مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم . . . .محترمہ فاطمہ جناح
اصول پسندی ، حب الوطنی ، غیرت مندی، حق گوئی ، بے باکی، عظم و ہمت ۔۔۔یہ ساری خوبیاں اس ہستی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جنہیں محترمہ فاطمہ جناح کہتے ہیں۔ قوم نے فاطمہ جناح کو ’’مادرِ ملت‘‘ اور ’’خاتون پاکستان‘‘ کا خطاب دیا۔ محترمہ 31جولائی1893ء کو کراچی میں پیدا ہوئی۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بہن تھیں۔ آپ عمر میں قائد اعظم محمد علی جناح سے بہت چھوٹی تھی مگر زندگی کے ہر موڑ پر آپ نے اپنی عمر سے بڑھ کر اپنے بھائی کا ساتھ دیا۔ ان کی پیدائش کے وقت قائد اعظم اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے انگلستان میں مقیم تھے۔ فاطمہ جناح ابھی دو برس کی تھی کہ اُن کی والدہ وفات پا گئیں۔ آپ اپنے بھائی سے اس وقت ملیں جب وہ1896ء میں بیرسٹر بن کر واپس آئے۔ 1902ء کو جب اُن کے والد کا بھی انتقال ہو گیا تو گھر کی تمام ذمہ داری محمد علی جناح نے سنبھالیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے چھوٹی بہن کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا ۔ اس زمانے میں مسلمان لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا بہت بُرا سمجھا جاتا تھا۔ مگر انہوں نے خاندان بھر کی مخالفت مول لے کر فاطمہ جناح کو پہلے بمبئی کے Bandra Convent Schoolمیں داخل کروایا۔ پھر میٹرک کی تعلیم کیلئے1910ء میں کھنڈالا کے سیفٹ پیٹرک کالج میں داخل کروایا۔ بھائی کی رفاقت نے فاطمہ جناح کو بامحاورہ انگریزی سکھا دی تھی ۔ وہ مطالعے کی بہت شوقین تھیں۔ 1913ء میں Privateطلبہ کی حیثیت سے Senior Cambrigeکاامتحان بھی پاس کر لیا اور پھر 1919ء میں کلکتہ جا کر انہوں نے Doctor Ahmad Dental Collegeمیں داخلہ لیا۔ 1922ء میںBacholer of Dental Surgeryکی ڈگری حاصل کی اور بمبئی واپس آ کر انہوں نے1923ء میں پریکٹس شروع کر دی ۔ کوئی چھ ، سات سال تک انہوں نے نہ صرف اپنی ذاتی پریکٹس جاری رکھی بلکہ ساتھ ساتھ میونسپل کی ایک ڈسپنسری میں غریب مریضوں کا مفت علاج بھی کرتی رہیں۔ قائد اعظم کی زوجا’’ربن بانی‘‘(مریم ) کی وفات کے بعد آپ نے اپنی زندگی بھائی کی خدمت کیلئے وقف کر دی۔ قائد اعظم کا اور اِن کی اکلوتی بیٹی کا خیال رکھنے کیلئے آپ کلینک ختم کر کے ان کے گھر منتقل ہو گئیں۔یہیں سے محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کا عظیم سفر شروع ہوا۔ 1940ء کی تقسیم ہند کی تاریخ ساز قرار داد میں محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم کے ساتھ ۔ تحریک پاکستان کے دوران بھی ہر اہم موقع پر اپنے بھائی کے شانہ بشانہ رہیں۔ جس سے نہ صرف محمد علی جناح کو حوصلہ ملا بلکہ وہ تحریک میں خواتین کیلئے زندہ مثال بنی ۔ قائد اعظم اپنی بہن پر اتنا اعتماد کرتے تھے کہ اپنے بیانات اس وقت تک جاری نہ کرتے جب تک وہ فاطمہ جناح کو دکھا نہ لیتے۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ قائد اپنی بہن فاطمہ جناح کو مشاور ت کے ہر کام میں ساتھ تو رکھا لیکن وہ اِن کے ساتھ ایک عام کارکن کی طرح رہیں۔ قائد اعظم نے اقرباء پروری برتتے ہوئے انہیں کبھی کوئی سیاسی عہدہ نہیں دیا۔ 1948ء کے بعد محترمہ نے مسلمانوں کے حقوق کیلئے جو کام کیے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔ قائد کے مشن کو آگے لے جانے کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ محترمہ کو پاکستانی عوام سے بے حد محبت تھی ۔ جب اسلام اور جمہوریت کے نام پر بننے والے ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا تو ا نہیں یہ بات بہت ناگوار گزری۔ پھر انہوں نے اس معاملے پر صرف بیانات یا تنقید سے کام نہیں چلایا بلکہ جب صدر ایوب خان نے مارشل لاء ہٹا کر صدارتی انتخابات کا اعلان کیا تو وہ جمہوریت کے فروغ کیلئے میدان میں نکل آئیں۔ اگر چہ ان کی عمر اور صحت دونوں اس کی اجازت نہیں دے رہی تھیں۔ لیکن قائد اعظم کے رفیق کار خواجہ ناظم الدین نے اس طرح ان سے درخواست کی کہ انہوں نے اس درخواست کو شرف قبولیت بخشنے کا اعلان کر دیا۔ اگر چہ محترمہ کی صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آنے کی خبر آتے ہی پورے ملک کا سیاسی ماحول تبدیل ہو گیا۔ کیونکہ کسی کو اُمید نہیں تھی کہ محترمہ آمادہ ہو جائیں گی۔ جونہی سیاسی ماحول گرم ہوا، سرکاری کیمپ نے پہلے ہی دن ذہنی طور پر شکست تسلیم کر کے دھاندلی اور دھونس کے ذریعے انتخاب جیتنے کا پروگرام بنانا شروع کر دیا تھا۔ مولانا بھاشانی حسب روایت اپنے آبائی گاؤں ’’پنج بی پی‘‘ میں سیاست کے بستر علالت پر دراز ہو گئے۔ حسن اے شیخ کو محترمہ نے اپنا چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا اور خود پورے ملک کا دورہ شروع کر دیا۔ وہ جہاں بھی گئیں ان کا پر جوش خیر مقدم کیا گیا۔ لاہو رائیر پورٹ پر انہیں لاکھوں افراد نے خوش آمدید کہا۔ موچی دروازہ کے باہر ان کا جلسہ عام ملک کی سیاسی تاریخ بن گیا۔ ان دنوں مغربی پاکستان کے گورنر نواب کالا باغ تھے۔ ایوب خان اور نواب کالا باغ کی مشترکہ دہشت کا یہ عالم تھا کہ سیاست دانوں کو خواب بھی ڈراؤنے دکھائی دیتے تھے۔ لیکن مادرِ ملت کی ایک تقریر نے اس دہشت کو ختم کر دیا۔ محترمہ کو ہارنے کیلئے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا گیا۔ انتخابات کے دوران مادرِ ملت کے خلاف ان لوگوں نے بھی گستاخ زبانیں دراز کیں جو ان دنوں تحریک پاکستان کے دوران ’’اپنی قربانیوں‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں کھلتے تھے اور خود کو قائد اعظم اور مسلم لیگ کا وفادار ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے تھے۔ انتخابات کے بعد80ہزار ارکان بنیادی جمہوریت میں صرف دو افراد نے اس دھاندلی کے خلاف بی ڈی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اِن دونوں کا تعلق کراچی سے تھا۔ ایک مولانا عبدالستار ایدھی اور دوسرے جناب رحمت اللہ محمد ہے۔ کیونکہ انتخابات میں ریکارڈ توڑ دھاندلی ہوئی۔2جنوری 1965ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ کامیاب نہ ہو سکی ۔ جب ہار کی خبر محترمہ کے حامی سیاستدان افسردہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا ’’ضروری نہیں کہ اگر بعض حالات یا وجوہات کی بناء پر ہم وہ کچھ حاصل نہ کر سکیں تو موقع ملنے پر اس کیلئے کوشاں بھی نہ ہوں اور سرے سے ہمت ہار دیں ۔ ہم خواہ کتنا ہی مکمل کیوں نہ ہوں اسے ہر وقت کوئی نہ کوئی چیز سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے جب بھی موقع ملے اور حالات ساز گار ہوں تو ہمین اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ۔ ایک ناکامی زندگی بھر کی ناکامیوں کا نام تو نہیں۔ محترمہ دنیا کی پہلی خاتون تھی جنہوں نے صدارتی انتخابات میں بطور صدارتی اُمیدوار حصہ لیا اور اپنے وقت کے آمر کو شکست سے بچنے کیلئے دھن دھونس اور دھاندلی کے حربوں کو اس طرح استعمال کرنے پر مجبور کر دیا کہ ساری دنیا نے یہ تماشا دیکھا۔ ’’دھاندلی ، دھونس دھن سے جیت گیا ظلم پھر مکر و فن سے جیت گیا ‘‘ محترمہ فاطمہ جناح کی داخلی خارجی تمام مسائل پر گہری نظر تھی ۔ وہ قومی اور بین الاقوامی معاملات کے بارے میں صاحبان اقتدار اور قوم کو آنیوالے خطرات سے آگاہ کرنیوالے جو بیانات دےئے وہ اُن کی دور رس نگاہوں اور سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ پاکستانی عوام اور کشمیری عوام کیلئے بہت دردِ دل رکھتی تھی۔ وہ کشمیر کو بہت اہم اور عالمی مسائل سمجھتی تھی۔ انجمن تاجراں کراچی سے دسمبر 1948ء میں خطاب کرتے ہوئے محترمہ نے کہا ’’اس وقت پاکستان کو مختلف اہم مسائل کا سامنا ہے اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ان میں مسلہ کشمیر سب سے زیادہ اہم ہے۔ مدافقی نقطہ نگاہ سے کشمیر پاکستان کی زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے کشمیر ہماری مرفع الحال کا منبع ہے۔ پاکستان کے بڑے دریا اسی ریاست کی حدود سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے اور ہماری خوشحالی میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے بغیر پاکستان کی مرفع الحال خطرے میں پڑ جائے گی ۔ اگر خدا نہ کرے ہم کشمیر سے محروم ہو جائیں تو قدرت کے عطاء کردہ نعمت عظمیٰ کا بڑا حصہ ہم سے چھن جائے گا۔ کشمیر ہماری مدافعت کا کلیدی نقطہ ہے۔ اگر دشمن کو کشمیر کی خوبصورت وادی اور پہاڑیوں میں مورچہ بندی کا موقع مل جائے تو پھر اٹل امر ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت اور اپنی مرضی چلانے کی کوشش کریگا۔ پس آپ اپنے آپ کو مضبوط اور حقیقتاً طاقتوار قوم بنانے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کو دشمن کی ایسی سرگرمیوں کی زد میں نہ آنے دیا جائے۔ اس لحاظ سے کشمیر ہمارا اولین فرض ہو جاتا ہے۔‘‘ محترمہ فاطمہ جناح ایک بہت ہی باہمت عورت تھی۔ بابائے قوم کی وفات کے بعد محترمہ قائد کے اُن افکار اور سیاسی اقتدار کو عصرے نوع زندہ رکھاجو پاکستان کے قیام کا پیش خیمہ بنے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ملک وقوم کی بہتری کیلئے ہمہ وقت کوشاں محترمہ فاطمہ جناح 8اور9جولائی 1967ء کی درمیانی شب میں 76سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئیں۔ لیکن اُن کے افکار اور خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔