مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شام جا کر لڑنے کے بجائے وہاں ہونے والی جنگ کے متاثرین کی مدد کی جائے‘ علمائے کرام
برمنگھم ... رمضان کے مبارک مہینے میں جب مسلمان خیرات اور صدقات کیلئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں اور دنیا بھر کے غریبوں مسکینوں مجبوروں اور لاچاروں کی امداد پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو خیراتی کاموں میں جتی چیریٹیز بھرپور طریقے سے اپنے اپنے امدادی کاموں کی تشہیر اور زیادہ سے زیادہ امداد اکٹھی کرنے پر کمر کس لیتی ہیں۔ برطانیہ میں جہاں شام جیسے آفت زدہ ملک میں جانے کو ہی جرم سا تصور کیا جانے لگا ہے اسکے لئے امداد مانگنا بھی کئی چیریٹیز کیلئے مشکل ہے۔ جبکہ ایسے میں علما کا کہنا ہے کہ وہاں جا کر لڑنا تو ٹھیک نہیں مگر وہاں کے بے سہارا اور مجبور افراد کی مدد کرنا واجب ہے۔ مناب کے سابقہ عہدیدار اور جامع مسجد لیسٹر کے امام شاہد رضا نے برطانوی مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رمضان میں شام اور عراق کے مہاجرین کے لیے دل کھول کر امداد دیں، لیکن خود وہاں جانے سے گریز کریں۔ ریڈیو کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق اور شام کی صورت حال انتہائی سنگین ہے اور وہاں کے مہاجرین امداد کے منتظر ہیں۔ لیکن وہاں جانا خود کو خطرے سے دوچار کرنے کے مترادف ہے اور قرآن کا بھی کہنا ہے کہ خود کو خطرے میں نہ ڈالو۔ دریں اثناء برطانیہ کے 140 اماموں نے بھی ایک خط میں مسلمانوں سے اپیل کی ہے وہ شام اور عراق جانے سے گریز کریں، جبکہ ریلیف واک کے تحقیق الرحمن نے کہا ہے کہ اگر ہم امداد لے کر متاثرہ علاقوں میں نہیں جائیں گے تو کون جائے گا۔ لیکن لوگوں کو خود وہاں جانے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ کسی مضبوط ڈھانچے والی تنظیم کے تحت امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے بھی نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ لڑائی کی غرض سے شام یا عراق جانے سے گریز کریں۔ برمنگھم کے کینن ہل پارک میں ایک چیریٹی کی جانب سے واک کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد مسلم امہ کی توجہ شام کے مفلوک الحال، بھوک سے بلکتے اور زخموں سے چور افراد کی امداد جمع کرنا تھا۔ اس واک میں بچوں، جوانوں، خواتین اور بوڑھوں سبھی نے حصہ لیا اور روزہ کی حالت میں ہوتے ہوئے پانچ میل کا سفر طے . واک کا اہتمام معروف چیریٹی مسلم ہینڈز نے کیا تھا جس کا کہنا تھا کہ انسانیت کا تعلق کسی رنگ نسل اور مذہب سے نہیں انسان جہاں بھی مشکل کا شکار ہوگا انکی چیریٹی مدد کو ضرور آگے بڑھے گی۔