مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مظالم نا منظور ، جموں و کشمیر بھارت نہیں ، پاکستان کا حصہ ہیں ، علی گیلانی
سرینگر:بزرگ حریت رہنما سید علی گیلا نی نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ تحریک حریت کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران علی گیلانی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں 10ہزار افراد کی دوران حراست گمشدگی اور 6ہزار 7سو سے زائد گمنام قبروں کی دریافت کی تحقیقات کرائیں ۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر بھارت کا حصہ ہے نہ رہے گا ، مزیدمظالم برداشت نہیں کرسکتے ، جموں وکشمیر صرف پاکستان کا حصہ بنے گا ، کشمیریوں کو حالیہ نام نہاد پارلیمانی انتخابات کی طرح آئندہ اسمبلی انتخابات کا بھی مکمل بائیکاٹ کرنا چا ہئے ۔انہوں نے کہاکہ 80 فیصد کشمیریوں نے حالیہ پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی خیرات نہیں مانگ رہے ،ہمارا ایک پس منظر ہے جس کی بنیاد پر ہندوستان سے علیحدگی چاہتے ہیں، بزرگ رہنمانے بھارت میں بی جے پی کی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ کانگر یس اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رْخ ہیں ، بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے سے کسی کو گھبر انے کی ضرورت نہیں، فوجی تسلط سے آزادی ہمار ا مشن ہے ، شہداء کا خون ضرور رنگ لائے گا ، تحریک آزادی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، سیمینار کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لاپتہ کئے گئے کشمیریوں کے اعدادو شمار موجود تھے ۔