مقبول خبریں
دار المنور گمگول شریف سنٹر راچڈیل میں جشن عید میلاد النبیؐ کے حوالہ سےمحفل کا انعقاد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث کیلئے تحریک حق خودارادیت نے سترہ مزید پارلیمنٹیرینز کی حمائت حاصل کرلی
بریڈ فورڈ : برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث کیلئے درخواست جمع کرا دی گئی، ہائوس آف کامنز کے سترہ ارکان نے بیک بینچ بزنس کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی ہائوس آف کامنز میں مسئلہ کشمیر پر تفصیلی بحث کیلئے تاریخ دی جائے جس کا فیصلہ 15 جولائی منگل کو ہو گا ۔ بریڈ فورڈ ایسٹ کے ممبر پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ کے دفتر نے جموں و کشمیر تحریک خودارادیت یورپ کے ایماء پر ستر سے زائد برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ممبران اور یورپی ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ کشمیری و پاکستانی کونسلروں ، خواتین تنظیموں اور کشمیر دوست عوام کی حمایت سے اس مہم کی سر پرستی کی ہے جبکہ برطانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان خصوصاً بریڈ فورڈ کے پانچوں ارکان پارلیمنٹ ، ہالی فیکس کے دونوں ارکان، لیڈز کے چار ارکان ، اولڈہم کے دونوں ممبران پارلیمنٹ ، بری سے دونوں ارکان ، بولٹن کے دو خواتین ارکان ، پنڈل سے ممبر پارلیمنٹ اور پاکستان پارلیمنٹری گروپ کے چیئرمین اینڈرو سٹیفن ، برنلے کے ممبر پارلیمنٹ گورڈن برٹوسل ، مانچسٹر کے پانچ ارکان ، گلاسگو سے انس سرور ، برمنگھم سے خالد محمود اور جان ہیمنگ ، نوٹنگھم سے کرس لیزلے اور بلئین گرین ووڈ ، شفیلڈ سنٹرل کے ممبر پارلیمنٹ پال ، بلفیلڈ اور رادھرم سے سارہ چیمپئن اور لیوٹن کے دونوں ارکان پارلیمنٹ گیون شکر ، کیلون ہوپکنز ، سکنتھورپ سے نک ڈیکن ، لندن سے جان کرئر سمیت برطانوی ہائوس آف لارڈز کے تمام پاکستانی نژاد ارکان پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد ، لارڈ قربان حسین ، بیرونس راہدہ منظور ، بیرونس پولا الرین ، وٹفورڈ کے ممبر پارلیمنٹ رچرڈ ہیرنگٹن ، یورپی پارلیمنٹ میں کنزرویٹو گروپ لیڈر سید کمال MEP، لیبر گروپ لیڈر گلینس ویلموٹ ایم ای پی کے علاوہ برطانیہ کے یورپی پارلیمنٹ کی تینوں سیاسی پارٹیوں کے درجنوں نو منتخب اور سابق ممبران نے تحریک کی اس مہم کی حمایت کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے چند اہم ارکان جیسن میکارٹنی ، فیونا میگٹگرٹ ایم پی، ڈاکٹر سائمن ریول اور دیگر نے بھی تفصیلی بحث کیلئے کشمیر پٹیشن کی دستخطی مہم میں تعاون کیا جس پر ہزاروں لوگوں نے بھی دستخط کرکے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے جس کیلئے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیا جائے اور ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کروانے کے اقدامات کئے جائیں ۔ جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین اور سرپرست سردار عبدالرحمن خان ، سیکرٹری جنرل محمد اعظم اور دیگر رہنمائوں نے درخواست جمع کروانے کے بعد ڈیوڈ لارڈ سے انکے دفتر میں خصوصی ملاقات کرکے مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جبکہ اولڈہم کے سینئر پارلیمنٹرین اور سابق وزیر مائیکل میچر ایم پی سے ملاقات کرکے انکی معاونت اور سرپرستی کی درخواست کی ۔ دونوں ارکان پارلیمنٹ نے تحریکی وفد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحث کی حتمی تاریخ ملنے کے بعد برٹش کشمیری اگر ملک بھر سے اپنے ہمدرد ممبران کی بڑی تعداد کو ہائوس آف کامنز میں پابند کر سکیں تو مسئلہ کشمیر کے حل میں اسکے مثبت نتائج پڑیں گے ۔ راجہ نجابت حسین نے برطانیہ بھر کے ان دوستوں ، ساتھیوں اور کونسلروں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جن کی معاونت سے مختلف شہروں میں ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ لابی اجلاس منعقد کئے گئے جبکہ مذہبی رہنمائوں خصوصاً حافظ فضل احمد قادری ، علامہ ساجد محمود فراشوی ، چوہدری طالب حسین ، حاجی کرامت حسین ، ملک رحمت اعوان ،حاجی محبوب حسین صوفی محمد اکبر اولڈہم کے علاوہ پیپلز پارٹی ، مسلم کانفرنس ، مسلم لیگ ن ، برٹش کشمیری وویمن کونسل ، لندن سے پروفیسر شاہد اقبال کی ٹیم ، ہائی ویکمب سے میاں غلام رسول ، بریڈ فورڈ مسلم وویمن فورم ، تحریک انصاف برطانیہ ،نوٹنگھم کے سابق لارڈ میئر کونسلر گلنواز ، مانچسٹر کے سابق لارڈ میئر کونسلر نعیم الحسن ، بریڈ فورڈ کے سابق لارڈ میئرز ، ہالی فیکس کے سابق میئر کونسلر ارشد محمود ، اولڈہم کے سابق میئر کونسلر شعیب اختر ، موجدہ میئر کونسلر فدا حسین ، راجہ آفتاب شریف ، تحریک کے رہنمائوں سالار ممتاز چشتی ، امجد حسین مغل ، چوہدری محمد اکرم ، خواتین رہنمائوں صبیحہ شہزاد ، صبیحہ خان ، کونسلر یاسمین ڈار ، شبانہ عباسی ، کونسلر شاہینہ ہارون ، کونسلر تیمور طارق ، کونسلر اختر زمان ، کونسلر محمد ایوب ، بریڈ فورڈ کے ڈپٹی لیڈر کونسلر عمران حسین ، کونسلر رضوانہ جمیل ، کونسلر ناظم اعظم ، کونسلر محمد شفیق، لیوٹن کے سابق میئر کونسلر ریاض بٹ، پروفیسر لیاقت علی وٹفورڈ، ڈربی سے سابق میئر کونسلر فرید حسین، حاجی محمد بشیر، کونسلر گلفراز نواز، شفیلڈ کے کونسلر ابرار حسین، سلائو سے راجہ ذاکر کیانی، ارشاد ملک، سکنفورپ سے سابق میئر کونسلر اسحاق جاوید، سردار عابد، لیڈز سے کونسلر اصغر خان قریشی، کونسلر محمد رفیق، سردار سہراب خان، ارشد کھٹانہ، ڈیوزبری سے عطرت علی، نیلسن سے ڈاکٹر جہانگیر قاضی، قاضی شکیل الرحمان،محبوب احمد،برنلے سے شہناز صدیق، سید اعجاز حسین شاہ، بلیک برن سے چوہدری شیرعالم، خواتین رہنمائوں کونسلر حلیمہ خالد، رمنا شمع نذیر نجمہ حفیظ، شمیم محمود اختر، سید سلطانہ، محمد سلیم ودیگر تمام رہنمائوں اور ارکان کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برٹش کشمیریوں نے جس منظم انداز میں برطانیہ اور یورپ کے ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اپنے ہم وطنوں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تحریک آزادی کو سفارتی محاذ پر جاری رکھے ہوئے ہیں اسی سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حوصلے بھی بلند ہونگے اوربھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں بھی مدد ملے گی اس موقع پر راجہ نجابت حسین نے برطانیہ اوریورپ میں متحرک تمام سیاسی وسماجی رہنمائوں اور کونسلروںسے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیرپربرادری اورعلاقے اور اقتدار کی سیاست کرنیوالوں کی بجائے حب الون قوتوں اور تنظیموں کا ساتھ دیں تاکہ ریاستی عوام کی آزادی کیلئے منزل قریب آسکے،تحریکی عہدیداروں نے بھارتی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے مبصرین کومقبوضہ کشمیر میں عمارتیں خالی کرنے،آزادکشمیر کو پانچ سالوں کے اندرفتح کرنیکی نئی بھارتی حکومت کے دعوے اور مقبوضہ کشمیرکے حوالے سے بھارتی آئین کی دفعہ 370کے خاتمے پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیاکہ وہ بھارت کی طرف سے اٹھائے جانیوالے ان اقدامات کا نوٹس لیں اوربرصغیرمیںدوایٹمی قوتوںکے درمیان متوقع تصادم کوروکنے کیلئے مسئلہ کشمیرکاپرامن سیاسی حل جوتمام فریقوںخصوصاًکشمیریوں کوقابل قبول ہونکالیں،تحریکی رہنمائوں نے اگلے چندروز میںبرطانیہ کے مختلف شہروںسمیت پارلیمنٹس میںبھی تقریبات منعقد کرانے کا بھی فیصلہ کیاہے۔