مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کونسی قوتیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی دیکھنے کی خواہشمند ہیں؟ میاں محمّد نواز شریف
اسلام آباد... پاکستان نے بھارتی حکومت اور بھارتی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی‘ پانچ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سمیت دیگر الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دفتر خارجہ کے حکام نے بتایا کہ بعض قوتیں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پیدا کرکے آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان بھارت وزراءاعظم کے مابین متوقع ملاقات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ یہ انکشاف کشیدگی سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں خارجہ پالیسی اور ملک کو درپیش بیرونی چیلنجز پر بھی غور کیا گیا، اعلیٰ عسکری حکام اور وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی۔ عسکری حکام نے وزیر اعظم کو اپنی تفصیلی بریفنگ میں بھارتی فوج کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا کوئی تبادلہ ہی نہیں ہوا۔ حملہ لائن آف کنٹرول کے 5 کلو میٹر اندر بھارتی حدود میں ہوا۔ اس حوالے سے بھارتی فوج اور حکومت کی جانب سے عائد کئے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں‘ اجلاس کے دوران سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے وزیراعظم کو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج اور حملے کے امکانی اثرات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پاکستان کے خلاف بھارتی میڈیا کے منفی پراپیگنڈے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بھارت کی حکمران جماعت کانگریس کے کارکنوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کےقتل کےخلاف پاکستانی ہائی کمیشن پر دھاوا بولتے ہوئے توڑ پھوڑ کی اس کے پیچھے بھارتی میڈیا اور سیاسی رہنماوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے بریفنگ میں وزیر اعظم کو بتایا کہ یہ واقعات آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پاکستان بھارت وزرائے اعظم کے مابین متوقع مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ لگتا ہے کہ بعض قوتیں اس مقصد کے لیے سر گرم عمل ہیں جس پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ آخر ایسی کون سی قوتیں ہیں جو یہ کوششیں کر رہی ہیں اور وہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی دیکھنے کی خواہشمند ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بلا وجہ الزام تراشی افسوسناک ہے۔ پاکستان تمام واقعات کی مکمل چھان بین کر ے گا۔