مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سیاستدان برطانیہ آکر سفارتی محاذ پر ہماری کوششوں پر پانی مت پھیریں: تحریک حق خود ارادیت
بریڈ فورڈ ... برطانوی پارلیمنٹ میں ہونیوالی بحث خالصتاً برٹش کشمیریوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے ، برطانیہ بھر میں کشمیر پٹیشن پر دستخطی مہم چلا کر جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت یورپ نے ممبران پارلیمنٹ کے ہمراہ لابنگ کی ہے،اس میں آزاد کشمیر کی کسی شخصیت کا کوئی کردار نہیں. آزاد کشمیر سے آکر سیاستدان سفارتی محاذ پر جاری جدوجہد میں مداخلت کرکے مسئلہ کشمیر اور یورپی سیاستدانوں کو کنفیوز نہ کریں ۔ تحریک آزاد کشمیر بیرون ملک کشمیریوں اور انکے ہمدرد سیاستدانوں کی بدولت یورپی حکمرانوں تک پہنچی ہے ۔ چند ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ فوٹو بنوا کر مسئلہ کشمیر اجاگر نہیں ہو سکتا ۔ برطانوی اور یورپی ممبران پارلیمنٹ اپنے ووٹروں اور مضبوضہ کشمیر کے حالات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھاتے ہیں یورپی اور برطانوی پارلیمنٹ میں گزشتہ تیس سال سے سرگرم کشمیر گروپس بھی برطانوی کشمیری تنظیموں کی کاوشیوں سے بنے ہیں اور آئندہ بھی برٹش کشمیری اپنے مظلوم بھائیوں اور بہنوں کیلئے سفارتی محاذ پر جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ کشمیری لیڈر آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو مقامی سطح پر حقوق دلوائیں ، بیرون ملک سرگرمیاں ہم پر چھوڑ دیں جو بلا امتیاز سیاسی وابستگی ریاستی عوام کے حق خودارادیت کے حصول اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانے کیلئے اپنی ساری توانائیاں خرچ کرینگے ۔ جموں و کشمیر تحریک خودارادیت یورپ کی موجودہ ٹیم اور گزشتہ 30 سال سے ہمارے ساتھ چلنے والے ساتھی گواہ ہیں کہ ہم نے یہاں کی سیاسی پارٹیوں برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے تعاون سے ہر محاذ پر موثر لابی کرکے کبھی کریڈٹ لینے کی بات نہیں کی مگر بڑے افسوس کے ساتھ آج ہمیں بذریعہ میڈیا عوام کو آگاہ کرنا پڑ رہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے آزاد کشمیر کے ایک سینئر سیاستدان آزاد کشمیر اور برطانیہ و یورپ اخبارات کے ذریعے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یورپی اور برطانوی ایوانوں میں سارا کام وہ کر رہے ہیں حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں ۔ موجودہ بحث کیلئے جو درخواست دی گئی ہے وہ ڈیوڈ وارڈ نے تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین اور انکے ساتھیوں کے کہنے پر دی ہے اور جن جن ممبران پارلیمنٹ نے اس میں اپنے نام دیئے ہیں وہ بھی راجہ نجابت حسین کی درخواست پر انہوں نے کنفرم کیے ہیں اور وہ اگر مسئلہ کشمیر پر ہماری حمایت کر رہے ہیں تو اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں جن میں بڑی تعداد کشمیریوں اور پاکستانیوں کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار جموں و کشمیر تحریک خودارادیت یورپ کے عہدیداروں سرپرست سردار عبدالرحمن خان ، چیئرمین راجہ نجابت حسین ، سیکرٹری جنرل محمد اعظم نے یہاں ایک مقامی ریسٹورنٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کے مشیر شوکت راجہ ایڈووکیٹ ، بریڈ فورڈ کے سابق لارڈ میئر محمد عجیب ، کونسلر محمد شفیق ، سابق کونسلر محمد شریف ، پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما شاہ محمد کھوکھر ، خواتین رہنمائوں صبیحہ خان ، تعظیم سویر، بیرسٹر شازیہ انجم ، روبینہ یاسمین ، عطرت علی اور دیگر ہمدرد رہنما شامل تھے ۔ تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے اس موقع پر برطانیہ بھر کے کونسلروں ، خواتین رہنمائوں اور مختلف سیاسی سماجی اور مذہبی تنظیموں کے رہنمائوں کے علاوہ ان تمام ممبران پارلیمنٹ کے تعاون پر جہاں انہیں خراج تحسین پیش کیا وہاں ایشین میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ عوام کے سامنے حقائق لائیں اور بعض کشمیری لیڈروں کی طرف سے میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانیوالے اس تاثر کو زائل کریں کیونکہ کام تو برٹش کشمیری کر رہے ہیں اور وہ کسی ایک لیڈر یا سیاسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کا کیس بیرون ملک میں اجاگر کر رہے ہیں اور یہ جدوجہد مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے ۔ اس موقع پر بریڈ فورڈ ایسٹ سے لبرل ڈیمو کریٹ ممبر پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ ایم پی نے بھی میڈیا کی موجودگی میں کہا کہ انہوں نے کشمیر پٹیشن کی ساری مہم اور ہائوس آف کامنز کے متعدد اجلاس بلانے کیلئے تحریک حق خودارادیت یورپ کی درخواست کی کاوشوں میں مدد کی اور آخری درخواست بھی اس تنظیم کے کہنے پر بیک بنچ بزنس کمیٹی میں داخل کروائی جس کی منظوری ہو چکی ہے اور جب ستمبر میں تاریخ اور وقت ملے گا تو میری تمام کشمیریوں سے اپیل ہو گی کہ وہ کوشش کرکے کم از کم پچاس ممبران پارلیمنٹ کو بحث میں شرکت پر آمادہ کریں کیونکہ جتنے زیادہ ممبران پارلیمنٹ بحث میں حصہ لیں گے اتنا ہی برطانوی حکومت کے ذریعے بھارت پر دبائو ڈالنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر پر بحث کیلئے آزاد کشمیر کے کسی بھی لیڈر نے نہیں کہا بلکہ تحریکی رہنما اس سارے عرصے میں مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور اس بحث میں برطانوی حکومت کا وزیر خارجہ بھی موجود ہو گا جو حکومتی نکتہ نظر اور ممبران پارلیمنٹ کے جذبات سنے گا ۔ اس موقع پر تحریک کے سرپرست سردار عبدالرحمن خان نے تمام کشمیری لیڈروں سے کہا کہ وہ تحریک کے کام کا کریڈٹ لینے کی بجائے ہمارے پروگراموں میں اپنے ہمدردوں کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ ہم سارا کام کسی لیڈر کے حق یا مخالفت میں نہیں کر رہے بلکہ اپنے مظلوم کشمیری عوام کی بیرون ملک نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں ۔ سیکرٹری جنرل محمد اعظم نے کہا کہ تحریکی عہدیدار کسی ملک حکومت یا ادارے کیلئے بلکہ برطانوی اور یورپی کشمیریوں کے مخلصانہ تعاون سے مسئلہ کشمیر پر کام کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کے مشیر شوکت راجہ ایڈووکیٹ نے تحریکی عہدیداروں کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت ایسی تنظیموں کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انکی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گی ۔ (بیورو رپورٹ:فیاض بشیر)