مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
گلو . . . ان لندن
گزشتہ ماہ منہاج القرآن لاہور میں ریاستی دہشتگردی کے واقعہ نے قومی سطح پر جو نیا کردار متعارف کروایا ہے وہ ’’گلو بٹ ‘‘ ہے مولا جٹ فیم اس گلو کا گلستان سیاست سے تعلق ہے جو صرف پاکستان یا بھارت جیسے ممالک میں ہی پایا جاسکتا ہے جہاں کی عوام کو محض اس لیے تعلیم کی روشنی سے دور رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس روشنی میں انہیں اپنے رہنمائوں کے وہ کالے کرتوت دکھائی نہ دے جائیں جن کا مظاہرہ وہ انہی عوام کی نام نہاد نمائندگی کے ذریعے گزشتہ ساٹھ سے زیادہ سالوں سے کرتے آرہے ہیں ۔ گلو بٹ کا کردار کبھی بھی پاکستانی سیاست سے خارج نہیں رہا بلکہ گائوں کی گلی محلے کی سیاست سے لے کر قومی سطح پر کردار ادا کرنے کی دعویدار ہر بڑی سیاسی پارٹی میں یہ نمایاں رہے ہیں لیکن کیمرے کی آنکھ سے اوجھل ہونے کی وجہ سے ان کا بد نما چہرہ تمام لوگوں تک نہ پہنچ سکا اب وقت ، حالات اور عوامی سوچ کا شعوری معیار بدل چکا ہے سوشل نیٹ ورک کے اس تیز ترین دور میں کالا اور سفید کھل کر صاف صاف دکھائی دیتا ہے گلو بٹ کا یہ کردار جو ماڈل ٹائون میں دکھائی دیا وہ تو ہمارے معاشرے کا محض ایک جز ہے حقیقتاً دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کے ہر ہر جز میں گلو بٹ نہ صرف دکھائی دے گا بلکہ اپنی موجودگی کا احساس بھی دلائے گا ۔ محکمہ تعلیم میں نقل مافیا ، محکمہ صحت میں جعلی ڈاکٹرز اور جعلی دوائی مافیا ، عدلیہ میں چمک مافیا ، پولیس کا حال آپ نے ملاحظہ فر ما لیا ۔ اور تو اور مذہبی طبقات میں بھی ’’ اشرفی ‘‘ ٹائپ مافیا کا فقدان نہیں ہے جبکہ اہم ترین ریاستی ستون ’’ آزاد ‘‘ میڈیا میں بھی گلو بٹ جگہ جگہ ملیں گے جن کو آتا جاتا کچھ نہیں لیکن موٹر سائیکل سے لکر کر کاروں تک ’’ پریس ‘‘ کی پلیٹ پر دندناتے پھرتے ہیں اور جو بڑے نام بڑے شہروں میں بستے ہیں ان کی قابل ذکر تعداد اپنی اپنی پسند کے سیاستدانوں کی کمپنی مشہوری اور ان کے مخالفین کے کپڑے اتارنے کی ذمہ داری ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ برطانیہ جیسے مضبوط جمہوری ملک میں بھی پاکستانی کمیونٹی نے اپنی اصلاح کے اس پہلو کو نظر انداز کیا ہوا ہے کہا جاتا ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے لیکن ہماری کمیونٹی کیلئے یہ مثال بھی منفی کاموں کے زمرے میں آتی ہے ۔ لندن میں بھی کچھ ’’ گلو بٹ صحافی ‘‘ بیٹھے ہیں جن کو ایک ایسے ہی رنگیلے صاحب کے زیر سایہ کام کرنے کا موقع مل گیا ہے جن کی قابلیت گلو بٹ کی قابلیت سے زیادہ نہیں ہے فرض صرف اتنا ہے کہ ان صاحب نے اپنی مشابہت کو تبدیل کرنے کیلئے مونچھیں صاف کروا دی ہیں دو افرار پر مشتمل اس گلو بٹ کمپنی کا کام محض اتنا ہے کہ اپنے قلم اور کیمرے کا جتنا چاہے غلط استعمال کر لیں یہ کسی کے آگے جوابدے نہیں ہیں اور اپنی اس نام نہاد طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ جب چاہیں کسی بھی شریف کے کپڑے کہیں بھی اتار دیں چونکہ یہ خود ہر وقت ’’ ننگ تڑنگ ‘‘ رہتے ہیں لہٰذا انہیں یہ بات محسوس ہی نہیں ہوتی کہ وہ ’’ قلم و کیمرے ‘‘ کے مقدس روزگار کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں پوری برطانوی پاکستانی کمیونٹی جس اخبار پر مکمل اعتماد اور فخر کرتی تھی اب ان دو احباب کی وجہ سے اپنی عزتیں اور آنکھیں بچاتی پھرتی ہے کیوں کہ سر اور مونچھوں سے صاف گلو بٹ لندن کی لڑکوں پر دندناتے پھر رہے ہیں سب کی عافیت اس میں ہے کہ ان کے ’’ وار ‘‘ سے بچے رہیں اور اگر سامنا ہو بھی جائے تو لے دے کر اہیں چپ کروا دیں ورنہ یہ لوگ بھی گلو بٹ کی طرز پر آپ کے کردار کی پراپرٹی کو کسی ڈر اور خوف کے بغیر تار تار کر سکتیں ہیں اور یہ ان کی بہادری یا جوان مردی نہیں ہے بلکہ اس بات کا احساس محرومی ہے کہ جو کردار کی پراپرٹی (عزت و شرم ) ان کے پاس نہیں ہے وہ کسی اور کے پاس کیوں کر رہے ۔ جیتے رہو گلو بٹ آف لندن تمہاری پکڑ کا وقت بھی اب زیادہ دور نہیں ہے ۔ لوگوں نے لنگوٹے کس لیے ہیں اب لندن میں بھی میدان لگنے کو ہے ۔