مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
افغان سرحد سےملحقہ قبائلی صوبےخیبر پختونخواہ میں کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس کیلئے کوششیں
پشاور ... دہشت گردی اور انتہا پسندی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے خیبر پختونخواہ کی نو منتخب صوبائی حکومت خفیہ معلومات کے حصول کے لیے ’ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس‘ کے نام سے ایک خصوصی سیل بنا رہی ہے۔ صوبائی پولیس کے سربراہ احسان غنی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جرائم اور دہشت گردی کے انسداد میں انٹیلی جنس معلومات کا کردار سب سے اہم ہے اور اسی لیے حکومت نے خفیہ معلومات کے حصول کے نیٹ ورک کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’ہم ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس بنا رہے ہیں، تین سالوں کے دوران ہم اس میں شامل جوانوں اور افسران کو جدید آلات سے لیس کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ادارہ ہمیں انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں بہت مدد کرے گا۔‘‘ صوبے میں پولیس کے زیر انتظام انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے کئی ادارے پہلے سے موجود ہیں لیکن انسپکٹر جنرل احسان غنی کے بقول وہ اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ’’اس ضمن میں دو لائنز پر کام شروع کیا گیا، جن میں سےایک یہ کہ جو ہمارے موجودہ وسائل خاص طور پر ہماری ضلعی سکیورٹی برانچ ہے اس کو ہم دوبارہ سے زندہ کریں۔ ‘‘ پاکستان میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اس ضمن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بین الاصوبائی رابطوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لیے صوبے میں ایک مرکزی سیل کے قیام کے علاوہ بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔