مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں کپتان محمد منیر میموریل والی بال ٹورنامنٹ کا انعقاد،مانچسٹر کی جیت
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
افغان سرحد سےملحقہ قبائلی صوبےخیبر پختونخواہ میں کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس کیلئے کوششیں
پشاور ... دہشت گردی اور انتہا پسندی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے خیبر پختونخواہ کی نو منتخب صوبائی حکومت خفیہ معلومات کے حصول کے لیے ’ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس‘ کے نام سے ایک خصوصی سیل بنا رہی ہے۔ صوبائی پولیس کے سربراہ احسان غنی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جرائم اور دہشت گردی کے انسداد میں انٹیلی جنس معلومات کا کردار سب سے اہم ہے اور اسی لیے حکومت نے خفیہ معلومات کے حصول کے نیٹ ورک کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’ہم ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس بنا رہے ہیں، تین سالوں کے دوران ہم اس میں شامل جوانوں اور افسران کو جدید آلات سے لیس کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ادارہ ہمیں انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں بہت مدد کرے گا۔‘‘ صوبے میں پولیس کے زیر انتظام انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے کئی ادارے پہلے سے موجود ہیں لیکن انسپکٹر جنرل احسان غنی کے بقول وہ اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ’’اس ضمن میں دو لائنز پر کام شروع کیا گیا، جن میں سےایک یہ کہ جو ہمارے موجودہ وسائل خاص طور پر ہماری ضلعی سکیورٹی برانچ ہے اس کو ہم دوبارہ سے زندہ کریں۔ ‘‘ پاکستان میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اس ضمن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بین الاصوبائی رابطوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لیے صوبے میں ایک مرکزی سیل کے قیام کے علاوہ بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔