مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مشتعل بھارتی عوام کے حملے پاک بھارت امن دوستی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ..!!
لاہور... پاک انڈیا دوستی بس سروس پر بھارتی مشتعل عوام کے حملے اور اس سے قبل نئی دلّی میں پاکستانی ہائی کمیشن پر انتہا پسندوں کی یلغار کی وجہ سے دونوں ممالک میں نظرآنے والی غیر فطری محبت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے .. بھارتی فوج کے دو سابق سربراہوں، سفارت کاروں اور انٹیلی جنس سمیت اعلی فوجی افسروں نے وزیر اعظم من موہن کو مشورہ دیا ہے کہ آئندہ ماہ بھارتی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات نہ کریں۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسابق نیشنل سیکورٹی کونسل ایڈوائزر ستیش چندرا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کی مفاہمتی پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔ اس لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے کو روک دیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں ایک نئی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس میں پاکستان کو دہشت گردی کرنے پر قیمت ادا کرنا ہو گی۔ پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان امن اور دوستی کے خواہشمند بھی چند قدم پیچھے ہٹ گئے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر دونوں مملکوں کی سرحد پر منعقد مشترکہ پروگرام ملتوی کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے چند افراد پر مشتمل تنظیم پاک انڈیا پیپلز سارک نے چودہ اگست کو کھوکھراپار موناؤ سرحد پر مشترکہ جشن کا پروگرام بنایا تھا اور تجویز دی تھی کہ سرحد کی دونوں اطراف چوبیس اگست کو امن کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اپنی حکومت کے قیام کے بعد بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے انہیں مبارک باد کے لیے ٹیلیفون بھی کیا تھا۔ لیکن ماضی میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بھی جب بھارت سے تعلقات میں بہتری کی کوشش کی گئی تو، ان ہی دنوں ممبئی حملے اور قندھار میں بھارتی قونصل خانے پر حملے کے واقعات پیش آئے، جس کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور پیپلز پارٹی حکومت کو اپنے موقف میں تبدیلی لانی پڑی۔