مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مظالم نا منظور ، جموں و کشمیر بھارت نہیں ، پاکستان کا حصہ ہیں ، علی گیلانی
سرینگر:بزرگ حریت رہنما سید علی گیلا نی نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ تحریک حریت کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران علی گیلانی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں 10ہزار افراد کی دوران حراست گمشدگی اور 6ہزار 7سو سے زائد گمنام قبروں کی دریافت کی تحقیقات کرائیں ۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر بھارت کا حصہ ہے نہ رہے گا ، مزیدمظالم برداشت نہیں کرسکتے ، جموں وکشمیر صرف پاکستان کا حصہ بنے گا ، کشمیریوں کو حالیہ نام نہاد پارلیمانی انتخابات کی طرح آئندہ اسمبلی انتخابات کا بھی مکمل بائیکاٹ کرنا چا ہئے ۔انہوں نے کہاکہ 80 فیصد کشمیریوں نے حالیہ پارلیمانی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی خیرات نہیں مانگ رہے ،ہمارا ایک پس منظر ہے جس کی بنیاد پر ہندوستان سے علیحدگی چاہتے ہیں، بزرگ رہنمانے بھارت میں بی جے پی کی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ کانگر یس اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رْخ ہیں ، بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے سے کسی کو گھبر انے کی ضرورت نہیں، فوجی تسلط سے آزادی ہمار ا مشن ہے ، شہداء کا خون ضرور رنگ لائے گا ، تحریک آزادی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، سیمینار کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لاپتہ کئے گئے کشمیریوں کے اعدادو شمار موجود تھے ۔