مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
سجاد کریم اوریورپین پارلیمنٹ کی صدارت
جون 2004 میں سجاد کریم نامی پاکستانی نژاد یورپین پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہؤا توبر طانیہ بھر میں مجموعی طور پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ مختلف آراء آئیں مثلا اہل پاکستان کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ پہلا پاکستانی پہلا مسلمان یورپی پارلیمنٹ میں داخل ہو رہا ہے یہ بھی کہا گیا کہ یورپی پارلیمنٹ کا رکن بننا کوئی بڑا معرکہ نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے ہاؤس آف لارڈز کا ممبر ہو یا ممبر پارلیمنٹ ہو تو اور بات ہے جس کی کوئی حیثیت بھی ہوتی ہے یورپین پارلیمنٹ کے ممبر کی کیا حیثیت ہے حتی ٰ کہ پاکستانی سفارت خانے میں بھی اس انتخاب کو کوئی اہمیت نہ دی گئی کچھ احباب تواپنے دل میں جلتی حسد کی آگ کو بجھانے کی سعئ لاحاصل کرتے اور کچھ واقعی بمعہ حکومت پاکستان اور اس کے نمائندے یورپین پارلیمنٹ کی حیثیت سے آگا ہ ہی نہیں تھے نقصان دہ امر تو یہ ہے کہ واحد رکن یورپی پارلیمنٹ کی پاکستان اور کشمیر کے لئے کارکردگی کئی عشروں پر بھاری ثابت ہو چکی ہے پھر بھی پاکستان میں حکمران طبقہ کی اکثریت اب تک یورپین پارلیمنٹ کے بین الاقوامی کردار اور اہمیت کو نہیں سمجھ پا رہے کیونکہ پاکستانی شخص کے لئے برطانیہ ہی روزی روٹی ا ور پاکستان کے ارباب اقتدار کے لئے ملجا ء و ماوا ہے۔ بر طانیہ کے بارہ یورپی پارلیمنٹ کے حلقوں میں سے ایک نارتھ ویسٹ ہے جہاں کی کمیونٹی نے سجاد کریم کو دس سال پہلے منتخب کرکے یورپ کی سیاست میں نئی جہت کا اضافہ کیا اور یورپین پارلیمنٹ میں پاکستانی نژاد سیاست دانوں کا داخلہ کھول دیا ۔ذاتی طور پر سجاد کریم نے اپنی کار کردگی سے کمیونٹی کو مایوس نہیں کیا بلکہ سر فخر سے بلند کر دئیے اور ایشائی خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی کے لئے اعزاز ہے کہ تاریخ یاد رکھے گی یورپ میں اہم ترین قانون سازی کرنے والا ایک پاکستانی نژادتھا۔سجاد کریم کی کارکردگی پارلیمانی لحاظ سے مثالی ہے سب سے زیادہ بولنے والا، سوال پوچھنے والا، رپورٹس تیار کرنے والا ، بلا ججھک پارلیمنٹ میں اپنی مافی الضمیر پیش کرنے والا اور تبصرہ و تنقید کرنے والا مشہور ہے ۔یورپین پارلیمنٹ میں مختلف ملکوں سے منتخب ہو کر آنے والے اراکین اپنے ہم خیال مختلف گروپس میں شامل ہیں جن alde epp ecr ، s&d ،green ، efd وغیرہ تقریبا آٹھ سیاسی گروپس ہیں اسی طرح اٹھائیس ملکوں میں مختلف کئی علاقے ہیں ، مختلف زبانیں ہیں ، مقامی طرز سیاست ہے ، مختلف پارٹیاں ہیں ۔اس کے بعد پارٹیوں میں مختلف گروہ ہیں ، مختلف کلچر ہے ، مذہب ہیں ، انتہاپسندعناصر ہیں ، متعصب ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ پاکستان اور اسلام کے متعلق ہرزا سرائی ہے ایسی صورت حال کے تناظرمیں ایک ایشائی پاکستانی نژاد مسلم بر طانیہ میں پیدا ہونے والاانگلینڈ نارتھ ویسٹ سے تیسر مرتبہ منتخب ہونے والا رکن یورپین پارلیمنٹ کو ا س کا گروپ ecr جو یورپی پارلیمنٹ میں چوتھا بڑا سیاسی گروپ ہے جولائی میں ہونے والے یورپ کے کے سب سے اعلیٰ عہدے صدارتی انتخاب کے لئے نامزد کر دیتا ہے اور دنیا بھر کے اخبارات ، ٹی وی چینلز سرخیاں لگا تے ہیں تبصرے کر رہے ہیں مگر پاکستان یا پاکستانی کمیونٹی کو اس تاریخی مد و جذر کی کوئی خبر نہیں۔ یورپین پارلیمنٹ کا صدر منتخب ہونا ایک بڑا اعزاز ہے سجاد کریم منتخب ہوگا یانہیں لیکن ہماری کمیونٹی میں سے اس عہدے کے لئے امید وار نامزد ہونا بھی کسی اعزاز سے کم نہیں ، کیونکہ جس طرح دس سال قبل سجاد کریم نے یورپین پارلیمنٹ کا راستہ اپنی کمیونٹی کو دکھا یا تھا جس کا پھل دس سال بعد سامنے آگیا ہے اسی طرح اللہ تعالےٰ مستقبل میں معجزہ بھی دکھا سکتا ہے اور بعید نہیں رہا کہ سجاد کریم نہ سہی کوئی دوسرا پاکستانی یامسلمان یورپی پارلیمنٹ کا صدر منتخب ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دس سالوں نے اس نوجوان کی قابلیت ، کام کرنے کی لگن نے پاکستان ، اسلام، کشمیر ہی نہیں دنیا بھر میں ظلم نا انصافی کے حوالے سے تاریخ رقم کی ہے پاکستانی کمیونٹی کو برطانوی بلکہ یورپی معاشرہ یا سیاست میں عضو معطل یاناسور جس طرح اکثر کہا جا تا ہے کہنے سے پہلے مغربی دانشور کو سجاد کریم کی شخصیت کو پڑھنا ہو گا ۔ سجاد کریم کی اہلیت اور معاملہ فہمی نے یورپین پارلیمنٹ میں ارباب بست و کشاد کو بہت متاثر کیا اور چھ سات سال پہلے ہونے والی معاشی بد حالی جس کے لیئے کریڈٹ کرنچ جیسی اصطلاح استعمال کی گئی اس وقت یورپین پارلیمنٹ میں کچھ قوانین اور اصول و ضوابط پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی گئی تو سجاد کریم کو ’’ سیٹ آف ریفارمز 17،18 اور 19‘‘ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں متعدد اصلاحات مختلف شعبہ جات میں کی جانی کی کمیٹیوں نے سفارشات پیش کیں جن میں سجاد کریم کا کلیدی کردار تھا پارلیمنٹ کے ریکارڈ اورتاریخ میں ’’ کریم ریفارمز‘‘ کے نام سے درج ہو چکی ہیں ان میں تین چار بے حدمعروف اور یورپین یونین کے اٹھائیس ممبر ملکوں میں نافذ العمل ہیں اس کے علاوہ سجاد کریم نے بطور ر پوتاژای یو انڈیا فری ٹریڈ رپورٹ میں سجاد کریم نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کے تناظر میں یورپین یونین کے موقف کی عکاسی کرتے ہوئے بھارت سے یورپی یونین کی تجارت میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرنے سے مشروط کر نے کی سفارش کر دی جسے منظور کر لیا گیا اس کے بعد اسی سفارش کی روشنی میں یورپی یونین کے کسی بھی ممبر ممالک اور بھارت کے مابین کسی بھی ہونے والے تجارتی معاہدہ میں انسانی حقوق کی شرط شامل کر کے پارلیمنٹ سے اس کی منظوری بھی کرالی اب اس شق کو بھارت تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ نفاذ ہرملک سے تجارتی معاہدہ تک پھیلا دیاگیا اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہؤا جس کا سہرا سجاد کریم کے سر بندھا ۔ کشمیر میں گمنام قبروں کی دریافت پر سجاد کریم نے یورپی پارلیمنٹ میں بھارت کے اس قدر لتے لیئے بھارت حکومت بوکھلا گئی اور تحقیقاتی کمیشن بنانے پر مجبورہوئی اس کمیشن نے بھارت ہی کو مورد الزام ٹھہرا کر دنیا میں بد نام کرا دیا سجاد کریم نے اپریل 2005 ء میں جی ای پی جیسی دوسرے ممالک کو حاصل سہولت پاکستان کے حصول کے لئے ترمیم پیش کر کے اہم قدم بڑھایاجو اس سال پاکستان کو جی ایس پی پلس کے طور پر حاصل ہو گئی۔ یورپی یونین میں متذکرہ بالا ریفارمز (اصلاحات ) کے حوالے سے سونپی گئی ذمہ داریوں میں اہم قانون سازی سجاد کریم نے کی یا او راسے مروجہ قوانین سے مربوط کیا یہ کہ یورپی یونین کے تمام ممبر ممالک کے چھوٹے کاروبار و صنعتوں پریورپین پارلیمنٹ کے قوانین کا اطلاق براہ راست ہوتا تھا جس سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار یا صنعت چلانے والے کو فائدہ حاصل ہونے کی بجائے نقصان ہوتا تھا نتیجتاً کاروبار بند ہونے سے لوگ بے روزگار ہوجاتے مالکان مقروض یعنی بڑے کاروبار و صنعتوں کے ساتھ ان چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کے مالکان کو بھی رگڑا لگ جاتا تھا ۔ سجاد کریم نے قانون میں اصلاح کر تے ہوئے نافذ العمل قانون کا چھوٹے کاروبار اور چھوٹی صنعتوں پربراہ راست نفاذ ختم کرنے کی سفارشات پیش کرکے پارلیمنٹ کی منظوری لے کر قانون بنوا ڈالااور اٹھائیس ممبر ملکوں میں جس کا نفاذ ہو چکا ہے اور چھوٹے کاروبار والے اور صنعتیں اس سے استفادہ کر رہے ہیں اب یہ تعین کیسے ہو کہ کون سا کاروبار یا صنعت چھوٹی اور چھوٹ کے زمرے میں آتی ہے اس کے لئے جرمنی سے رکن یورپی پارلیمنٹ اور ای پی پی گروپ کی ممبر انجیلا نیبلر نے سجاد کریم کا ہاتھ بٹایا اور ان دونوں ممبر یورپی پارلیمنٹ نے اپنی محنت شاقہ سے impact assessment unit تشکیل دی اس کادائرہ کار و عمل طے کر کے قیام کی سفارش کی جسے پارلیمنٹ نے منظور کر لیا اس یونٹ کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اس کا تعین کرکے سفارش کرے کے ان قوائد و ضوابط سے کون سی صنعت یا کاروبار مثتثنیٰ ہے اس یونٹ کی افادیت ، احتیاج اور اہمیت کے پیش نظر اس کا دائرہ کار اب پارلیمنٹ نے ٹریڈ وبزنس سے بڑھا کر تمام قانون و پالیسی ساز اداروں تک کر دیا اب برسلز میں یورپین پارلیمنٹ میں مختلف امور طے کر نے والی مختلف کمیٹیاں قانونی مسودہ تیار کر کے اس کے مابعد ہونے والے اثرات کے تجزیہ کی رپورٹ تیار کرنے کے لئے اس یونٹ کو بھجنے کی پابند ہیں تا کہ مجوزہ قانون یا پالیسی کے مثبت و منفی دونوں پہلو سامنے آجائیں ۔ سجاد کریم نے بطور ممبر یورپین پارلیمنٹ ایک اورقابل ذکر کامیابی حاصل کرکے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا ہے وہ کریڈٹ کرنچ کے بعد تمام یورپی ملک تشویش ناک معاشی صورت حال میں گھر گئے اور یورپین یونین میں اٹھائیس ممبران کے آڈٹ پروسیجر ( پڑتال کا طریقہ کار) کو نئے سرے سے بنانے کی ضرورت بڑھ گئی کیونکہ یہ مسئلہ جو کہ بوجوہ انتہائی مشکل بلکہ پیچیدہ بھی تھا اور ہاؤس میں دائیں اور بائیں سوچ میں خلیج بڑی گہری تھی اس میں اصلاحات لانے کی ذمہ داری بھی سجاد کریم کی لگا دی گئی اس قانون سازی میںیہ خیال رکھنابھی ضروری تھا کہ مجوزہ قانون میں امریکہ ، کینیڈا ، چین اور بھارت کے قوانین سے مطابقت ہو ظاہر ہے اس کے لئے ان ملکوں کے قوانین پر نظر ہونی ضروری تھی سخت محنت اور لگن سے سجاد کریم نے یہ مرحلہ بھی طے کر لیا اور یورپ کے لئے آڈٹ پر وسیجرز کے نئے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو ہی نہیں بڑے بڑے ماہرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کے علاوہ ایک مزید قابل ذکر کارنامہ جو سجاد کریم کو تاریخ میں ایک مقام دے گا وہ یہ کہ یورپین پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی اور ممبر ملکوں میں جبری نفاذپر تشویش پائی جاتی تھی اور اسے غیر جمہوری سمجھا جاتاتھا کیو نکہ یورپی پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بعد ممبر ملکوں میں اس کا نفاذ لازمی تھا اور ملکوں کے قانون ساز اداروں کو صرف پڑھنے اور کف افسوس ملنے کے علاوہ کسی ترمیم کا اختیار نہ تھا ۔ سجاد کریم نے اس سقم اور خرابی کو دور کر نے کے لئے بغرض اصلاح رپورٹ مرتب کی اور سفارشات پارلیمنٹ میں پیش کر دیں رپورٹ معہ سفارشات متفقہ طور پر منظور ہو گئی اب یورپی پارلیمنٹ اپنا مجوزہ قانون پاس کرنے سے پہلے ہر قومی پارلیمان کو بھیجنے کی مکلف ہے اور یونین کے ہر ملک کی پارلیمان کو اختیار مل گیا ہے کہ وہ اس قانون کا جائزہ لے اور بارہ ہفتوں کے اندر مناسب ترمیم اور سفارش پیش کرے اس کے بعد یورپی پارلیمنٹ اس قانون کو ہرممبر ملک کی قومی پارلیمنٹ کی پیش کی گئیں ترامیم اور سفارشات کی روشنی میں قانونی سازی کر نے کی مجاز ہوگی اصلاحی مرحلہ میں یہ قابل ذکر کامیابی سجاد کریم کو حاصل ہوئی جویورپی پارلیمنٹ میں ’کریم رپورٹ‘ کے نام سے ریکارڈ اور تاریخ میں ہمیشہ کے لئے رقم ہو گئی ہے اس وقت کے ٹریڈ منسٹر آف سٹیٹ مائیکل فیلن نے تعریفی و توصیفی خط لکھ کر اپنے جذبات اورسجاد کی کارکردگی پر ا فتخار کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ’’ ھاؤ ڈِ ڈ یو ڈو اِٹ ساج؟ ‘‘ قارئین ! دس سالہ کارکردگی کے حوالے سے یہ تفصیل حالیہ انتخابات سے پہلے بھی لکھی جا سکتی تھیں جو سجاد کریم کے انتخابات میں ان کے کھاتے میں ڈال کر ساتھیوں کے لئے ووٹ حاصل کرنے کی سعی کرنا جائز ہوتا۔ مگر سجاد کریم کا موقف تھا کہ نارتھ ویسٹ کے عوام نے انہیں یورپی پارلیمنٹ میں کام کرنے کے لئے بھیجاتھا اگر ان کی کار کردگی اچھی ہوئی اور توقعات کے مطابقت ہوئی تو عوام انہیں پھر منتخب کر لیں گے اور ایسا ہی ہؤا رائے دہندگان نے مشکلات اور پرو پیگنڈا کے باوجود پارٹیوں اور پارٹی وابستگیوں سے بالا تر ہوکران کے نام پر ووٹ کنزر ویٹو پارٹی کو دیئے اور تیسری مرتبہ یورپین پارلیمنٹ کا رکن منتخب کرکے ریکارڈ قائم کر دیا اور لگتا ہے یہی نہیں اور قسمت کی دیوی سجاد کریم پر ہی نہیں ایشیائی اور بالالخصوص پاکستانی کمیونٹی پر بڑی مہربان ہو گئی ہے اور دنیا بھر کے مختلف اتحادی فورمز میں سے ایک عظیم مغربی فورم یورپین یونین کی پارلیمنٹ کی صدارت کے لئے امیدواروں میں سجاد کریم کو بھی ان کے گروپ نے نامزد کر دیا ہے۔ ای سی آر کی جانب سے اپنی نامزدگی پر سجاد کریم جو یورپی پارلیمنٹ ایتھیکس اینڈ سٹنڈرڈ کمیٹی کے چئیر مین جیسے ایک اہم عہدے پر فائز ہیں ، اپنے گروپ کے قانونی امور کے ترجمان ہیں نے اپنی یورپین پارلیمنٹ کی صدارت کے لئے اپنی نامزدگی کو ایک اعزاز قرار دیا کثیرالثقافت، کثیرالمذہب، متنوع سوچ و فکر کے اس عظیم ایوان کے سربراہ کے طور پر انتخاب کے لئے نامزد ہونا ہی بڑا خوش کن ہے اور کوئی یہ سمجھ لے کہ وہ لازمی طور اب منتخب ہو جائیں گے یہ صحیح نہیں ہو گا ابھی گروپس اپنے اپنے امید وار سامنے لا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ صدارت کا ہما کس کے سر پر اس نے بٹھانا ہے البتہ وہ سمجھتے ہیں کیونکہ ماضی میں ان کا گروپ ecr کا دوسرے دو بڑے گروپس alde اور epp کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا ہے اور ان کا اپنا بھی ان گروپس میں ایک مقام ہے اگر وہ اتحاد پر راضی ہو گئے تو انشا ء اللہ مشکل پیش نہیں آئے گی بہر الحال ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدارت کے لئے نامزد ہونا ایک اعزاز سہی مگر وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہیں اس الیکشن میں اراکین پارلیمنٹ نے یورپ کی مجموعی صورت حال کے تناظر میں اگر وسیع النظری رکھتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا تو یورپ کو فائدہ ہوگایہ ایک اچھا موقع ہے پھیلتی انتہا پسندی ، شدت پسندی ار رجعت پسندی کو شکست دے کر دنیا کو مثبت پیغام بھیجیں اگر خدا نخواستہ اراکین پارلیمنٹ نے اپنی پارٹیوں اور اپنے گروپس اپنی سوچ کو وسیع النظری اور مستقبل کی بہتری پر ترجیح اور فوقیت دی تو ایک بہت اچھا موقع ضائع کر دیا جائے گا اس کے علاوہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یورپ کے بچے بچے کو معلوم ہونا چاہیئے کہ تارک وطن کا ایک بیٹا ہو کر یورپین پارلیمنٹ کی صدارت کا امید وار ہو سکتا ہے تو انہیں بھی چاہیئے کہ اپنی صلاحیت کو بروئے کار لا کر آگے بڑھنے کے لئے تعلیم حاصل کریں علم اصل طاقت ہے یہ ان کا اپنا تجربہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے زندگی میں حاصل کیا ہے اس کی بنیاد ان کی تعلیم اور علم ہی ہے ۔ نارتھ ویسٹ سے تیسری مرتبہ رکن یورپین پارلیمنٹ منتخب ہونے والے سجاد حیدر کریم کا یورپین پارلیمنٹ کی صدارت کے لئے نامزد ہونے پر نارتھ ویسٹ ہی نہیں بر طانیہ بھر میں معلومات رکھنے والے احباب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور دنیا بھر اور پاکستان سے دانشوروں ، سیاست دانوں اور تجزیہ نگاروں کے پیغامات وصول ہو رہے ہیں ، اخبارات سرخیاں لگا رہے ہیں ۔ چینلز ان کے منتخب ہونے نہ ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر سجاد کریم یورپین پارلیمنٹ کے صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو یہ ان کے لئے ، ان کی کمیونٹی کے لئے ، ان کے آبائی ملک کے لئے اوران کے ساتھیوں کے لئے بہت بڑا اعزاز ہوگا۔