مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
سرینگر میں دوسرے روز بھی ہڑتال،نوجوان شہید،مظاہرے
سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ترال میں ایک نوجوان کو شہید کر دیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو ترال کے علاقے آری پل میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ دریں اثناء لوگوں نے نوجوان کے قتل کے خلاف سڑکوں پرنکل کر زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔ بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے باعث چار افراد زخمی ہو گئے ، مشتعل مظاہرین نے دو گاڑیاں جلا دیں، ترال قصبے میں ہڑتال بھی کی گئی۔ شہید نوجوان کی نماز جنازہ میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر لوگوں نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں زبردست نعرے لگائے ۔ ادھر سرینگر، گاندر بل، سوپور ،پلہالن، بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، اسلام آباد، پلوامہ اور کولگام میں لوگوں نے مظاہرے کئے ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجی رہائشی گھروں کے نزدیک ہوائی فائرنگ کر کے لوگوں کو ہراساں کررہے ہیں۔ ادھر سرینگر میں دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شہر کے علاقے نور باغ میں دریائے جہلم سے ایک لڑکی کی لاش برآمد ہوئی جبکہ نوگام سے ایک 55 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی مقبوضہ کشمیر آمد کے خلاف سرینگر میں ہفتہ کو دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، دکانیں، کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے بند اورٹریفک غائب رہی ، شہر میں کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے کئی علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے متعدد دستے تعینات رہے ، بھارتی فوج ، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ، بھارتی فورسز نے درجنوں کشمیریوں کو حراست میں لے لیا جبکہ احتجاج کے پیش نظر تمام حریت رہنمائوں کو بھی نظر بند کر دیا گیا ۔جگہ جگہ فوجی چوکیاں قائم کرنے اور کئی علاقوں میں چھاپوں سے مقبوضہ وادی میں خوف وہراس پھیلا رہا ، پا ئن شہر میں خانیار ،نوہٹہ ،راعناواری ،مہاراج گنج اور صفا کدل کے علاقوں میں سخت ناکہ بندی کی گئی، جبکہ میرواعظ عمر فاروق نے سیاسی قائدین کی نظربندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی مراعات سے مسئلہ کشمیر کا تعلق نہیں ہے ،دہلی کی نئی حکومت حقائق کو تسلیم کرکے تنازع کشمیر کو حل کرنے کیلئے اقدامات کا آغاز کرے ، حریت کانفرنس کے ترجمان ایاز اکبر نے ہڑتال کو کامیاب بنانے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔