مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ماحولیاتی آلودگی کے خوفناک حقائق
پاکستان سمیت دنیا بھر میں 5جون کو ماحولیاتی آلودگی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے خوفناک حقائق سے عوام کو آگاہ کرنا ہے۔ انسانی صحت کیلئے کھلی فضاء اور صاف ہوا میں سانس لینا بہت ضروری ہے ۔ لیکن اس ترقی یافتہ اور سائٹیفک دور میں انسان کو نہ صاف ہوا میسر ہے اور نہ ہی کھلی فضا۔ اس جدد دور میں انسان آلودہ زندگی گزار نے پر مجبور ہے۔ اس آلودہ زندگی سے انسان نہ صرف بے شمار بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے بلکہ اسے ایک فعال زندگی گزارنے کی بجائے ذہنی کوفت میں مبتلا ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے جو ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ کیمیائی طور پر تیار کی گئی اشیاء اور دیگر مختلف قسم کے کچرے کو جب ملایا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور اس سے نکلنے والی زہریلی گیس اور ذرات فضاء میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ ان سے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کینسر، پھیپھڑوں کے علاوہ گلے کی پیچیدہ بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی بڑی آبادی کو ڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس رہتی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان ممالک میں مختلف اقسام کی جسمانی اور ذہنی بیماریاں جنم لیں گی جو کسی بھی صحت مند معاشرے کیلئے مسائل کا انبار ہے۔ آلودگی جہاں خوبصورت ماحول کو خراب کرتی ہے وہی انسانی صحت پر بھی بے شمار مضر اثرات چھوڑتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق کچرے کے ڈھیروں سے بے شمار زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے ۔ بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک جو دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے جو اس ماحولیات آلودگی سے متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زہریلا مادہ خون میں جذب ہونے سے رحم مادر میں پرورش پانے والے بچوں کو مسائل پیش آ سکتے ہیں۔ جو بچوں کی ذہنی نشوونما کیلئے خطرہ ہیں۔ مسیا چوسنس انسٹیٹیو ٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ سٹیون ہبرٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سے دس برسوں کے اعدادو شمار سے ثابت ہوا ہے کہ فضائی آلودگی سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یو۔این۔آر کے ایک ذیلی ادارے کے تحقیقی سروے کرنیوالے ماہرین کی ٹیم کے ایک جائزے کے مطابق دنیا میں ہر سال تین ملین لوگ صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مر جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ فضائی آلودگی کے سبب پیدا ہونے والی تیزابی بارش کی وجہ سے پودوں ، جانوروں حتیٰ کہ انسان کی شاہکا ر تعمیرات مثلاً تاج محل آگرہ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرین ہاوس گیسوں (کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین ، نائٹرس آکسائیڈ، کلورو فلوروکاربز میں بالخصوص کلورو فلورو کاربز (CFCS)کے اخراج کی وجہ سے اوزون (Oznoe)کی حفاظتی تہہ جو کہ زمین پر سورج کی نقصان دہ شعاعوں کو پہنچنے سے روکتی ہے ،وہ ختم ہو رہی ہے۔ اوزون کی حفاظتی تہہ کے انسانی سرگرمیوں کے اثرات کے نتیجے میں تباہ ہونے سے مختلف تباہ کن بالا بنفشی شعاعوں کے زمین پر پہنچنے سے خوفناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض Carcinogenicشعاعیں انسانی خلیوں میں پائے جانے والے جینیاتی مادے یعنیDNAکو نقصان پہنچا کر کینسر جیسے موذی مرض کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے سے قطب پر برف کی چوٹیاں اور گلیشیر ز پگھل جائیں گے ۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق 2100ء تک سمندر کا لیول 9سے 100سینٹی میٹر تک بڑھ جائے گا ۔ اس سے ساحلی شہر ڈوب جائیں گے۔ (National Oceanic and Atmospheric Administration(NoAAجو کہ امریکہ کا ماحول سے متعلق ادارہ ہے، اس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قطبین کی منجد رمین میں کاربن کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر گرین ہارس گیسوں کے اخراج سے عالمی درجہ حرارت اس طرح بڑھتا رہا تو اس قطبین کی برف کے پگھلنے سے کاربن کے یہ ذخائر میتھیں کی صورت میں فضاء میں شامل ہو جائیں گے۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی اور عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ سڑکوں پر رواں دواں اڑاتی ہوئی گاڑیاں فضائی آلودگی میں اضافہ کا باعث ہیں۔ ہمارے ہاں روش چل پڑی ہے کہ ہر معاملے میں گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ان سڑکوں کے ارد گرد اور درمیان میں سبزہ اور ماحول دوست پودوں کی کمی کو پورا کرنے میں کوئی اپنا کردار ادا کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں گاڑیوں کی موزوں منٹیننس کا نہ ہونا بھی ماحول کی خرابی کا سبب ہے۔ بجلی کی پیداوار کیلئے استعمال کیے جانے والے ذرائع سے پہلے ہی موت کی جاب دھکیل رہے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی پیداوار کیلئے قدرتی ذرائع استعمال کیے جائیں تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی واقع ہو۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس حوالے سے بہتر سے بہتر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سندھ میں جھمبیر کے مقام پر ہوا کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کیلئے امریکی ادارے اوبیک کے تعاون سے منصوبہ پر کام کیا جا رہا ہے۔ اور پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گومل رام ڈیم کے ذریعے بجلی کے لئے غور کیا جا رہا ہے جو ماحول دوست کی کڑی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرہ ارض کے تمام مسائل اور مشکلات کا سب سے بڑا سبب یہاں رہنے والے انسان ہیں ۔ سڑکوں پر دھواں اڑاتی گاڑیاں ، کارخانوں کی دھواں اگلتی چمنیاں ، پلانٹس سے خارج ہوتا زہریلا پانی گرین ہاؤس گیسوں کے خاتمے کی وجہ سے بن رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر جنگلات کا کٹاؤ کرہ ارض کے تواز ن میں بگاڑ کا باعث ہے۔ جبکہ یہی درخت فضا میں موجود کاربن گیسوں کو دوبارہ زندگی بخش آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچانے کیلئے مضبوط بنیادوں پر کام کرنا چاہیے اور ترقیاتی منصوبے تشکیل دیتے وقت قدرتی ماحول کی بقاء کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ ہر شخص کو اپنی سہولت کے مطابق ایک پودا لگائے جو صدقہ جاریہ کے ساتھ ساتھ فضائی خوشگواری کا ذریعہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی سطح پر میڈیا اور دیگر ذرائع کے مثبت استعمال سے ماحول کی حفاظت کا احساس اُجاگر کرنے کیلئے عوامی شعور بیدار کیا جائے۔ اگر ہم نے ماحول کو آلودگی سے بچانے میں کوئی کوتاہی برتی یا غفلت اور غیرذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا تو مستقبل میں اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ (سحرش عدنان چوہدری)