مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آزاد کشمیر جیسی بد ترین حکومت پہلے کبھی نہیں دیکھی،فاروق حیدر
برنالہ :پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کے صدر راجہ فارو ق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں اس سے قبل اتنی بری حکومت نہیں دیکھی جس کیلئے شرم و حیا، آئین و قانون ، میرٹ و انصاف کوئی معنی نہیں رکھتے ، موجودہ اسمبلی میں بعض ایسے اراکین اسمبلی بھی موجود ہیں جن کے منہ کو خون لگ چکا ہے ان کا اسمبلی سے اخراج انتہائی ضروری ہے ،آزاد خطہ کے حکمرانوں نے ریاستی اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ، آزاد کشمیر کے مسائل کا واحد حل صاف وشفاف الیکشن کا انعقاد ہے تاکہ عوام اپنی مرضی سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ ہم نے آج سے انتخابات کا بگل بجا دیا ہے اور یہ کرپٹ حکومت چند دن کی مہمان ہے ،ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے حلقہ برنالہ میں پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد جموں وکشمیر کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پرسرکردہ شخصیات نے اپنے سیکڑوں خاندانوں سمیت پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس سے مستعفی ہو کر مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔جلسہ سے راجہ فاروق حیدر خان کے علاوہ ممبر قانون ساز اسمبلی سیّد شوکت علی شاہ، گجرات سے ایم پی اے نوابزادہ حیدر مہدی،سابق وزیرچوہدری رخسار احمد،کرنل(ر) عبدالغنی نورودیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل کڈھالہ کے مقام پرراجہ فاروق حیدر خان اور دیگر مسلم لیگی قائدین کا شاندار استقبال کیا گیا،اس موقع پر آتش بازی کا شاندار مظاہر کیا گیا، قائدین کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور معزز مہمانوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور سیکڑوں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں پرمشتمل دس کلو میٹرسے زائد لمبے جلوس کی شکل میں قائدین کو جلسہ گاہ تک لایا گیا۔