مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آمریت کے گھنائونے اثرات
5 جولائی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ہر سال 5 جولائی کا دن اپنے ساتھ ناخوشگوار یاد لے کر آتا ہے یہ وہ دن ہے جب پاکستان کی تاریخ کے سفاک ترین فوجی آمر ضیاء الحق نے اقتدار حاصل کرنے کی خاطر پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قومی حکومت پر شب خون مارکر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، آمر ضیاء الحق کے اس گھناوٴنے کھیل کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ دسمبر 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد جنرل یحیٰی خان نے اقتدار عام اکثریت حاصل کرنے والے اور پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دیا پاکستان کو پہلی بار ایک منتخب اور جمہوری سربراہ ملا اس وقت بہت مشکل حالات تھے آدھا حصہ الگ ہوچکا تھا اور باقی ماندہ حصے میں غیر یقینی صورتحال تھی ان حالات میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے منتخب سربراہ کی حیثیت سے قیادت سنبھالی۔ انہوں نے بھارت سے مذاکرات کرکے نوے ہزار جنگی قیدی رہا کروائے اور پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ واگزار کروایا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی عوام کے لئے جو تاریخی کارنامے سرانجام دیئے انہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی ان میں 73ء کا پہلا متفقہ آئین، اسلامی سربراہی کانفرنس، شناختی کارڈ کا اجراء، زرعی اصلاحات کا نفاذ، نئی لیبر پالیسی متعارف کروانا، ایٹمی پروگرام شروع کروانا، مسئلہ کشمیر پر واضح موقف اپنانا، مسلم ممالک کی اکثریت پر مشتمل تیسری دنیا کے بلاک کی تشکیل، اسلامی دنیا اور چین سے دوستی، سیرت کانفرنس کا انعقاد کرنا، قانون سازی کرکے مزدوروں کو سرمایہ داروں کے ساتھ حصہ دار بنانا، ہاریوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ کرنا، امن و امان کی صورتحال کا بہتر بنانا، محنت کش طبقے کو زبان دینا اور غریب طبقے کو پاکستان کی سیاست میں اہم مقام دیکر انکے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا، اپنے ساڑھے پانچ سالہ دور اقتدار میں کام کئے کہ دنیا کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیا قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی کامیابیوں کے نتیجہ میں کچھ ترقی یافتہ ممالک ذوالفقار علی بھٹو سے خائف رہنے لگے یہ انکے لئے ناقابل برداشت تھا کہ ایک مسلم ملک اسکا مقابلہ کرے۔ لہذا عالمی فسطائیت نے ذوالفقار علی بھٹو کو راستہ روکنے کیلئے سازشوں کی جال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آمر ضیاء الحق کو خرید لیا اس محسن کش نے 5 جولائی 1977ء کو مارشل لاء نافذ کرکے پاکستان کو تاریکی میں دھکیل دیا۔ منتخب وزیراعظم کو قید کرلیا گیا۔ 4 اپریل 1979ء کو پاکستان کے پہلے منتخب جمہوری وزیراعظم پر قتل کا جھوٹا اور من گھڑت مقدمہ قائم کرکے فوج کے زیر اثر اور ضمیر فروش عدلیہ کے ذریعے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دلوادی گئی جس کا بالواسطہ یا بلاواسطہ ذوالفقار علی بھٹو سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔ بھٹو شہید نے پاکستانی عوام کے حقوق کی خاطر تختہ دار کو چوم لیا لیکن فوجی غاصب کے سامنے سر نہ جھکایا۔ ذوالفقار علی بھٹو پیپلز پارٹی کے ہی نہیں پاکستان کے ہر جمہوریت پسند کے بھی لیڈر ہیں کیونکہ عوام نے انکے خلاف قتل کے الزام کو تسلیم نہیں کیا اور تاریخ کی عدالت نے بھی انہیں اس الزام سے بری قرار دیا یہی وجہ ہے ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین بھی اس مقدمہ قتل کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہیں۔ آمر ضیاء الحق کے گیارہ سالہ دور میں قائد عوام شہید بھٹو کے علاوہ پیپلز پارٹی کے متعدد کارکنون کو پھانسیاں دی گئیں، ہزاروں کو قید کرلیا گیا کئی کو سرعام کوڑے مارے گئے۔ محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی قید کرلیا گیا اس سیاہ دور میں مذہبی اور لسانی انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوئے، اسلحہ کی فروانی ہوئی، افغان جنگ کے دوران مہاجرین کی پاکستان میں آمد ہوئی اور انکو پورے پاکستان میں آنے جانے کی آزادی دی گئی جسکے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر متعارف ہوا جس نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا یہ گیارہ سالہ دور اتنا بھیانک تھا کہ آج بھی وطن عزیز پاکستان اس کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔ 5 جولائی کا دن پاکستان، برطانیہ اور دنیا بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے آج کے دن تمام جمہوری قوتوں کو پھر عزم کرنا ہوگا جمہوریت کے خلاف کوئی بھی سازش ہوئی تو تمام سیاسی و جمہوری قوتیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہوکر مقابلہ کرینگی کیونکہ جمہوریت ہی ہماری منزل ہے۔