ایک زدہ بھی نہیں جائے گا بلکہ محض اعمال کی بنیاد پر ان کا ’’ احتساب ‘‘ ہو گا وہاں پر نہ کوئی جج خرید پائے گا نہ میڈیا گروپ ، اور نہ ہی وہاں کوئی خوشامد کرنیوالا اینکر ملے گا جو کسی ٹیوب کو پنکچر لگا سکے ۔ عبادات کا اجرو ثواب اپنی جگہ لیکن انسانیت اور وہ بھی امت مسلمہ پر ظلم و جبر پر خاموشی اللہ کی پناہ ، آئے روز امت مسلمہ کے باہمی جھگڑے ، نا اتفاقیاں ، اخوت و بھائی چارے کے دینی درس سے قطع تعلقی جیسے اعمال کے ذریعے ہمیں کون سی منزل ملے گی لیکن دوسری جانب عالم کفر اپنے حکمرانوں کے خلاف فلطین کے نہتے عوام کے حق میں جگہ جگہ احتجاجی مظاہروں میں مصروف عمل ہے عام مسلمان بھی ان کے شانہ بشانہ سڑکوں پر ہونے کے ساتھ سوشل میڈیا پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف بر سر پیکار ہیںلیکن ان نعروں ، احتجاجوں اور بائیکاٹ کی اپیلوں میں اس وقت تک جان نہیں آئے گی جب تک مشترکہ طور پر مسلمان حکومتیں میدان عمل میں نہ آئیں مقام افسوس ہے کہ عالمی سطح پر امت مسلمان جس دور سے گزر رہی ہے اس میں قیادت کا فقدان کھل کر سامنے آرہا ہے بے حس ، بدیانت اور کرپٹ حکمران اپنے اپنے مورچوں میں آنکھیں ، کان دل اور دماغ پر قفل لگا کر خرگوش کی نیند سو رہے ہیں اور ہمارے دشمن جگہ جگہ اندرونی و بیرونی سطح پر ہمیں اتنی تیزی سے کمزور کر رہے ہیں کہ آنیوالے وقتوں میں اپنے پائوں پر کھڑے رہنے کی بھی امید دکھائی نہیں دے رہی لیکن ہم اس وقت تک مایوس نہیں ہیں جب تک کسی ایک خطے سے ’’ انقلاب ‘‘ کی ہوا چلے گی اور ان اقتدار میں سد مست ہاتھیوں کو اڑا لے جائیگی تب عالمی سطح پر امت مسلمہ کو ایک بار پھر ایسی طاقت ور آواز نصیب ہو گی جس کے سامنے طاغوتی طاقتوں کو بھی منہ کی کھانی پڑے گی ۔ (آفتاب بیگ ؍آکسفورڈ )