مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
افغان سرحد سےملحقہ قبائلی صوبےخیبر پختونخواہ میں کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس کیلئے کوششیں
پشاور ... دہشت گردی اور انتہا پسندی سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے خیبر پختونخواہ کی نو منتخب صوبائی حکومت خفیہ معلومات کے حصول کے لیے ’ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس‘ کے نام سے ایک خصوصی سیل بنا رہی ہے۔ صوبائی پولیس کے سربراہ احسان غنی نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جرائم اور دہشت گردی کے انسداد میں انٹیلی جنس معلومات کا کردار سب سے اہم ہے اور اسی لیے حکومت نے خفیہ معلومات کے حصول کے نیٹ ورک کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’ہم ڈائریکٹوریٹ آف کاؤنٹر ٹیرر ازم اینڈ انٹیلی جنس بنا رہے ہیں، تین سالوں کے دوران ہم اس میں شامل جوانوں اور افسران کو جدید آلات سے لیس کریں گے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ ادارہ ہمیں انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں بہت مدد کرے گا۔‘‘ صوبے میں پولیس کے زیر انتظام انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کے کئی ادارے پہلے سے موجود ہیں لیکن انسپکٹر جنرل احسان غنی کے بقول وہ اپنی افادیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ’’اس ضمن میں دو لائنز پر کام شروع کیا گیا، جن میں سےایک یہ کہ جو ہمارے موجودہ وسائل خاص طور پر ہماری ضلعی سکیورٹی برانچ ہے اس کو ہم دوبارہ سے زندہ کریں۔ ‘‘ پاکستان میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ اس ضمن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین بین الاصوبائی رابطوں پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لیے صوبے میں ایک مرکزی سیل کے قیام کے علاوہ بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔