مقبول خبریں
یوم عاشور کے حوالہ سے نگینہ جامع مسجد اولڈہم میں روح پرور،ایمان افروز محفل کا اہتمام
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
دنیا کوکنفیوژ کرنے والے کشمیریوں کا محاسبہ کب؟
تیرہ جولائی 1931ء کا دن کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے۔ اس روز سرینگر کی سینٹرل جیل میں 22 مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ قرآن کی بے حرمتی پر کشمیر کے مسلمان سراپا احتجاج تھے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نوجوان نے مہاراجہ کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور ان پر مقدمہ چلایا۔ مقدمے کے دوران نماز کا وقت آگیا اور ایک مسلمان نے اذان شروع کی اور اذان کے اختتام تک 22 مسلمان شہید ہوگئے۔ اس واقعہ اور 1947ء میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود آنے والا ملک پاکستان اور حالیہ تحریک آزادی کا آپس میں بڑا گہرا تعلق اور مماثلت ہے۔ 13 جولائی کے شہیدوں اور اس کے بعد 5 لاکھ مسلمانوں کی شہادت سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیر میں اگر مسلمانوں کی اکثریت نہ ہوتی تو آج اتنی بڑی تعداد میں شہدا نے تاریخ رقم نہ کی ہوتی اور آج جسے متنازعہ اور مسلم کشمیر کہا جاتا ہے اس کا کہیں نام و نشان تک نہ ہوتا۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کی ریاستیں جہاں مسلمان حکمران تھے اور ہندو اکثریت تھی، بھارت نے ان ریاستوں پر جب قبضہ کرلیا تو وہاں سے کوئی تحریک نہیں اٹھی، جبکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، ایک غیر مسلمان حکمران تھے جب بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کیں تو اس کے خلاف کشمیریوں نے شدید مزاحمت کی، کشمیر کے ایک حصے کو آزاد بھی کرالیا گیا جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 13 جولائی اور اس کے بعد کے حالات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں نے ہمیشہ غاصب قوتوں کے تسلط کو قبول نہیں کیا۔ مسلمانوں کی اکثریت اور آزادی کے راستے میں شہادتیں اور قربانیاں پیش کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کشمیر میں بسنے والے غیر مسلمانوں کا کشمیر میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بعض لوگ دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید آزادی کی یہ تحریک غیر مسلموں کے خلاف ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کا غیر مسلم اقلتیوں کے ساتھ کبھی بھی آپس میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا کہ جس میں مسلمانوں نے کوئی زیادتی کی ہو۔ صدیوں سے آپس میں ایک دوسرے کو برداشت بھی کیا۔ البتہ بھارت نے کئی مرتبہ یہ کوشش کی ہے کہ یہاں مذہبی منافرت پھیلاکر حالات کو خراب کیا جائے۔ 1990ء میں شروع ہونے والی تحریک آزادی کے دوران بھی مسلمانوں کا غیر مسلم کمیونٹی کے بارے میں طرز عمل انتہائی مثبت رہا ہے جن ہندو پنڈتوں کو بھارت نے خود کشمیر سے نکالا تھا کہ بھارتی فوج مسلمانوں کا آپریشن کرسکے ان پنڈتوں نے اپنے گھروں کی چابیاں بھی مسلمانوں کے حوالے کرکے گئے تھے۔ کشمیر کے مسلمانوں نے ان مشکل ترین حالات میں بھی غیر مسلم کمیونٹی کو اپنا حصہ سمجھا اور انصاف کا دامن نہیں چھوڑا۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بھی جب وقت آئے گا اس کا فیصلہ صرف مسلمان ہی نہیں کریں گے غیر مسلم بھی اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔ بے شک انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کا اس طرح ساتھ نہیں دیا جس طرح تحریک آزادی کا تقاضہ ہے۔ تحریک آزادی سے وابستہ قوتوں نے کبھی بھی مسلم اور غیر مسلم کا تنازعہ کھڑا نہیں کیا۔ البتہ کشمیریوں کے اندر بعض عناصر موجود ہیں جو دنیا کوکنفیوژ کرنے کے لیے اسے مذہبی جنگ کا مسئلہ بناکر پیش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حق خودارادیت کا مسئلہ ہے ساری کمیو نیٹیز اس کا حصہ ہیں۔ (محمد غالب ، برمنگھم)