مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں لمحہ فکریہ ہیں، ارباب اختیار ٹھوس حکمت عملی اپنایئں: کمیونٹی رہنما
مانچسٹر، لندن ...کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کی بزدلانہ کاروائی قابل مذمت ہے، دہشت گردوں کی اس کاروائی سے لاتعداد خاندانوں کے چراغ گل ہوگئے۔ ان خیالات کا اظہار سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری شبیر احمد آف بہملہ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا اس سانحے میں اپنی قیمتی جانیں گنوانے والے شہدا عظیم مرتبے پر فائز ہوئے جبکہ بزدلانہ کاروائی کرنے والے دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔ چوہدری شبیر نے کہا اس واقعے نے عوام کی آنکھیں کھول کر رکھ دی ہیں، انہیں احساس ہوگیا ہے کہ ملکی حالات انتہائی سنگین ہیں۔ آئے روز دہشت گرد عوام، سیکیورٹی اداروں کے ارکان اور افواج پاکستان کی جانیں لینے سے باز نہیں آرہے اسلیئے ارباب اختیار کو نل بیٹھ کر اس صورتحال سے نمٹنے کی ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیئے۔ ) ایکرنگٹن ہائنڈبرن برطانیہ سے لیبر کونسلر حاجی راجہ عبدالغفار خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت دہشت گردی ہے جب تک پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہوتی نہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے اور نہ کوئی پاکستان آنے کیلئے تیار ہو گا، پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں ہے اگر انھیں بہتر سہولیات مہیا کی جائیں تو ہمیں غیروں کے آگے ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی ائر پورٹ پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ کراچی ائر پورٹ پر حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں، مسلح افواج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے۔ ) پاکستان رابطہ کونسل کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ محمد ادریس اور والسال کے کنوینر سعید الرحمن نے کہا ہے کہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے دہشت گردوں کی جو فہرست پیش کی تھی اس وقت اگر کوئی کارروائی ہوتی تو آج کراچی میں ائرپورٹ نشانہ نہ بنتا، دہشت گرد کراچی میں ہمیشہ موجود رہے ہیں جنہیں پڑوسی ملک کی حمایت حاصل رہی ہے، کراچی کے سیاسی جماعتوں کے نام پہلے ہی دہشت گردی کی لسٹ میں آچکے ہیں اور حالیہ کارروائی کی اگر کوئی تحقیقات سامنے آئے تو مجرم کراچی سے نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حکمرانوں نے بھارت کے حوالے سے جو پالیسی اختیار کی ہے کشمیر کے محاذ سے اپنی توجہ ہٹا کر پڑوسی ملک کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرے۔ کراچی بھارت کیلئے پہلے بھی ایک بیس موجود تھا اور اب افغانستان میں بھارت نے جس اڈے قائم کر لئے ہیں اس سے بھارت کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردی کی کارروائی اور تحریک طالبان کے ترجمان کا اس کی ذمہ داری قبول کرنا حکومت پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔