مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کونسل و یورپی انتخابات میں کشمیر دوستوں کا جیتنا تحریک آزادی کیلئے مثبت پیغام لایا ہے: راجہ نجابت
مانچسٹر...جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کے عہدیداروں کی طرف سے برطانیہ کے نو منتخب یورپی ممبران پارلیمنٹ اور کونسلروں کو مبارکباد اور ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو یورپی پارلیمنٹ میں اٹھانے اور مقامی کونسلروں میں اجاگر کرنے کا مطالبہ برطانیہ بھر میں کشمیر دوست اور تحریک کے متعدد عہدیداروں کا منتخب ہونا تحریک آزادی کیلئے مثبت پیغام لایا ہے،برطانوی اور یورپی ایوانوں میں کشمیریوں کی آواز بلند کرنے کیلئے نو منتخب ممبران پارلیمنٹ او رکونسلروں کی یقین دہانی۔ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت یورپ کے عہدیداروں چیئرمین راجہ نجابت حسین،سرپرست سردار عبدالرحمان خان،وائس چیئرمین امجد حسین مغل،سیکرٹری جنرل محمد اعظم،نارتھ ویسٹ کے چیئرمین چوہدری محمد اکرم،خواتین رہنمائوں شہناز صدیق،صبیحہ خان،عطرت علی،کونسلر حلیم خالد،شبانہ عباسی،رعنا شمع نذیر اور دیگر رہنمائوں نے برطانیہ بھر میں یورپی پارلیمنٹ کے ان تمام ممبران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جنہوں نے گزشتہ سالوں میں مسئلہ کشمیر پر ہماری معاونت کی ہے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ وہ اب پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک موثر بحث اور ایسا لائحہ عمل طے کریں گے جس کی معاونت سے پاک بھارت حکومتیں مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر توجہ دیں گے، تحریکی عہدیداروں نے خصوصی طور پر کنزرویٹو گروپ لیڈر سید کمال،لیبر گروپ لیڈر گلینس ویلموٹ ٹموتھی کرک ہوپ ایم ای پی،پاکستانی نژاد ممبران سجاد کریم ایم ای پی،راجہ افضل خان ایم ای پی اور امجد بشیر کے انتخابات کا خیر مقدم کیا ہے اور ان ممبران پارلیمنٹ کی ماضی کی کاوشوں اور مستقبل کے حوالے سے بھی کشمیریوں کی حمایت کی توقع کی ہے،تحریکی عہدیداروں نے بریڈ فورڈ،مانچسٹر،لیڈز،شفیلڈ،ہالی فیکس سے بھی رابطے اور ملاقاتیں کی ہیں جبکہ پہلے مرحلے میں نارتھ ویسٹ سے لیبر پارٹی کے نو منتخب یورپی پارلیمنٹ افضل خان سے ایک وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور انہیں جہاں انتخابات پر مبارکباد دی وہاں تحریک کے کام کا لائحہ عمل بھی طے کیا اس ملاقات میں مانچسٹر کے لارڈ میئر اور نو منتخب کونسلر نعبم الحسن،تحریک کی نارتھ ویسٹ شعبہ خواتین کی چیئر پرسن کونسلر یاسمین ڈار،مقامی کونسلروں سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے ممبر یورپی پارلیمنٹ افضل خان نے اس موقع پر یقین دلایا کہ وہ چونکہ خود بھی تحریک آزادی کشمیر کی اس سفارتی جدوجہد میں گزشتہ بیس سال سے متحرک ہیں اور تحریک کے رہنما کی حیثیت سے بھی مسئلہ کشمیر کو اپنی ترجیح کے طور پر اپنے گروپ اور پارلیمنٹ می ںاٹھائیں گے،انہوں نے کہا کہ جہاں نارتھ ویسٹ کے عوام نے اور لیبر پارٹی کے ممبران نے انکے انتخابات میں معاونت کی ہے وہاں تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ تمام لوگوں اور خصوصاً کشمیری کمیونٹی نے نارتھ ویسٹ میں لیبر پارٹی کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور لیبر پارٹی کشمیریوں کو مایوس نہیں کریگی، انہوں نے راجہ نجابت حسین اور انکی یورپی ٹیم کو یقین دلایا کہ وہ لیبر پارٹی گروپ لیڈر گلینس ویلموٹ کے ساتھ مل کر تحریک کے ایجنڈے اور پروگراموں کو آگے بڑھانے میں بھرپور تعاون کریں کے اس سے قبل تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین اور سردار عبدالرحمان خان نے مختلف ممبران پارلیمنٹ کو ٹیلی فون پر انکے دوبارہ انتخابات جبکہ برطانیہ کی یورپی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے نو منتخب یورپی ممبر امجد بشیر جن کا تعلق بریڈ فورڈ سے ہے رابطہ کر کے انہیں اپنی پارٹی کے اندر مسئلہ کشمیر پر کام کرنے کا بھی مطالبہ کیا جنہوں نے دونوں رہنمائوں کو یقین دلایا کہ وہ ماضی کی طرح تحریکی رہنمائوں سے تعاون جاری رکھیں گے اور بہت جلد کشمیری رہنمائوں سے برسلز میں بھی ملاقاتیں کریں گے اور اپنے گروپ کے ارکان سے بھی تعاون دلائیں گے،تحریکی رہنمائوں نے مانچسٹر میں افضل خان ایم ای پی سمیت کونسلر نعیم الحسن،کونسلر یاسمین ڈار کے اعزاز میں اعشائیہ دیا جس کی صدارت تحریک کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے کی جبکہ وائس چیئرمین امجد حسین مغل،سردار عبدالرحمان خان اور شہناز صدیق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح تحریک آزادی کشمیر کو سفارتی محاذ پر اجاگر کرنے کیلئے راجہ نجابت حسین اورانکے ساتھیوں نے گزشتہ تیس سال میں ہر ایوان اور سیاسی جماعت کے ارکان تک پہنچایا ہے اور خصوصی طور پر برطانوی اور یورپی پارلیمنٹس میں کشمیر گروپوں کے قیام اور انکے ساتھ ملکر حکومتی ایوانوں تک مسئلہ کشمیر کو پہنچایا ہے اسی طرح مستقبل میں بھی ہم بلا امتیاذ سیاسی وابستگی تمام ایوانوں میں تحریک جاری رکھیں گے،مانچسٹر کے لارڈ میئر کونسلر نعیم الحسن،کونسلر شوکت علی اورکونسلر یاسمین ڈار نے بھی کہا کہ وہ تحریک حق خود ارادیت کے ساتھ مسلسل ہو سطح پر تعاون کر رہے ہیں اور آئندہ بھی جاری رکھیں گے راجہ نجابت حسین نہیں تمام رہنمائوں کو مستقبل کے پروگراموں سے بھی آگاہ کیا انہوں نے تحریک کے متعدد عہدیداروں خصوصاً کونسلر رضوانہ جمیل،کونسلر یاسمین ڈار،کونسلر اختر زمان،کونسلر ناظم اعظم،کونسلر تیمورطارق،کونسلر شعیب اختر،کونسلر عقیل سلامت،سابق لارڈ میئر بریڈ فورڈ کونسلر نویدہ اکرام،کونسلر ربنواز اکبر اور کونسلر محمد ایوب آف بولٹن کے انتخابات کو تحریک کے لئے نیک فال قرار دیا اور کہا کہ ان لوگوں نے جس طرح تحریک کے ساتھ گزشتہ چند سالوں میں ملکر کام کیا اور اپنے ممبران پارلیمنٹ کو ہماری معاونت کیلئے آمادہ کیا ہے اس سے تحریک کے کام کو بڑی تقویت ملی ہے اور ہم دیگر دوستوں خصوصاً کونسلروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی تحریک کے حق خود ارادیت یورپ کا حصہ بن کر ہماری معاونت کریں کیونکہ ہم نہ تو کسی ملک،آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے سیاستدانوں اور مخصوص نظریے کا پر چار کرتے ہیں اور نہ ہی لیڈروں کی شخصیت مفادات کیلئے کام کر رہے ہیں بلکہ بلا امتیاذ سیاسی وابستگی کشمیر عوام کے حقوق،ریاست جموں کشمیر کی آزادی اور برطانیہ میں ریاستی اور پاکستانی نژاد عوام کی بھلائی کیلئے تمام سیاسی مکاتب فکر خصوصاً برطانوی سیاسی رہنمائوں اور جماعتوں کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں برطانوی اور یورپی سیاستدان ایک موثر کردار ادا کر سکتے ہیں انہوں نے تحریک کے اندر خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت اور کشمیر پر بحث کے حوالے سے ممبران پارلیمنٹ کا بھی شکریہ ادا کیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ جلد ہی برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروانے کیلئے بحث ہو گی جس میں ساری کوششیں تحریکی عہدیداران اور برطانوی کشمیریوں نے کی ہیں۔ (بیورو رپورٹ: فیاض بشیر)