مقبول خبریں
راچڈیل، ساہیوال جیسے شہروں کے رشتے کو مثالی بنایا جائیگا: ممبر پنجاب اسمبلی ندیم کامران
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
قدیم ترین مسجد میں نیا ثقافتی مرکز
روس کے علاقے کازان میں ماہ رمضان کے دوران ایک نیا ثقافتی مرکز وجود میں آیا ہے۔ یہ شیگابتدین (شہاب الدّین) مردجانی سے منسوب ہے۔ مرکز بارے پیشکاری افطار کے وقت اسی مسجد میں ہوئی جو اس نامور تاتار دانشور اور عالم دین کے نام سے موسوم ہے۔ یہ ری پبلک تاتارستان کی سب سے قدیم اور سب سے زیادہ یاد رکھی جانے والی مسجد ہے۔ اس کی تعمیر 1766 تا 1770 کاآغاز روسی ملکہ معظمٰی ایکاترینا عظمٰی کے دورہ کازان کے بعد ہوا تھا۔ چنانچہ جلد ہی روس کے مسلمان مسجد مردجانی کی ڈھائی سوویں سالگرہ منانے والے ہیں۔ مسجد مردجانی کے امام منصور جلالتدینوو نے بتایا:"پہلے ہماری مسجد کے تحت مہمان خانہ، بوڑھے افراد کی آماجگاہ، یتیم خانہ اور تعلیمی ادارہ تھے۔ پہلے بھی مسلمان اس سب کے لیے سعی کرتے تھے اور آج ہم بھی اس پر گامزن ہیں۔ شکر الحمدللہ ہماری مسجد کے ساتھ اب بھی یہ سب کچھ ہے۔ مگر ہم نے اسی پہ بس نہیں کیا ۔ ہم آگے بڑھ رہے ہیں"۔ تاتارستان مین شیگابتدین مردجانی کے نام سے صرف کازان کی مسجد اور یہ نیا تشکیل ہونے والا اسلامی ثقافتی مرکز ہی موسوم نہیں بلکہ تاتارستان کی اکادمی علوم کے تحت انسٹیٹیوٹ برائے تاریخ شناسی، مہد کودکان اور ایک سڑک بھی ان کے نام سے موسوم ہے۔شہر کے مسلمان مردجانی کا نام فخر سے لیتے تھے اور لیتے ہیں۔ مذہبی رہنما، مفکّر، فلسفی، مورّخ، ماہر نسلیات اور مدرّس، انہوں نے اپنے پیچھے عربی زبان میں تحریر کردہ تقریبا" تیس مقالے اور تبصرے چھوڑے ہیں۔ یہ علم ہئیت، نحو، منطق، کلام، صرف، فقہ، تربیت اور تاتاروں کی تاریخ سے متعلق ہیں۔ کازان کی اس جامع مسجد کو مردجانی کا نام 6مارچ 1850 کو دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس مسجد میں چالیس برس خدمات سرانجام دی تھیں۔ مسجد کے نزدیک انہوں نے ایک مدرسہ تعمیر کرایا تھا جسے مدرسہ مردجانی کہا جاتا ہے۔ اس مدرسے میں مدرس کے فرائض سرانجام دینے والے یہ امام 1889 میں اپنی زندگی کے اختتام تک قرآن کے بہترین عالم خیال کیے جاتے تھے جو دینی اجتماع میں کازان میں شائع ہونے والے قرآن کریم کے نسخے کی تصحیح کرتے رہے تھے۔ مردجانی اس مسجد سے تھوڑی ہی دور اسی سڑک پر رہتے تھے۔ ان کا گھر آج بھی محفوظ ہے۔ اس کی مرمت کر دی گئی ہے اور بہت امکان ہے کہ جلد ہی کازان مین ایک نیا عجائب گھر وجود میں آ جائے۔ فی الحال جیسا کہ مولوی منصور کہتے ہیں:" ابھی ہم نے مسجد میں ایک چھوٹا سا عجائب گھر بنایا ہے، جہاں وہ چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں جو مردجانی کے استعمال میں رہی تھیں۔ یہ چیزیں محفوظ ہیں"۔ روس میں آج بہت سے مراکز اسلامی کہلاتے ہیں۔ کازان میں ہی ایک مرکز "ایمان" کے نام سے ہے جو بنیادی طور پر مذہبی ادب شائع کرتا ہے۔ ماسکو میں بھی اسلامی مراکز ہین جو تعلیمی اور فکری سرگرمیاں کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ شیگابتدین مردجانی سے موسوم ثقافتی مرکز کی دلچسپیوں کا دائرہ وسیع تر ہوگا۔ چونکہ دانشور موصوف کی دلچسپیان مختلف الجہات تھیں اس لیے ان سے منسوب اسلامی مرکز کی سرگرمیوں سے متعلق بھی بہت کچھ وعدے کیے جا رہے ہیں۔ اس مرکز نے اپنی سرگرمی کا آگاز ماہ رمضان مین کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین سے آنے والوں کی مدد کرنے میں اس مرکز کا ہاتھ بٹائیں۔ سب کچھ کسی بھی مذہب سے وراء رہ کر کیا جائے گا۔ (بشکریہ: صدائے روس)